عزیز ہم وطنو: زندہ رہنا ہے تو پولیس سے بچ کر رہیں


ساہیوال واقعہ ہوا تو کسی نے پولیس پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اگر سڑک پر چند افراد سڑک روکے کھڑے ہوں تو دل سے بے اختیار دعا نکلتی ہے کہ اللہ کرے ڈاکو ہوں۔ ساہیوال واقعے کے اگلے دن ہی کراچی میں پولیس نے موٹر سائیکل پر جاتے میاں بیوی کو فائرنگ کا نشانہ بنا ڈالا۔ میاں کے سر میں گولی لگی اور پانچ ماہ کی حاملہ بیوی کی پسلیوں میں اور اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال داخل کیا گیا۔ اور اب پتہ چلا ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی کی میڈیکل کی اکیس برس کی ہنستی مسکراتی طالبہ نمرہ بیگ بھی ایک پولیس مقابلے کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔

ساہیوال واقعے کے بعد جس طرح بار بار بیانات اور پھر شواہد تبدیل کیے گئے، ویسا ہی معاملہ یہاں بھی درپیش ہے۔ جس اخباری ادارے کو دیکھیں، پولیس کا الگ موقف بیان کیا گیا ہے۔ جو سب سے زیادہ قابل یقین ہے، وہ کچھ یوں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سخی حسن کے قریب دو ملزمان کو واردات کرتے دیکھا گیا، ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی اور فرار ہوگئے، ملزمان کے تعاقب پر انڈہ موڑ پر ڈگری کالج کے قریب دوبارہ مقابلہ ہوا۔ انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ جواب میں پولیس نے فائرنگ شروع کر دی۔ وہاں سے رکشے میں بیٹھ کر گھر جاتی ہوئی نمرہ کے سر میں گولی لگی۔ پولیس کا دعوی ہے کہ گولی ڈاکوؤں کی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کہتی ہے کہ گولی چھوٹے ہتھیار سے چلائی گئی اور پولیس کا دعوی ہے کہ اس کے پاس 9 ایم ایم، ایس ایم جی تھی جب کہ ملزمان کے پاس ٹی ٹی پستول تھی۔ ساہیوال کے بعد اب ایسے معاملات میں پوسٹ مارٹم اور فارینزک کا بھی کیا بھروسا کریں۔

ایک دوسرا منظر یہ بتایا جا رہا ہے کہ ”پولیس کی جانب سے ایک عینی شاہد کا ویڈیو بیان جاری کیا گیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے کارکن اور ذمہ دار ہیں، انھوں نے دیکھا کہ موٹر سائیکل سوار 2 لڑکے اسنیچنگ کر رہے تھے کہ لڑکی چیخی تو انھوں نے اس پر فائر کیا اس دوران شارع نور جہاں تھانے کے 2 جوان موقع پر پہنچ گئے اور انھوں نے ملزمان پر فائرنگ کی جس کے باعث وہ زخمی ہو کرگرگئے اور خون میں لت پت ہوگئے بعد ازاں پولیس موبائل بھی موقع پر پہنچ گئی اور دونوں ڈاکوؤں کو موبائل میں ڈال کراسپتال لے گئے جبکہ انھوں نے زخمی بچی کو بذریعہ رکشہ نارتھ کراچی میں واقعے ایوان صنعت تجارت اسپتال پہنچوایا۔ “

nimrah nimra baig
نمرہ بیگ

نوٹ کریں یہاں لڑکی راہگیر نہیں ہے بلکہ یہ کہانی فٹ کی جا رہی ہے کہ ڈاکو اسی لڑکی سے موبائل یا پرس وغیرہ چھین رہے تھے، اس نے شور مچایا تو ڈاکوؤں نے اسے گولی مار دی۔ دوسری طرف اہل خانہ نے کہا کہ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ گولی پولیس کی لگی یا ڈاکوؤں کی، موبائل میں پولیس والوں کو کہتے سنا کہ غلطی ہوگئی۔

اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ پولیس کا طریقہ کار کیا ہے۔ اسے کیا ہدایات دی گئی ہیں۔ کیا کہیں ڈکیتی کی واردات ہو رہی ہو تو وہ اپنی سب مشین گن سے اندھا دھند گولیاں چلانے لگے گی؟ ایسا موٹر سائیکل سوار میاں بیوی کے کیس میں ہوا تھا۔ ایسا ہی نمرہ بیگ کے کیس میں ہوا ہے۔ کیا پولیس یہ نہیں دیکھتی کہ ارد گرد عام شہری موجود ہیں اور ڈاکو یا پولیس کی گولی ان کی جان لے سکتی ہے؟ کیا فائرنگ کا یہ طریقہ افسران کے حکم کے مطابق ہے یا پھر نچلے درجے کے اہلکار حکم کی پروا نہیں کر رہے ہیں۔ یا پھر ان کی تربیت میں کمی رہ گئی ہے؟

قانون کا ایک اصول یہ بتایا جاتا ہے کہ خواہ سو مجرم سزا سے بچ جائیں، لیکن کسی ایک بے گناہ کو سزا نہیں ہونی چاہیے۔ یہاں پولیس یہ اصول لاگو کر رہی ہے کہ خواہ سو بے گناہ مارے جائیں، ایک مجرم سزا سے نہ بچ سکے۔ عزیز ہم وطنو، چند برس پہلے ہم دہشت گردوں سے بچ کر رہا کرتے تھے، اب زندگی چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ ہم گشت میں مصروف پولیس سے بچ کر رہا کریں۔

پولیس مقابلے کے دوران میڈیکل کی طالبہ گولی لگنے سے ہلاک

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar