نازعات کو ختم کرنے کے متبادل طریقے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اے۔ ڈی۔ آر۔ اور آپ کا اختیار

کثرت استعمال سے اختیار کا یہ اظہار اپنی اہمیت اور اپنے صحیح معانی سے خاصی حد تک محروم ہو چکا ہے۔ تیسری قسط میں ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اصل اے۔ ڈی۔ آر۔ کیا ہے۔ اور یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ اگلی قسط میں اس بارے میں بات کریں گے کہ اپنی زندگی کے مسائل کے حوالے سے آپ کے اختیار میں کیا کچھ ہے۔

حقیقت یہ ہے اکثر ہم اپنی رضا کو وہ اہمیت نہیں دیتے جو دینی چاہیے۔ معاشرے میں بہت سے لوگ اپنے اختیار، اپنی مرضی اور اپنی رضا کی استطاعت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ وہ ساری زندگی دوسروں کی رائے اور ان کی سوچ کے دباؤ میں بسسر کر دیتے ہیں۔ جب بھی انہیں زندگی میں کسی اہم مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ اپنے آپ کو روایتی وسائل کے شکنجے میں جکڑا پاتے ہیں۔ وہ فرسودہ نظام کی پیش کردہ آپشنسز کے سامنے اپنے آپ کو بے بس سمجھتے ہیں۔ اور جب وہ ایک مرتبہ روایتی حل کے چکر میں پھنس جاتے ہیں تو اس دلدل سے نکلنے کی جتنی کوشش کریں اتنا ہی اس میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنی سوچ اور سمجھ سے عقدہ کشائی کی بجائے پہلے سے بنے بنائے پلندوں کو ٹٹول کر ان میں حل تلاش کرتے ہیں۔ ان کی سوچ اپنی سوچ نہیں رہتی۔

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

بسا اوقات ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگی ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ ہم جتنا بھی چاہیں اس زندگی کو ہمارے لئے کوئی اور بسر نہیں کر سکتا۔ زندگی کی کامیابی یا ناکامی ان فیصلوں پر منحصر ہوتی ہے جن کا ایک لامتناہی سلسسلہ ہوش سنبھالنے سے لے کر آخری سانس تک برقرار رہتا ہے۔ یہ فیصلے ہماری حس انتخاب پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہماری زندگی کا کوئی بھی تنازعہ کیوں نہ ہو اس کے حل کے لئے ہمارے پاس ہمیشہ ایک سے زیادہ آپشنز ہوتی ہیں۔ ہم سے چناؤ اور انتخاب کا حق کوئی نہیں چھین سکتا۔

لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہر آپشن ایک سی نہیں ہوتی۔ کچھ تو اتنی ناقابل قبول ہوتی ہیں کہ انسان ان پر موت کو ترجیح دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ مگرآج ہم اتنی امید رکھنے میں ضرورحق بجانب ہوں گے کہ اگر آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہیں تو کم از کم اس وقت تو آپ کو زندگی اور موت کا مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ ورنہ آپ کسی اور کارروائی میں مصروف ہوتے۔

بہر حال آپ جس کسی جھگڑے سے بھی دو چار ہیں اس کے حل کے لئے آپ اپنے حق اختیار کو محدود نہ کریں۔ آپ کے اختیار میں بہت کچھ ہے۔ ، چار متبادل آپشنز ہم آپ کو ابھی بتا ئے دیتے ہیں۔ تفصیل سے بات آنے والی اقساط میں ہو گی۔

پہلا کام جو آپ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ کچھ نہ کریں۔

جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں۔

لیکن جہاں اس کمال کرنے کے کچھ فائدے ہیں وہاں یہ کمال خطرے سے خالی بھی نہیں ہے۔ اکثر گھریلو جھگڑوں میں یہ بات شاید آپ کے اپنے تجربے میں آئی ہوگی کہ کوئی بات آپ کو بری لگی اور آپ نے سوچا کہ بہتر ہے اس وقت خاموشی اختیار کر لی جائے۔ صبر کا گھونٹ پی لیا جائے اور اس معاملے کو پھر موقع محل دیکھ کر چھیڑا جائے۔ اس ناعملی میں کوئی مضائقہ نہیں اگر یہ خاموشی ایک عادت نہ بن جائے۔ اس صورت میں یہ خاموشی اس بات کا عندیہ بن جاتی ہے کہ آپ کے ساتھ جو سلوک بھی ہو رہا ہے وہ ٹھیک ہے۔ ایک ناقابل قبول صورت حال پر آپ نے مصلحت کے تقاضے میں جو خاموشی اختیار کی تھی اب وہ مصلحت کی بجائے خوف بن جاتی ہے۔ ادھرآپ اس خوف سے کہ کہیں بات مزید نہ بگڑ جائے اپنا رد عمل ظاہر نہیں کرتے اور ادھر

احباب خوش ہوئے خلش درد مٹ گئ

کس کو خبر کہ اب وہ دل چارہ گر میں ہے

آپ بات دل میں رکھتے ہیں۔ اندر ہی اندر اپنا خون جلاتے ہیں اور آپ کے مد مقابل کوئی بھی ہوں، وہ آپ کی خاموشی کونیم نہیں بلکہ مکمل رضا سمجھتے ہیں۔ انہیں یوں لگتا ہے جیسے ان کا یہ رویہ آپ کے لئے قابل برداشت ہی نہں شاید قابل ترجیح بھی ہے۔ دوسرے فریق کے لئے اپنا رویہ بدلنے کا کوئی بھی محرک نہیں رہتا۔ آپ کی بے عملی سے صورت حال ایک عارضی سمجھوتے کی بجائے آپ کے لئے ایک مستقل عذاب میں بدل جاتی ہے۔ لیکن دوسری جانب سے ایسی بے اعتنائی کا مظاہرہ ہوتا ہے جس میں لاعلمی کا حصہ کم اور بلا اعلان کیے فتح کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ فریق ثانی یہی مناسب سمجھتا ہے کہ

وہ اپنی خو نہ بدلیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں۔

دوسرا اختیار جو آپ کے ہاتھوں میں ہے وہ یہ کہ آپ براہ راست دوسرے فریق کا سامنا کریں اور ان سے گفتگو کرکے کم از کم یہ گوش گزار کر دیں کہ ان کی حرکت، چاہے وہ معصومیت، غلط فہمی یا لاعلمی میں ہی کیوں نہ کی گئی ہو آپ کے لئے تکلیف دہ ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ

کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری

جھگڑے کی شروعات میں ایسا عندیہ دینا آئندہ پیش آنے والی مصیبتوں کا بڑی حد تک مداوا کر سکتا ہے۔ اگرچہ بات ناگوار ضرور لگتی ہے مگر آپ آئندہ پیش آنے والی بہت سی پیچیدگئیوں سے بچ جاتے ہیں۔

لیکن اس طریق کار کے انتخاب کی راہ بھی خطرات کے کانٹوں سے بھری ہے۔ یہ احساس لازمی ہے کہ

انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ

میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

خطرہ یہ ہے کہ جو بات آپ کو بری لگی اس کی نشان دہی کو الزام تراشی سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ ان حالات میں بات کے بگڑنے کا خطرہ اتنا ہی ہے جتنا بات کے سنورنے کا۔ گھروں میں، اور کام پر، بعض اوقات تشدد کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔ ایسے میں بولنے سے پہلے تولنے کا خیال برا نہیں۔

تیسرا طریق کار جو آپ چن سکتے ہیں وہ یہ کہ آپ قانونی چارہ جوئی اور باضابطہ کارروائی کے اداروں مثلا عدالتوں، حقوق انسانی کمیشن اورپولیس سے رابطہ کریں۔ یہ سب سے زیادہ مقبول تو نہیں کہنا چاہیے لیکن سب سے زیادہ استعمال میں آنے والا طریق کار ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے کر لیں کہ پاکستانی عدالتوں میں صرف زیر التوا کیسز کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ جو کیسز نپٹا دیے جاتے ہیں ان کا شمار الگ ہے۔ ان اداروں میں بے شک دیر سے سہی لیکن حتمی طور پر ہاں یا نہ میں ہار یا جیت کا دو ٹوک فیصلہ مل جاتا ہے۔ قباحت اس طریق کار کی یہ ہے کہ فیصلہ آپ کی حمایت میں ہو سکتا ہے لیکن آپ کے خلاف بھی۔ اس طریق کار میں ہارنے والا تو ہارتا ہی ہے، جیتنے والا بھی منفی نتائج سے دوچار ہوتا ہے۔ اکثر جیتنے والوں کا قانونی خرچوں میں دیوالیہ پٹ جاتا ہے۔ رشتے الگ خراب ہوتے ہیں۔

چوتھا اختیار آپ کا یہ ہے کہ آپ اپنے مدمقابل کو دشمن کی بجائے اپنا پارٹنر بنا کر مسئلے کا حل ایسے ڈھونڈیں جس میں اس حل کی تشکیل میں دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی مدد کر سکیں اور ایسی شرائط پر معاہدہ کریں جن میں دونوں کے مفاد کا خاطر خواہ تحظ ہو سکے۔ یہ طریق کار اے۔ ڈی۔ آر۔ یا الٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولوشن یعنی تنازعات کا متبادل حل کہلاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ فیصلہ آپ پر نافذ نہیں کیا جاتا بلکہ آپ ایسے معاہدے پر پہنچتے ہیں جس کی تشکیل میں دونوں فریق اہم کردار ادا کرتے ہے۔ جس میں ان کی اپنی رضا شامل ہوتی ہے۔ ایسی رضا جو آپ کے مخالف کے لئے بھی قابل قبول ہو۔

لیکن اس طریق کار کی کوتاہی یہ ہے کہ یہ ہر جھگڑا حل کرنے کے لئے استعمال نہیں ہو سکتا۔ کچھ تنازعات کی نوعیت اتنی سنگین ہوتی ہے کہ ان کے حل کے لئے باضابطہ ادارے ہی مناسب ہوتے ہیں۔ اور پھراگر دونوں میں سے ایک فریق ضد پکڑ لے کہ اس نے تعاون نہیں کرنا تو ثالثی یا میڈی ایشن کی کامیابی کا امکان کم کیا ختم ہی ہو جاتا ہے۔

اگلی قسطوں میں ہم ایک ایک کر کے ہر ممکن طریق کا ر کی تفصیل بیان کریں گے جن کا اطلاق آپ اپنے اس تنازعے پر کر سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ نے پہلی قسط میں سوچا تھا اور بعد میں آنے والی قسطوں میں اس تحریر کو جاری رکھا۔ آج آپ اس تحریر میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں اور اپنے آپ کو نوٹ لکھ سکتے ہیں کہ آپ کے تنازعے کے سلسلے میں مندرجہ بالا طرائق کار میں آپ کے اختیار میں کیا کچھ ہے۔

لیکن ایک اختیار جس کوآپ نے ہمیشہ مد نظر رکھنا ہے وہ یہ کہ تنازعے کے اختتام کو پہنچنے کے بعد آپ کس رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کوئی بھی تنازعہ مستقل نہیں ہوتا۔ اچھا یا برا، جلد یا بدیر، وہ اپنے اختتام کو ضرور پہنچتا ہے۔ اگر آپ کا اپنا مصمم ارادہ تنازعے کا منصفانہ حل تلاش کرنا ہے، اگر انصاف، ایمانداری اور عدل گستری آپ کا مستحکم معیار ہے، تو آپ جو بھی فیصلہ کریں گے، وہ فیصلہ غلط ہو ہی نہیں سکتا۔ اس معیار کے ساتھ آپ لکیر کے فقیر اور نظام کی فرسودگی کے اسیر نہیں رہتے۔ آپ کا یقین اور ردعمل اس تنازعے کا منفی اثر آپ پر نہیں ہونے دیتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •