راولپنڈی میں بسنت


آج راولپنڈی میں بسنت ہے۔ ایک تو بسنت اوپر سے جمعہ، سڑکوں پر رش کم ہے۔ اس کے باوجود دفتر سے گھر آتے ہوئے گاڑی کافی احتیاط سے چلانا پڑی کہ مبادا کٹی پتنگوں کے پیچھے بھاگتے بچوں اور جوانوں سے ٹکر نہ ہو جائے جو تیز رفتار گاڑیوں سے بے پرواہ اسلام آباد ایکسپریس وے کراس کرتے پھر رہے تھے۔

پارٹی پرچموں کے رنگ کی پتنگیں بھی نظر آئیں۔ ایک جگہ پتنگ لوٹنے والے بہت سے خوش باش لوگوں کا رش دیکھ کر میں نے گاڑی ایک سائیڈ پر روک دی اور گاڑی سے باہر ا گیا۔ یہ لوگ بسنت سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اپنی پارٹی کے پرچم والے پتنگ اڑتے دیکھ کر نعرے لگا رہے تھے۔

شروع میں یہ نعرے زیادہ تر زندہ باد قسم کے تھے جن میں اپنے اپنے لیڈر کا نام لیا جا رہا تھا۔ یہ تماشا دیکھنے والوں میں سے چند ایک مخالف سیاسی پارٹی کے پرچم کے رنگ والی پتنگوں کو کٹتے اور نیچے آتے دیکھ کر تالیاں بجاتے اور ان کو لوٹنے دوڑ پڑتے۔ کافی دلچسپ منظر تھا جس نے تھوڑی دیر کے لئے مجھے ارد گرد سے بے نیاز کر دیا اور میں اس منظر میں کھو گیا۔ اس منظر میں رنگ تھے، لوٹنے کا جنون تھا، مخالف کی پتنگ کٹنے سے ملنے والی خوشی تھی، اور ہر نئی پتنگ کو کٹتے دیکھنے سے ایک نشہ سا طاری ہوتا تھا۔ یہ نشہ سرمست نہ کرتا بلکہ رگ رگ میں جیسے پارہ سا بھر دیتا تھا۔ آنکھوں میں چمک ابھرتی، آستینیں اڑسے ہوئے بازو اٹھتے، منہ پر رکھتے اور بکرے بلاتے ہوئے ”بو کاٹا“ کے نعرے بلند ہوتے۔

اس مبہوت کن منظر میں تھوڑی دیر کھویا رہا۔ ہوش اس وقت آیا جب ارد گرد اٹھنے والی آوازیں بدلنا شروع ہو گئیں۔ ابتدا میں سنائی دینے والے صرف زندہ باد کے نعروں میں اب مردہ باد کے آوازے بھی شامل ہو گئے۔ اڑتی پتنگوں کی تعداد جیسے کم ہو گئی اور کٹ کر نیچے آنے والی پتنگوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ لوٹی گئی پتنگوں کے ڈھیر بڑھتے گئے۔ ہر لوٹنے والے کے ہاتھوں میں درجنوں پتنگیں نظر آ رہی تھیں۔ اس کے باوجود اس ”مال غنیمت“ کی نگرانی پر کسی ساتھی کو بٹھا کر وہ مسلسل کٹ کر نیچے آتی پتنگوں کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔

ہر پرچم کے رنگ کی پتنگ کٹ کر نیچے آ رہی تھی۔ ہر نیچے آتی پتنگ کو دیکھ کر زندہ باد، مردہ باد کی آوازیں اٹھتیں، ان آوازوں کے ابھرنے سے فضا میں غصے اور انتقام کی بو بھی پھیل رہی تھی۔ حالانکہ ہم ایک کھلی جگہ پر کھڑے تھے پر جیسے سانس لینے میں دشواری شروع ہو گئی تھی۔ اس دوران مختصر وقفوں سے کٹی پتنگوں کے ڈھیروں میں سے کسی ایک پر ایک اور پتنگ کا اضافہ ہو جاتا تھا۔

فضا میں غصے اور انتقام کی بو سے بیزار اور کسی قدر خوف ذدہ ہو کر میں واپسی کی غرض سے گاڑی کی طرف بڑھا۔ گاڑی کے قریب پہنچا ہی تھا کہ پھر بو کاٹا کے فلک شگاف نعرے بلند ہوئے۔ آسمان کی طرف دیکھا تو پارٹی پرچموں کے رنگ والے کئی پتنگ کٹ کر نیچے آ رہے تھے۔ سب سے اوپر خاکی رنگ کا ایک گُڈا پیچا لگنے یا ڈور کٹنے سے بے خوف رنگ برنگی پتنگوں کے بیچ اڑ رہا تھا۔ سانس لینے کی غرض سے میں گاڑی میں بیٹھ گیا اور شیشے اوپر کر کے اے سی آن کر دیا

Facebook Comments HS