میری امی، پیاری امی
تو آپ نے منہ موڑ ہی لیا، لبیک کہہ ہی دیا اپنے مالک کے حکم پہ، اپنی اولاد کو روتا بلکتا چھوڑ کے اپنے آخری سفر پہ روانہ ہو ہی گیئں وہ سفر جو سب کا سفر نصیب ہے، جو بر حق ہے، جو ہماری اس دنیا میں آمد کے بعد سے ہمارا انتظار کرتا ہے۔
امی، آپ کی کیا کیا بات یاد کروں، یوں تو سب ہی کو اپنی ماں پیاری لگتی ہے مگر کیا کروں کہ دل دہائی دیتا ہے، آپ خاص تھیں، بہت خاص۔
بہت پہلے ٹی وی کے ایک پروگرام میں اس سوال کے جواب میں، میں نے کہا تھا، میں اپنی ماں کی پروڈکٹ ہوں اگر میرے میں کچھ گن ہیں تو وہ میری ماں کا کریڈٹ ہے
امی، میں نے ساری عمر آپ کو خدمت کرتے دیکھا اور بے لوث خدمت کر کے خوش ہوتے دیکھا، بے شک خدمت کرنا آپ کا امتیاز تھا
معذور سسر، بیوہ نند، تنک مزاج میاں اور ہم سب بہن بھائی۔ اور مزاج کا یہ عالم کہ ماتھے پہ کوئی شکن نہیں
آدھی رات کو بھی اگر کوئی فرمائش کرے تو امی فورا کچن میں جانے کو تیار۔ عیدوں پہ جب ہم بہنیں اکٹھی ہوتیں تو باوجود نوکر کے ہونے کے، ہر کسی کی پسند کا کھاناخود بناتیں۔ بار بار کہتیں تم لوگ باتیں کرو کہ تمہاری آوازوں سے میرا دل اور میرا گھر مہکتا ہے
میں نے بہت بچپن سے ریڈیو جانا شروع کر دیا، ہمیشہ میرے ساتھ ہوتیں، وہاں مجھے ریکارڈنگ کراتے دیکھتے ہوئے ایک فخر بھری چمک ان کی آنکھوں میں ہوتی اور واپس آکے نہ صرف ابا کو پوری تفصیل سناتیں بلکہ ہر آنے جانے والے کو ریڈیو سٹیشن کا احوال سناتیں۔
سلائی کڑھائی کی اتنی ماہر کہ کوئی بھی ڈیزائن، کسی بھی رسالے سے دکھا دو، فورا بنانے بیٹھ جاتیں، اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھتیں جب تک ہمیں پہنا نہ لیں
مہمان نواز اتنی کہ مہمان کے بیٹھنے سے پہلے ہی آو بھگت کی تیاری کا کہہ دیتیں، لوگ ہنس کے کہا کرتے، ہم ابھی گاڑی سے نہیں اترتے اور آپ چائے کا پانی دم پہ لگا دیتی ہیں
سخاوت ایسی کہ جو ہے وہ ہر وقت، ہر کسی کو دینے کے لئے تیار، بلا کی شاہ خرچ اور بے نیاز۔ بھائیوں کی شادیوں پہ جو سمدھیانے سے زیور کا تحفہ ملا وہ اگلی صبح ہی بہو کو دے کر کہنے لگیں، کہ میں تو زیور پہنتی نہیں اور تمہارے ماں باپ نے دیا ہے تو تمہارا ہی حق ہے۔ ہم بہنوں کے احتجاج پر بولیں، تم لوگوں کا میرے پہ حق ہے مگر بہو کے ہاں کا تحفہ اسی کو دینا جچتا ہے اس کے ماں باپ کی یادیں وابستہ ہیں اور پھر مسکرا کے بولیں لو میں خواہ مخواہ کی زکوٰۃ دوں
نرم دلی اور انسان نوازی ایسی کہ باقر بھائی جو امی کی مدد کے لئے رکھے گئے تھے، کو ا پنا بیٹا مانتیں اور اس کے کھانے پینے کا ہر وقت خیال رکھتیں۔ ابا سے ان کی شادی 16 سال کی عمر میں ہوئی اور ساری عمر ابا کی خدمت کی، محبت کے ساتھ۔ ابا کی وفات کے بعد ہر کسی کو بتاتیں کہ انھوں نے بہت بھر پور زندگی گزاری۔
امی بہت ذہین تھیں ان کو پڑھنے کابہت شوق تھا، باقاعدہ سکول کی تعلیم زیادہ نہیں تھی مگر ڈائجسٹ اور ناول پڑھ پڑھ کے بہت کچھ سیکھ چکی تھیں اور اپنی بیٹیوں کو اعلا تعلیم یافتہ دیکھنے کاخواب اپنی آنکھوں میں سجا چکی تھیں۔ فیمینسٹ اتنی کہ ہمیشہ کہتیں، اگر شوہر سے نہ بنی تو گزارہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، واپس آ جانا اس گھر کے دروازے تم لوگوں پہ ہمیشہ کھلیں رہیں گے، آخر تم لوگوں کو میں نے اتنا پڑھایا ہے، تم لوگ اپنی زندگی جی سکتے ہو۔ اتنی با اعتماد کہ جب کینیڈا گئیں تو انگریزی نہ جاننے کے باوجود ایک گوری ہمسائی سے دوستی کی اس سے اشاروں میں باتیں کرتیں، پاکستان واپسی والے دن جب خداحافظ کہنے گئیں تو منہ سے جہاز کی آواز نکال کے اس کو بتایا کہ وہ واپس جا رہیں ہیں، گوری دوست نے یہ سمجھا بھی اور انھیں الوداعی تحفہ بھی دیا، یہ قصہ وہ بہت شوق سے اپنے بچوں کے بچوں کو سناتیں
بچوں سے اتنی محبت کہ جب بھی کسی بیٹی اور بہو کو ضرورت پڑتی، خدمت کے لئے پہنچ جاتیں۔ پوتا پوتی ہوں یا نواسہ نواسی، سب ہی کے لاڈ اٹھاتیں۔
پیاری امی، کیا کیا یاد کروں، یادوں کا ایک خزانہ ہے، محبتوں کا ایک سیل رواں ہے، لاتعداد کہانیاں ہیں، زندگی کے ہر دن سے آپ جڑی ہیں، آپ کا پرتو ہماری ہر چیز میں ہے، آپ کی ہر سوچ ہمارے ہر عمل میں ہے، ہم ہم نہیں ہیں، ہم آپ ہیں۔
پیاری امی، خدا حافظ کہنا آسان نہیں، یہ سوچنا مشکل ہے کہ گھر آپ کے بغیر کیسا ہو گا، زندگی آپ کی دعاؤں کے بغیر کیسی ہو گی۔ آپ کے چہرے کے بغیر، ہماری آنکھیں کیسے جئیں گی، آپ کی آواز کے بغیر، کان ترسیں گے۔ پر جانا تو ہے، یہ وہ امر ہے جو ہمارے مالک نے ہمارے لیے لکھا ہے اور ہمیں اس کو قبول کرنا ہے، سرجھکانا ہے
ہمیں خدا حافظ کہنا ہے امی۔ ہمیں آپ سے جدا ہونا ہے، روتی آنکھوں کے ساتھ، لیکن اطمینان قلب کے ساتھ، آپ سرخرو ہوئیں اپنے رب کے سامنے، آپ نے اپنے رب کی مرضی کے مطابق زندگی گزاری۔ ہم ملیں گے امی، یہ میرا وعدہ ہے ہم آپ سے ملیں گے ایک دن۔ الوداع ماں، پیاری ماں۔ جائیے، میرے ابا آپ کی راہ تک رہے ہیں

