عمران خان سب سے زیادہ مقبول لیڈر کیوں ہیں؟
اس وقت دیکھا جائے تو اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ عمران خان سب سے زیادہ مقبول لیڈر ہیں۔ جنوری کے گیلپ پول پر یقین کریں تو انتخابات میں 32 فیصد ووٹ لینے والی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے متعلق اس وقت 51 فیصد پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا پرفارم کر رہے ہیں۔ معاشی میدان میں تحریک انصاف کی حکومت نے عام آدمی کو ریلیف نہیں دی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کی مقبولیت بہت حد تک برقرار ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ عمران خان اس طرح مقبول ہوئے ہیں۔ پاپولر پالیٹکس ایک وجہ ہے، مگر کیا وہ سب سے بڑی وجہ ہے؟ کسی وقت میں سب سے زیادہ مقبول جماعت پیپلز پارٹی اب کیوں کشش کھو بیٹھی ہے؟ کس وجہ سے وہ صرف سندھ میں ووٹ لے سکتی ہے؟ کیوں پنجاب سے اس کے نمایاں لیڈر جوق در جوق عمران خان کے جھنڈے تلے جمع ہوئے ہیں؟
نواز شریف بھی مقبول ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ پہلے ان کی مقبولیت کی وجہ دیکھ لیتے ہیں۔ نواز شریف ایک فوجی ڈکٹیٹر ضیا الحق کے منتخب کردہ سیاست دان کے امیج سے اس وقت باہر نکل کر اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے جب انہوں نے صدر غلام اسحاق خان کو نہ کہہ دی۔ ایک انقلابی تقریر ان کو لیڈر بنا گئی۔ اس کے بعد وہ مقبول ہوتے گئے۔ ان کی مقبولیت کی بظاہر دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ چھوٹے بڑے تاجر طبقے کو خوش رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ عوامی سطح پر وہ ”جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے“ کے اصول پر ڈیویلپمنٹ پر فوکس کیے رہے ہیں۔ ان کی خوش قسمتی کہ پنجاب میں ان کو شہباز شریف میسر آ گئے جو ایک اچھے پراجیکٹ مینیجر ہیں۔ جی ٹی روڈ بیلٹ اور لاہور میں انہوں نے بہت زیادہ ترقیاتی کام بھی کیے۔ وہ معیشت کے نعرے کو لے کر اٹھے تھے اور پھر ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے ان کو کچھ مزید مدد بھی ملی۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ نوجوان طبقے میں اس طرح مقبول نہیں ہو پائے جیسے عمران خان ہوئے ہیں؟
آئیے بھٹو کو یاد کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ایسا نعرہ دیا تھا جس کا اثر کئی دہائیوں تک رہا۔ انہوں نے مزدور اور غریب طبقے کو خواب دکھایا تھا کہ وہ اسے کھانے کو روٹی، پہننے کو کپڑا اور سر چھپانے کو مکان دیں گے۔ بھٹو ایک عام آدمی سے جڑنے کا گر جانتے تھے۔ وہ اسے خواب بیچنے میں بھی کامیاب رہے۔ بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کی حکومتیں اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے اسے چکنا چور کرتی رہیں۔ کیا اس وقت سندھ اور کراچی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے متعلق کوئی خوش گمانی پنجابی ووٹر کے دل میں باقی ہے؟ کیا کراچی، حیدر آباد یا لاڑکانہ کی حالت اس وقت لاہور سے بہتر ہے؟
بھٹو کے برخلاف نواز شریف کے پاس کوئی خواب نہیں ہے۔ بس وہ یہ یقین دلاتے رہتے ہیں کہ وہ ایک با اختیار سویلین حکومت قائم کریں گے۔ ایک عام آدمی کو اس سے کیا دلچسپی ہے کہ ملک پر جمہوری حکومت راج کر رہی ہے یا فوجی ڈکٹیٹر کی؟ وہ تو اس بات سے غرض رکھتا ہے کہ اس کی زندگی کے مسائل حل ہوں گے یا نہیں۔ وہ خوشحال ہو گا یا تنگ دست رہے گا۔ نواز شریف ایک عام آدمی کو خوشحالی کا خواب نہیں بیچ پائے۔ انہوں نے کوشش ہی نہیں کی۔
عمران خان، بھٹو کے پینتیس برس بعد ایک خواب لے کر اٹھے۔ انہوں نے سماجی نا انصافیوں سے تنگ آئے پڑھے لکھے مڈل کلاس طبقے کو اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان صرف اس وجہ سے ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک نہیں بن پایا کہ یہاں کرپشن بہت زیادہ ہے۔ ایک عام آدمی کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ملک کی ترقی کے لئے کرپشن بڑا زہر ہے یا سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کا عدم تسلسل۔ وہ عمران خان کی بات پر یقین کرتا ہے کہ وہ کرپٹ اور نا اہل سیاست دانوں کا پھیلایا گند صاف کر کے ایک نیا پاکستان بنا دیں گے، جہاں خوشحالی ہو گی، برابری ہو گی، انصاف ہو گا۔ مخالف لاکھ کہیں کہ عمران خان کو بنانے والے جنرل حمید گل یا جنرل شجاع پاشا تھے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کی عوام میں بے پناہ سپورٹ موجود ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے چھے ماہ اچھے نہیں رہے۔ معاشی مسائل بدتر ہوئے۔ لیکن پچھلے ایک ماہ میں انہوں نے سعودی عرب اور امارات کے شہزادوں کے دورے اور ان سے اربوں ڈالر حاصل کرنے کی تشہیر کر کے خوابوں کو ایک نئی جلا دی ہے۔ جولائی میں بجٹ آنے کے بعد ان کا نیا امتحان ہو گا۔ مگر اس وقت تک وہ سب سے مقبول لیڈر رہیں گے کیونکہ ان کے پاس خواب ہیں جو وہ ووٹر کو بیچتے ہیں۔ باقی جماعتوں کے پاس کون سا خواب ہے؟ جس لیڈر کے پاس کوئی خواب نہ ہو وہ کیسے قوم کو دیوانہ بنا سکتا ہے؟ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے پاس صرف ٹوٹے ہوئے خواب ہی ہیں۔
ہاں اگر بلاول اس وقت کراچی اور حیدر آباد کو اپنا شہر سمجھ لیں اور اس میں سندھ کی صوبائی حکومت ویسے کام کرے جیسے شہباز شریف کی حکومت نے لاہور میں کیا تھا، تو پھر وہ خواب بیچنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ وہ اسمبلی میں پہلی تقریر سے ہی تحریک انصاف اور نون لیگ کے حامیوں سے بھی داد و تحسین لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ سندھ میں اچھی پرفارمنس کے ساتھ ایک نیا خواب وہ دے سکتے ہیں۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ تو اب پٹ چکا ہے، ان کو نئے زمانے کی نئی نسل کے لئے ایک نیا خواب تراشنا ہو گا۔


