جینا ہے تو آگے بڑھنا ہے


نجانے ہم لوگ دکھ اوڑھ کے اتنا خوش کیوں ہوتے ہیں۔ صدیوں پرانی تہذیب کے کھوجانے کا دکھ ہو یا کسی اپنے پرائے کی کہی گئی کسی بات یا عمل کا دکھ۔ عجیب بات ہے ہمیں دکھ میں رہنا اتنا پسند ہوتا ہے کہ زندگی بالکل متوازن بھی ہو تو کوئی بھولی بسری یاد نکال کے خود کو دکھی کر لیتے ہیں۔ بات یہ نہیں کہ ہم حساس نہیں ہونا چاہیے بات یہ ہے کہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ احساس کس کیفیت کا نام ہے۔

ہم اپنے حوالے میں حساس نہیں بلکہ اوور سنسیٹو ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر توجہ، ہر جذبہ، ہر خیال ہمارا حق ہو اور اس کے بدلے میں ہمیں کچھ نہ دینا پڑے۔ جہاں تھوڑی سی اس حق پہ ضرب پڑتی ہے ہم تڑپ اٹھتے ہیں۔ اور پھر تہیہ کر لیتے ہیں کہ اب کبھی اس بات کو معاف نہیں کرنا۔ پھر ہر جاننے والے سے ایک ہی شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ فالاں وقت یہ بات ہوئی۔ دراصل ہم بھلانا نہیں چاہتے نہ ہی اس کیفیت سے نکلنا چاہتے ہیں

اسی خود ترسی کی کیفیت انسان کو اپنے جال میں جگڑ لیتی ہے۔ یہی کیفیت مظلومیت کا قوی احساس پیدا کرتی ہے اور نتجتا خیال ابھارتی ہے کہ اب بے بسی مقدر ہے تو بدعاوں اور گالیوں کی طرف کشتی موڑ لی جائے۔ بددعا ایک منفی جذبہ ہے جہاں انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے غصے کے شکار انسان کا نقصان انسانی نہیں بلکہ کائناتی لیول پہ کرے۔ وہ مٹ جائے، ختم ہوجائے، برباد ہوجائے۔ بنیادی طور پہ ہم ایک منفی سوچ کے سماج کا حصہ ہیں یہاں وہ افراد اور ادارے میسر نہیں ہیں جو زندگی کو ٹیکل کرنا سکھائیں۔

ایک منفی سوچ یا بات کبھی بانجھ ثابت نہیں ہوتی اسے بڑھانے والے اپ کے اردگرد آپ کے دوستوں، ہمدردوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ حوصلہ دینے یا غلطی کی نشاندہی کی بجائے ہر طرف سے وہی مشورے سنائی دیتے ہیں جو صورتحال کو ابتر کرتے جاتے ہیں۔ نتیجہ ایک نہ ختم ہونے والی منفی سوچ کی صورت میں نکلتا ہے جو حتمی طور پہ ڈپریشن کی طرف لے جاتا ہے۔

در اصل زندگی گزارنے کے لیے کچھ ہنر ہیں جنہیں پرابلم سالوونگ یعنی مسائل کا حل نکالنا، سٹریس مینجمنٹ، کنفلیٹ ریزولوشن یعنی جھگڑے سلجھانا، ایموشنل انٹیلیجینس یعنی جذبات کو منطقی میں دیکھنا شامل ہیں۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو افراد میں یہ صلاحیت پیدا کرتی ہیں کہ وہ مسائل کی وجوہات سمجھیں، ان کا تجزیہ کریں، ممکنہ حل تلاش کریں اور اس میں جو سب سے مناسب حل ہو اسے لاگو کر کے مسئلہ حل کریں۔ یہ ہنر تعلیمی اور تربیتی نظام کا حصہ ہوں تو میرا نہیں خیال کہ ہمیں اپنے اردگرد خود ترسی کے سکار لوگ نظر آئیں گے یا ڈپریشن اس شدت میں نظر آئے گا جتنا کہ اب ہماری زندگیوں کا حصہ ہے۔

ہمارے اٹلیکچول طبقے سے لے کر عام دیہاڑی دار آدمی تک انہیں مسائل میں الجھا ہے۔ سماج کا ڈھانچہ اسی منفی خیال اور سوچ پہ بنا ہوا ہے لیکن اس بات کو سمجھنا اور پھر حل کرنا ضروری ہے کہ زندگی بنا تربیت کے نہیں گزر سکتی۔ اس کو گزارنے کا ڈھنگ ضروری ہے۔ دکھ اوڑھنے کے لیے نہیں بلکہ سکھنے کے لیے ہوتا ہے۔ اس سے سیکھیں مضبوط ہوں اور آگے بڑھیں۔ چلتے رہنا بڑھتے رہنا مثبت سوچنا اصل زندگی ہے۔

Facebook Comments HS