پہل کون کرے؟


کیا ہر پاکستانی اب پوری طرح مطمئن ہے؟ کیا اب مستقبل کے بارے میں مایوسی اور بے یقینی ختم ہو گئی ہے؟ کیا معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو گئی ہے؟ کیا ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہیں کھل گئی ہیں؟ کیا روزگار کے مواقع عام ہو گئے ہیں؟ کیا سیاسی ماحول میں استحکام آگیا ہے؟ کیا پارلیمنٹ سمیت پاکستان کے تمام ریاستی ادارے اپنے آئینی تقاضوں کے مطابق متحرک ہو گئے ہیں؟ کیا ہماری خارجہ پالیسی اس قدر مستحکم ہو گئی ہے کہ ہمیں باہر سے کوئی سفارتی دباؤ نہیں رہا؟ کیا احتساب اب ہر طرح کے شکوک و شبہات سے پاک ہو گیا ہے؟ کیا قانون و انصاف کے بارے میں اب کسی سائل کو کوئی شکایت نہیں رہی؟ کیا مہنگائی کے عفریت کو لگام ڈال لی گئی ہے؟

ان سوالوں اور بہت سے دوسرے سوالوں کے جواب، آنکھیں بند کر کے، ہاں میں دیے جا سکتے ہیں، نہ نہیں میں۔ اس طرح کی کوشش بھی فضول ہے کہ ریفرنڈم کی طرز پر ہاں یا نہ کی صورت میں جواب تلاش کیا جائے۔ جو کچھ بھی ہے وہ پوری قوم کو نظر آرہا ہے۔ چونکہ تقسیم کی لکیر بہت گہری ہو چکی ہے۔ اس لیے ہر سوال کے جواب میں ہاں کہنے والے بھی مل جائیں گے اور نہ کہنے والے بھی۔ حکومت کے ہمنواوں کی بات کی جائے تو ایک نیا پاکستان جنم لے چکا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں چوکڑیاں بھرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ حکومت کے مخالفین سے بات کی جائے تو حکومتی اونٹ کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں۔ دونوں کے پاس اعداد و شمار کے انبار بھی ہیں اور دلائل کا طومار بھی۔ ہماری قومی روایت یہی ہے کہ جو جس موقف پر قائم ہے، وہ اسی کو سچ اور بر حق سمجھتا ہے۔ کوئی کچھ بھی کہتا رہے، کیسے ہی مضبوط دلائل دیتا رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سب اچھا نہیں۔ کہتے ہیں ہر مرض قابل علاج ہے۔ لیکن مریض اگر خود کو صحت مند، توانا اور بیماری سے پاک سمجھنے لگے تو نہ صرف یہ کہ علاج ممکن نہیں، اس کی بیماری بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سیاست سے ہٹ کر ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ملک کی معاشی حالت اچھی نہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کی طرف سے فراہم کیے گئے ڈالر ہمیں قومی خزانے میں دکھائی نہیں دے رہے۔ ادھر ڈالر فراہم کرنے والے تمام ممالک کی شرط یہ ہے کہ ہم یہ پیسہ اپنی تجوری میں رکھ کر گاہے گاہے دیکھ تو سکتے ہیں لیکن ان میں سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کر سکتے۔

مزید یہ کہ ایک مقررہ مدت کے بعد ہمیں ان رقوم کا ایک ایک ڈالر، طے شدہ سود کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ دوسری طرف آئی۔ ایم۔ ایف کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں لیکن پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل عوام کے ہوش اڑا رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی شرح (افراط زر) 9 فیصد سے بڑھ گئی ہے۔ قرضوں میں دگنی رفتار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جی۔ ڈی۔ پی یعنی معیشت کی شرح نمو تین فیصد تک آگئی ہے۔ بیرونی امداد اور سرمایہ کاری کے وعدوں کے با وجود سٹاک ایکسچینج کا مندہ مسلسل جاری ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کے با وجود برآمدات میں اضافے کی شرح نہایت سست ہے۔ اندازہ یہ ہے کہ آئی۔ ایم۔ ایف سے معاہدہ، مہنگائی کی ایک نئی لہر لے کے آئے گا۔

تھوڑی دیر کے لئے ادھر سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ قومی سیاست بھی عجیب ہیجان کا شکار ہے۔ حزب اقتدار اور اختلاف میں کشمکش بظاہر کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ایسا دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں ہوتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی ماضی اس طرح کی کھینچا تانی کی کہانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ لیکن آج کل جو نظر آرہا ہے، وہ ہر جمہوریت پسند پاکستانی کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ نتیجہ یہ کہ چھ ماہ سے قانون سازی کا عمل رکا ہوا ہے۔

نہ حکومت کو ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ اپوزیشن کی دلداری کر کے معاملات میں بہتری لائے اور نہ اپوزیشن کو اس امر کا احساس ہے کہ ہر بات پر حکومت کو زچ کرنا ضروری نہیں۔ عمران خان نے اپنی سیاست کی بنیاد کرپشن کے خلاف بیانیے کو بنایا۔ انہیں یقین ہے کہ پی۔ ٹی۔ آئی کی کامیابی کا سبب ان کا یہ بیانیہ ہی ہے۔ حکومت میں آنے کے بعد بھی وہ سب سے زیادہ زور احتساب کے موضوع ہی کو دے رہے ہیں۔ وہ ہر تقریب میں پورے زور و شور سے یہ دعویٰ دہراتے ہیں کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔

کسی چور اور ڈاکو کو این۔ آر۔ او نہیں دوں گا۔ یہ ان کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے کہ مختلف الزامات کی بنا پر پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری رہے اور عوام مطمین رہیں کہ کرپٹ عناصر کا کڑا احتساب ہو رہاہے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ میڈیا اور عوام کی توجہ دوسرے مسائل پر پرمرکوز نہیں ہوتی اور دوسرا یہ کہ عمران خان کی کرپشن کے خلاف جنگ کا تاثر موجود رہتا ہے۔ اپوزیشن بھی اسی کھیل میں الجھ کے رہ گئی ہے۔ وہ عوام کو درپیش مسائل کو اتنی شدت سے نہیں اٹھاتی لیکن اپنی گرفتاریوں، پروڈکشن آرڈرز، نیب پر تنقید اور احتساب کے عمل پر مسلسل نشانہ بازی کرتی رہتی ہے۔ نیب اس کھیل سے لطف اندوز ہو رہا ہے اور یہی کھیل میڈیا کی رونق بھی بڑھا رہا ہے۔

ادھر مقبوضہ کشمیر میں پلواما کے واقعہ نے یکلخت، پاک بھارت کشیدگی میں سخت اضافہ کر دیا ہے۔ بھارت اس حقیقت سے مسلسل نگاہیں چرا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر اس کے ہاتھوں سے نکلاجا رہا ہے۔ کشمیری نوجوانوں نے اپنے لہو سے تحریک آزادی کی رگوں میں نئی جان ڈال دی ہے۔ جب کوئی قوم جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں نکل آئے تو کوئی اسے شکست نہیں دے سکتا۔ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی بھارت نے اس واقعے کی ذمہ داری پاکستان کے سر تھوپ دی۔

اس کے سیاستدانوں اور میڈیا نے توپوں کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیے۔ یہاں تک کہا جانے لگا کہ بھارت اس واقعے کا بدلہ لے گا۔ یہ جنگی جنون خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ پاکستان اس کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی انتخابی پوزیشن کمزور بتائی جاتی ہے۔ تین چار ماہ بعد انتخابی میدان سجنے جا رہا ہے۔ مودی اور دیگر انتہا پسند عناصر تلے بیٹھے ہیں کہ وہ پلواما کے واقعہ کی آڑ میں پاکستان کے خلاف ایسی کارروائی کریں جو متعصب بھارتیوں کے لئے خوشی اور تسکین کا باعث ہو۔

وہ اسے اپنی انتخابی کامیابی کی کنجی خیال کرتے ہیں۔ امریکہ، چین، سعودی عرب اور کئی دوسرے ممالک کی کوششیں جاری ہیں لیکن بھارتی انتخابات کی تلخ حقیقت کے پیش نظر، مودی کی طرف سے مہم جوئی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت میں یقینا پاکستان بھی منہ توڑ جواب دے گا۔ اللہ نہ کرئے یہ سلسلہ آگے بڑھے۔ جنگ کی آگ دونوں ممالک کو بھسم کر دے گی۔

یہ ہیں وہ عمومی حالات جو قومی یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں۔ قومی یکجہتی کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم دفاع ملک و قوم کے لئے حکومت اور اپوزیشن ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہو جائیں۔ اتحاد و اتفاق کی یہ فضا نہ صرف بھارت کو ایک توانا پیغام دے گی بلکہ قوم کے اندر بھی ایک نیا جذبہ پیدا ہو گا۔ اسی طرح ساری قوت پکڑ دھکڑ، احتساب، احتجاج اورہلے گلے کے بجائے، مثبت جمہوری رویوں پر مرکوز ہو جائے گی۔ ملک کو اقتصادی ترقی کے لئے درکار سیاسی استحکام نصیب ہو گا۔ بے یقینی کے بادل چھٹیں گے۔ اس حوالے سے بھارت کا جارحانہ رویہ ہمارے لئے نئے روشن امکانات کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ لیکن سو سوالوں کا ایک سوال یہ ہے کہ اس اتحاد اور باہمی قربت کے لئے پہل کون کرے؟ دنیا بھر کا دستور ہے کہ پہل حکومتوں ہی کو کرنا پڑتی ہے۔ لیکن کیا عمران خان ایسا کر پائیں گے؟

Facebook Comments HS