یہ مودی ہے کہ موذی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 127
  •  

کہتے ہیں کہ انسان کے کردار اور نیت کا پتہ اس کے اعمال سے چلتا ہے۔ محض کھوکھلے دعوؤں اور چرب زبانی سے کوئی اچھا یا عظیم الشان نہیں بن جاتا۔ اگر اسی پیرائے میں دیکھا جائے تو اقوامِ عالم میں کچھ ملکوں اور ان کے سربراہان کی حالت بھی ”اپنے منہ میاں مٹھو“ کی مصداق ہے۔ زیادہ دور نہیں جاتے اپنے پڑوسے اور دیرینہ دشمن ملک ہندوستان اور اس کے فتنہ پرور وزیراعظم نریندر مودی کو ہی دیکھ لیجیے، جس دن سے انہوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے اس دن سے ہی ان کی ساری توانائی پاکستان دشمنی اور نہتے کشمیریوں پر مظالم میں اضافے میں صرف ہو رہی ہے۔

ہندوستان جیسے ایک ارب نفوس سے زیادہ آبادی والے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملک کی سربراہی مودی جیسے غیر متوازن ذہنی شخصیت کے مالک سیاستدان کو ملنا ایسے ہی تھا جیسے بندر کے ہاتھ استرا آنا۔ وزارت عظمیٰ ملنے کے روزِ اول سے ہی انہوں نے نا صرف کشمیریوں پر مظالم میں بے پناہ اضافہ کر دیا بلکہ پاکستان کے خلاف زہر اگلنا ان کی شناخت بن گیا۔ پچھلے ستر سالوں سے مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ گرانے والا ہندوستان بہت ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان پر دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے کے الزامات کی بوچھاڑ کرنے لگا۔ حتاکہ پاکستانی کھلاڑیوں اور فنکاروں تک پر پابندیاں عائد کی جانے لگیں۔

مودی کے اس رویے میں روز بروز شدت آنے لگی لیکن دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ انتہائی بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کیا اور ہندوستان کو کشمیر سمیت تمام مسائل پر گفت و شنید کی دعوت دیتا رہا۔ نا صرف یہ بلکہ پاکستان نے دونوں ممالک کے سرحدی علاقے میں واقع سکھوں کے مقدس مقام کو کرتارپور راہداری کے ذریعے ہندوستانی سکھ زائرین کے لیے کھول دیا۔ لیکن یہ سب کچھ چونکہ پاکستان کی طرف سے خطے میں امن اور استحکام کی طرف اور مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ کوشش تھی اس لیے مودی صاحب سے یہ سب برداشت نہیں ہو پا رہا تھا اور وہ بھی اس وقت جب ہندوستان عام انتخابات کی طرف جا رہا تھا۔ پاکستان کے ان مثبت اقدامات کی وجہ سے مودی اور اس کی جماعت کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے کی طرف جا رہا تھا۔ تین بڑے صوبوں میں حالیہ انتخابات میں شکست نے تو مودی کی بوکھلاہٹ میں بے پناہ اضافہ کیا اور اس کو کسی طرح بھی ایسا کچھ کرنے پر اکسایا جس سے اس کی ڈوبتی ہوئی سیاسی نیا پار لگ سکے۔

اپنی سیاسی شکست کو بھانپتے ہوئے موصوف پھر اپنے اوچھے ہتھکنڈوں پہ اتر آیا اور پاکستان دشمنی کا کارڈ استعمال کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے پلوامہ حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کر دیا۔ حالانکہ اس کے اپنے ہموطن ہی اس پر پلوامہ حملہ خود ہی کروانے اور اس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا الزام لگانے لگے۔ پاکستان نے بارہا کہا کہ اگر انڈیا کے پاس کسی پاکستانی کے پلوامہ حملے میں ملوث ہونے کے شواہد ہیں تو سامنے لائے اور یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ اگر کوئی بھی پاکستانی اس واقعے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مگر مودی اور ہندوستان کو اس سے کوئی غرض نہ تھی ان کو تو بس ایک بہانہ چاہیے تھا۔

پلوامہ واقعے کو لے کر ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کرنے اور سرجیکل اسٹرائیک کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس پر پاکستان نے تمام عالمی قوتوں کو ہندوستان کے اس جارحانہ اور شدت پسند رویے کے بارے میں آگاہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ انڈیا کے کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عمل کی وجہ سے خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ پاکستان نے دنیا کی توجہ اس جانب بھی مبذول کروائی کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں اور اگر بھارت نے پاکستان کی طرف جنگ میں پہل کی تو اس کو موثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

لیکن مودی کے سر پر سوار جنگی جنون اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا اور یوں کل شب رات کی تاریکی میں بزدلوں کی طرح بھارتی جنگی طیاروں نے لائن آف کنٹرول کے قریب تین چار کلومیٹر اندر آنے کی جسارت کی جن کو پاکستان ایئر فورس نے بھرپور اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے پسپا کر دیا۔ ساری دنیا نے ہندوستان کی اس بزدلانہ حرکت پر لعنت ملامت کی اور پاکستان نے بھی اس کی نہ صرف مذمت کی بلکہ بھرپور جوابی کارروائی کا واضح پیغام بھی دے دیا۔

یہ سب صرف مودی کی ہٹ دھرمی، غرور، جنگی جنون اور غیر ذمہ دارانہ سوچ کی وجہ سے ہوا۔ تمام عالمی برادری اور ہندوستانی عوام کو مودی کو مزید کسی ایسی حماقت سے روکنا ہو گا تا کہ پورے خطے کو تباہی اور بربادی سے بچایا جا سکے۔ جنگ میں جیتنے والے اور ہارنے والے دونوں کو ہی اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور مودی کو چاہیے کہ خود کو موذی ثابت کرنے کے بجائے جنگ پر مذاکرات کو ترجیح دے ورنہ تاریخ اس کو بدترین لیڈر کے طور پر یاد رکھے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 127
  •  
طارق عزیز کولاچی کی دیگر تحریریں
طارق عزیز کولاچی کی دیگر تحریریں