وہ اذیت ناک موت نہیں چاہتا تھا لیکن قانون اسے روکتا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”اب مزید کوئی الفاظ نہیں، میں جا رہا ہوں“۔

یہ 54 سالہ ٹورائے ٹورنٹن کے آخری الفاظ تھے جو انہوں نے اپنی بیوی سے جمعہ 22 فروری کو سوئٹزر لینڈ کے شہر بازل کے یوتھے نیزیا کلینک میں کہے۔ ڈاکٹر کے دیے گئے زہریلے انجکشن کی مدد سے ٹورائے بازل کے مقامی وقت کے مطابق دن کے ساڑھے گیارہ بچے موت کی آغوش میں جا سوئے۔

مرتے وقت ان کی بیوی کرسٹین اُن کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔ لیکن ان کا سترہ سالہ بیٹا جیک اور چودہ سالہ بیٹی لارا وہاں موجود نہ تھے وہ انہیں اتوار کے روزملبورن میں ہی خدا حافظ کہہ چکے تھے۔ ٹورائے جب آسٹریلیا سے سوئٹزر لینڈ پہنچے تو بہت کم سو پائے اور جب سوئے تو خوابوں میں ان کو بیٹا اور بیٹی نظر آتے تھے جنہیں وہ اپنے ماں باپ کے پاس چھوڑ کر آئے تھے۔

ٹورائے نے موت سے پہلے اے اے پی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا۔ اس وقت ان الفاظ کو ادا کرتے وقت ان کی آواز ذہنی دباؤ اور جذباتی صدمے سے بہت مدھم ہو چکی تھی۔
” زندگی میں سب سے مشکل جس چیز کا مجھے سامنا کرنا پڑا، وہ اپنے بچوں کا خدا حافظ کہنا تھا۔ اس نے مجھے تباہ کر دیا“۔

ٹھورنٹن تیس سال سے آسٹریلوی فائر بریگیڈ میں ملازم تھے۔ ملازمت کے آخری دنوں میں وہ مورنگٹن میں ڈیوٹی افسر کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ انہیں چند سال پہلے ملٹی ہل سسٹم ایٹروفی کی بیماری لاحق ہوئی۔ یہ ایک لاعلاج بیماری ہے۔ جس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوئی صورت نہیں۔ یہ بیماری عصبی نظام پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اور چونکہ جسم کا ہر حصہ عصبی نظام سے جڑا ہوا ہے اس لیے انسان اپنے جسم کے ہرحصے کو محسوس تو کرتا ہے، لیکن اپنے جسم کو ہلا نہیں سکتا۔ بیماری کی اگلی سٹیج پر سانس لینے کے لیے طبی آلات کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ یوں آہستہ آہستہ یہ بیماری انسان کو کھا جاتی ہے۔ گو اس بیماری میں مبتلا مریض کا انجام ایک ہولناک موت ہے لیکن موت آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ٹورائے کے نزدیک یہ بیماری ایک ایسا درندہ ہے جو آہستہ آہستہ آپ سے سب کچھ چھین لیتا ہے۔

”پہلے آپ کے تیرنے کی صلاحیت ختم ہوتی ہے، پھر آپ دوڑ نہیں سکتے، بچوں کے ساتھ فٹ بال نہیں کھیل سکتے، آپ سرفنگ نہیں کر سکتے، گاڑی نہیں چلا سکتے، یہ آپ کا کیرئیر تباہ کر دیتی ہے، آخر میں آپ ایک سبزی بن کر رہ جاتے ہیں۔ ۔ کچھ عرصہ بعد یہ بیماری میرے سانس لینے اور نگلنے جیسے دوسرے نظاموں پر حملہ آور ہو گی، اور میں آخر میں اپنی بلغم میں ڈوب جاؤں گا۔ ڈاکٹروں نے مجھے ہمیشہ کہا ہے کہ تم اس بیماری سے نہیں مرو گے بلکہ اس کے ساتھ مرو گے۔ تم چند سال اور زندہ رہ سکتے ہو۔ میں جواب میں کہا، لیکن ایک انتہائی معذور انسان کے طور پر اور پھر میرا خاتمہ ایک سبزی بن جانے کی صورت میں ہو گا“۔

دنیا کے اکثر ممالک میں خود کشی کی اجازت نہیں ہے بلکہ خود کشی میں مدد دینا بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر کسی ملک میں یہ جرم نہیں بھی ہے تو اس میں مدد دینے والے ڈکٹر کو مذاق یا حقارت سے ڈاکٹر ڈیتھ کا نام دیا جاتا ہے۔ دنیا کے اکثر معاشرے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ کسی کو اپنی جان لینے کا حق حاصل ہونا چاہیے یا نہیں؟ کیا انسان اپنی جان کا مالک خود ہوتا ہے یا اس کی جان کی ملکیت معاشرے یا ریاست کے پاس ہوتی ہے؟ ڈاکٹروں کی اکثریت بھی خودکشی میں مدد کو برا سمجھتی ہے کیونکہ ان کے بقول ان کا پیشہ ان سے انسانی جان کو بچانے کا تقاضا کرتا ہے نہ کہ وہ لوگوں میں موت بانٹتے پھریں۔

آسٹریلیا کی جنوب مشرقی ریاست وکٹوریہ میں اسی سال جون میں رضاکارانہ طور پر موت قبول کرنے اور اس میں مدد دینے کے سلسلے میں قوانین منظور ہوئے تھے۔ ان قوانین کی منظوری میں آسٹریلوی ڈاکٹر فلپ نتشکے کی انتھک جدوجہد کا ہاتھ ہے جس کے نتیجے میں حکومت نے 1996 میں رضاکارانہ طور پر موت کو گلے لگانے اوراس میں مدد دینے کے قانون کی منظوری دی تھی۔ وکٹوریا میں فلپ کو لوگ ڈاکٹر ڈیتھ بھی کہتے ہیں۔ چار مریضوں نے ڈاکٹر فلپ نتشکے کی مدد سے خود کشی کی۔ 1997 میں آسٹریلیا کی ایک عدالت نے اس قانون کو رد کر دیا۔ نتشکے نے جدوجہد جاری رکھی اور 2009 میں ایک مریض کو مرنے کی اجازت دے دی گئی۔

ٹورائے کی خواہش تھی کہ وہ اپنے شہر ملبورن میں اس جہان فانی کو الوداع کہیں جہان ان کے بچے، تمام فیملی اور دوست ان کے ارد گرد موجود ہوتے۔ لیکن ان کی یہ خواہش پوری کرنے میں آسٹریلوی قانون ان کی کوئی مدد نہ کر سکا۔ اس قانون تقاضا یہ تھا کہ دو ڈاکٹر ایسے ہوں جو یقین سے کہہ سکیں کہ ٹورائے اپنی عصبی بیماری کی وجہ سے ایک سال کے اندر مر جائیں گے اور ٹورائے دو ایسے ڈاکٹر نہ ڈھونڈ پائے۔

اگرچہ ملٹی پل سسٹم ایٹروفی ایک لاعلاج مرض ہے لیکن پھر بھی اس مرض میں مبتلا لوگ اس زمرے میں نہیں آتے جنہیں رضاکارانہ طور پر موت قبول کرنے میں کسی قسم کی مدد دی جائے۔ یوں اس قانون کی موجودی کے باوجود ٹورائے کو اپنی موت چننے کی اجازت نہ مل سکی اور وہ اپنے ملک سے ہزاروں میل دور پردیس میں اپنی موت کو گلے لگانے پر مجبور ہوئے جہاں ان کے پاس ان کا ہاتھے تھامے صرف ان کی بیوی بیٹھی ہوئی تھی۔ مرنے سے پہلے ٹورائے نے اپنی بیوی کا ہاتھ تھامے ہوئے کہا، ”کتنا اچھا ہوتا کہ اس وقت ہمارے بچے، تمام فیملی اور میرے دوست بھی یہاں موجود ہوتے؟ ٹورائے کے بقول گو انہیں ان قوانین سے مدد نہیں مل سکی لیکن وہ پھر بھی انہوں نے ان قوانین اچھا قدم کہتے ہوئے ان کی تعریف کرتے ہوئے ان کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

”اس قانون کے نتیجے میں لوگ سوچتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ لیکن باہر کسی سے پوچھیں تو انہیں بالکل پتہ نہیں ہو گا کہ یہ قانون مجھے جیسے لوگوں کی مدد نہیں کرتا جو اس عذاب سے گزر رہے ہیں، ان قوانین کو بہتر بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ میں نے کافی بُھگت لیا ہے۔ گو قوانین موجود ہیں جو صحیح سمت میں ایک بڑے قدم کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ قوانین میری مدد نہیں کرتے، وہ کئی اور لوگوں کے کام کے بھی نہیں ہیں۔

کسی لاعلاج بیماری کی صورت میں بیماری پر ساری توجہ مرکوز کرنا غلط ہے۔ اصل اہمیت آپ کے مرنے کا انتخاب کرنے کا حق کی ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی عمر کیا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ بیمار ہیں یا صحت مند۔ اہمیت آپ انتخاب کے حق کی ہے۔ جب یہ زندگی ہماری ہے تو اس پر کنٹرول بھی ہمارا ہونا چاہیے، اگر ہم صحیح الدماغ ہیں تو اس کا فیصلہ کرنے کا حق بھی ہمارے پاس ہونا چاہیے۔ آسٹریلوی عوام کو چاہیے کہ وہ سیاستدانوں کو بتائیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنی زندگی ختم کرنے کا حق ان کے پاس ہونا چاہیے

میرے باپ کا دوست حال ہی میں 85 سال کی عمر میں مرا، اس کا پورا خاندان اس کے گرد موجود تھا۔ وہ سب فٹ بال دیکھ رہے تھے اور وہ ان کے درمیان مرا۔ یہ بہت ہی اچھی صورت حال تھی اور اسی طرح ہر کسی کو جانا چاہیے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میرے ساتھ میری بیوی ہے اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں ایسا کر پایا۔ ۔ دنیا میں بہت سارے لوگ ہیں جو بہت بری موت مرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس سوئٹزر لینڈ جانے کے معاشی ذرائع نہیں ہوتے ”۔

بیماری کی تشخیص ہو جانے کے بعد چار سال تک ٹورائے اور ان کے خاندان والے سب بہت دکھی تھے۔ لیکن ٹورائے ایک اپاہج کی طرف بستر پر لیٹے بقایا زندگی نہیں گزارنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بیماری کا کچھ عرصہ بہادری سے سامنا کرنے کے بعد ایک دلیرانہ فیصلہ لیا۔ کوئی دوسری راہ نظر نہ آنے کی صورت میں انہوں نے اپنی فیملی کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد کسی کلینک کی مدد سے اپنی جان لینے کا ارادہ کیا۔ گو شروع میں یہ فیصلہ بہت مشکل تھا لیکن آہستہ آہستہ ان کے خاندان نے اس فیصلے کو بہتر جانتے ہوئے اس سے سمجھوتہ کر لیا۔ اپنی موت کو گلے لگانے کے لیے ٹورائے نے اسی کلینک کو چنا جہاں ایک سال پہلے آسٹریلوی سائنسدان ڈیوڈ گوڈال نے اپنی زندگی ختم کی تھی

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •