سکوت/ سکون ہی سکون ہے


ایک اصطلاح ہے ’رائٹرز بلاک‘ ۔ شاید آپ اس کے بارے میں جانتے ہوں۔ ہوتا کہا ہے کہ ایک لکھنے والا ذہنی طور پر کچھ وقت کے لئے لکھنے کی طاقت سے محروم ہو جاتا ہے۔ الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ قلم چلتا رہتا ہے لیکن بے معنی۔ یوں سمجھیے کہ کاغذ پر آڑی ترچھی لکیروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جیسے کوئی بولنے کی صلاحیت سے محروم انسان بولنے کی پوری کوشش کرے لیکن غوں غاں سے آگے نہ بڑھ پائے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے لیکن الفاظ بس میں نہیں ہوتے۔

یہ حالت بڑی اذیت ناک ہوتی ہے۔ دل و دماغ میں عجیب سا ہیجان پیدا ہو جاتا ہے جو باہر نکلنے کا نام نہیں لیتا۔ بس ہاتھ پاؤں مارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔

آج ہماری بھی کچھ یہی کیفیت ہے۔ غالبا چوتھا کالم ہے جو لکھ کر مٹایا ہے۔ اب بھی کچھ نہ بن پایا تو مشیت ایزدی سمجھ کر لب سی لیں گے۔ خدا کی رضا میں راضی ہو جائیں گے۔ سر جھکا لیں گے۔ کسی قسم کے ہاتھ پاؤں نہیں ماریں گے۔

شاید کچھ دنوں سے اس کیفیت کو اتنی شدت سے محسوس کر چکے ہیں کہ اب ایک خاموشی طاری ہو گئی ہے۔ کسی بات سے فرق نہیں پڑ رہا۔ وہی دل جو کل تک بہت اوپر نیچے ہو رہا تھا اب ساکت ہے۔ کل تک بار بار آنکھ کھل رہی تھی۔ ایک دھڑکا سا تھا۔ لیکن ابجو ہو سو ہو۔ اب دل کی دنیا میں کوئی ہلچل نہیں۔ مکمل سکوت طاری ہے۔ موت کا سکوت۔ آتش فشاں پہاڑ پھٹنے کے بعد ہونے والا سکوت۔ بہت سی آہ و بکا کے بعد طاری ہونے والا سکوت۔

جنگ کے بعد ملبے میں دھوئیں اور دھول کا ڈھیر بن جانے والی ان لاشوں کا سکوت جو کبھی کسی کی آنکھ کا نور تھیں۔ کسی کے سر کا تاج تھیں۔ کسی کے دل کا قرار تھیں۔ لیکن اب باقی ہے تو صرف سکوت۔

سب مٹی میں مل جائیں گے۔ سب فنا ہو جائیں گے۔
لیکن کیسے؟
ایک دوسرے کے ہاتھوں۔ ایک دوسرے کی گولی کا نشانہ بن کر۔ بچے گا کوئی نہیں۔ مریں گے سب۔ ملبے کا ڈھیر بنتے ہی محمود و ایاز ایک ہو جائیں گے۔

سب ہی ناممکن ممکن ہو جائے گا۔ اپنے ٹی وی پر بیٹھ کر جنگ کے نعرے چنگھاڑتے لوگ اور اسی جنگ میں پہلی صف میں لڑنے والے سب ہی ایک ہو جائیں گے۔ مٹی میں مل جائیں گے۔

مہندی رچائی دلہن، آنکھوں میں پچھلی رات کا خلاف لئے وہ کڑیل جوان فوجی، اپنی جھریوں میں ایک دنیا سموئے ماں، اپنی معصوم قلقاریوں سے آنگن روشن کرنے والا منتوں مرادوں سے پیدا ہونے والا ماں کا پہلا اور آخری لعل، آنکھوں میں مستقبل کے حسین سپنے سجائے وہ کمپیوٹر انجینئر، محبت کے گیت لکھنے والی نوجوان لڑکی، اپنی تصویروں سے جہاں کو رنگین کرنے والا وہ چترکار۔ سب ایک ہو جائیں گے۔ ہڈیاں تک آپس میں گڈمڈ ہو جائیں گے۔ گتھم گتھا، یکجان، عفریت کی طرح ایک دوسرے کو لپٹی ہوئی ہڈیاں۔ کون جانے کس کا بازو کس کا زانو۔

دیکھا، نہ کوئی تک ہے نہ حساب۔ سکوت جو ہے۔ موت کا سکوت۔ جنگی جہازوں کے گڑگڑانے کے بعد شہروں کا ملبے کے ڈھیر میں بدل جانے کے بعد کا سکوت۔ لکھا تو ہیجان میں جاتا ہے۔ شور میں جاتا ہے۔

یہاں تو سب ساکن ہے۔ اچھا ہی ہے۔ ہمارے پاس لفظ نہیں رہیں گے۔ وہاں پڑھنے والے نہیں رہیں گے۔ نہ مسیحا نہ مریض۔

متاع صبر وحشت دعا کی نذر ہو گئی
امید اجر بے یقینیٔ جزا کی نذر ہو گئی

نہ اعتبار حرف ہے نہ آبروئے خون ہے
سکون ہی سکون ہے (افتخار عارف)

یوں تو کہانی کا اختتام ’اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے‘ سے ہوتا ہے۔ اگر اس سے نہ ہو تو کہانی ختم نہیں ہوتی۔ لیکن جہاں زندگی ہی ختم ہو جائے وہاں کہانی کے اختتام یا آغاز سے کسی کو کیا لگے۔ کیوں بھئی؟

ہم یوں ہی کہہ دیتے ہیں کہ حیات ختم شد۔ کہانی ختم شد۔ شور ختم شد۔
سکون ہی سکون ہے۔

Facebook Comments HS