ہندو اور ہندوستانی میں فرق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بابائے چین ماؤزے تنگ کا ایک مشہور قول ہے کہ جنگ ایک سیاست ہے جس میں خون خرابہ ہوتا ہے۔ جنگل کے دو بڑے ہاتھی اگر آپس میں لڑ پڑیں تو نقصان جنگل کا بھی ہے اور جنگل میں بسنے والے دوسرے جانوروں کا بھی۔ کون کون زد میں آ جائے کسے خبر۔ یہی صورتحال مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ حملے کے بعد دیکھنے میں آئی۔ پاکستان پر الزام لگانا وہ بھی بھارت کی جانب سے کوئی بڑی بات نہیں بلکہ معمول ہے لیکن اس مرتبہ حالات اس لیے بھی گرمائے گئے کہ کبھی سیاست کو بچانے کے لئے جنگ کا ماحول بنایا جاتا ہے اور کبھی جنگ کا ماحول ختم کرنے کے لئے سیاست کا سہارا لیا جاتا ہے۔

بھارت میں الیکشن کی آمد آمد ہے اس لیے معروف نعرہ اکھنڈ بھارت کا چورن بیچنا بھی مقصود تھا۔ ایک عجیب سی ہیجان انگیز کیفیت لیے بھارتی میڈیا نے اپنا مذاق خود اڑوانے کا کوئی موقع نہ چھوڑا۔ پاکستانی افواج، منتخب قیادت اور میڈیا کی جانب سے برداشت اور تدبر ک مظاہرہ کیا گیا جس پر سب داد تحسین کے مستحق ہیں لیکن اگر اس دوران پاکستانی عوام جو سوشل میڈیا پر موجود ہے اس کی تعریف نہ کی جائے تو زیادتی یو گی۔ بھارتی عوام کی گالیاں، دعوے اور افواہوں کا جواب لطائف سے دے کر پاکستانی نوجوانوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ہم جنگ اور جنون کے بجائے مذاق مستی کو ترجیح دینا پسند کریں گے۔

شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم گذشتہ کئیں سال خون خرابہ، بم دھماکے اور پرائی آگ کی تپش میں اپنا آپ جھلسانے کا تلخ تجربہ رکھتے ہیں۔ بہت مشکل اور کوششوں سے عوام میں شجرکاری کی آگہی پیدا کی جارہی ہے مگر بھارت نے اپنے جنون میں ہمارے درخت تباہ کر ڈالے۔ ایک کوا بھی خالق حقیقی سے جا ملا جو قیامت کے روز مودی کا گریبان پکڑے گا۔

اگلے روز جب پاکستان نے اپنا بدلہ لیا تو ایک بھارتی پائلٹ صاحب ہماری چائے پینے ہوا کے دوش پر آ گئے۔ ہجوم کو اپنے اپنے گھروں کی چپقلش اور کاروبار کی مندی کو جذبہ حب الوطنی بنا کر پائلٹ پر حملہ کرنے کا لائسنس ملنے ہی لگا تھا کہ کچھ شریف وردی والے بھائی بروقت اسے لے گئے۔ فوجی کسی بھی ملک کا ہو بہرحال سویلین سے زیادہ قیمتی اور بہادر ہوتا ہے۔ اپنی جان داؤ پر لگانا صرف ڈائیلاگ کی حد تک آسان لگتا ہے حقیقت میں خاصہ مشکل ہوتا ہو گا۔

ایک بار سوچیں اگر آپ کے شوہر، بھائی، باپ یا بیٹے کی ایسی ویڈیو جاری ہو جس میں چہرہ لہولہان ہو اور آس پاس مخالفین اسے مارنے کے در پہ ہوں تو اس وقت آپ کی کیفیت کیا ہو گی؟ آپ کی وہ رات کیسے گزرے گی جس میں آپ کو یہ پتہ ہو کہ آپ کا کوئی اپنا دشمن کی گرفت میں ہے اور آپ نہیں جانتے کہ آگے کیا ہو گا؟ ہیرو، رول ماڈل، فخر، جوان، شہید یہ سب لفاظی رہ جاتی ہے جب آپ کا کوئی بہت قریبی رشتہ جنگی جنون پہ قربان ہو جائے۔

کوئی جذبہ کسی یتیم کا باپ واپس نہیں لا سکتا، کوئی تمغہ کسی بیوہ کی زندگی بھر کا سہارا نہیں ہوتا اور کوئی مزار کسی ماں کو اس کے بیٹے کی زندگی کا متبادل نہیں دے سکتا۔ جنگ صرف ایک آگ ہے جس میں جوانوں کو جھونکا جاتا ہے اور کوئی متوازن، ہوشمند قیادت اس بات پر قطعی رازی نہیں ہو سکتی کہ بلا وجہ ایک شغل کے لئے ایک محاظ کھولا جائے۔

بات ابھی نندن کی ہو یا بھارتی طیاروں کے گھس آنے کی، ہمارے کچھ غیر محتاط خود ساختہ دانشور ایک امر بھول جاتے ہیں۔ مکار ہندو، عیار ہندو، ہندو بنیا، لالچی غاصب ہندو بولتے ہوئے وہ یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ ہندو پاکستان میں بھی ہیں۔ ہندو اور ہندوستان دو الگ الگ الفاظ ہیں۔ آپ جذبات کی رو میں بہہ جائیں، مخالف کو مغلظات بھی بک دیں مگر اس قوم کو تو بخش دیں جو آپ کے اپنے ملک کا بھی حصہ ہے۔ جو پرچم میں سفید ہیں ان پر اپنی نفرت کی سیاہی تو نہ ڈالو۔

ہمارا دوست، ڈاکٹر یا پڑوسی ہندو ہو سکتا ہے۔ آپ کی پھیلائی نفرت سے اس کی عزت نفس اور حفاظت پہ آنچ آسکتی ہے، آپ کا جذبہ، جوش اور ولولہ اس کی دل آزاری کا سامان ہو سکتا ہے اس لیے احتیاط۔ جب ہم مغرب کے مسلمانوں سے امتیازی سلوک کی بات کرتے ہیں تو ایک جملہ تواتر سے دہرایا جاتا ہے کہ کوئی مذہب دہشتگردی نہیں سکھاتا۔ خود ہمیں بھی دوسرے مذاہب کے لئے ایسے ہی برداشت اور کھلی سوچ کی ضرورت ہے کہ کسی مذہب کے ماننے والے کو ایک لیبل لگا کر پیش نہ کریں۔

دو نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان جنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر ایسے چھوٹے چھوٹے ایڈونچر بھی قیمتی جانیں گنوا جاتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی بات کہ ”جنگ شروع کرنا تو آسان ہے پھر ختم کرنے کا فیصلہ نہ آپ کے ہاتھ ہو گا نہ ہمارے“ یہ دل کو لگتی ہے۔ جذبات کو اشتعال دے کر حالات خراب کرنے میں مودی صاحب تجربے کار ہیں لیکن پاکستان اور پاکستانیوں نے جس طرح خود کو مثبت ثابت کیا وہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے اور یقینا یہ ایک نیا پاکستان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •