پاکستان – بھارت: ناگزیر ہمسائیگی اور اعتماد کا بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج صبح ڈرتے ڈرتے کمپیوٹر آن کیا کہ کوئی بری خبر سننے کو ملے گی۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک بڑی جنگ کی پیش گوئی کافی عرصہ سے چل رہی ہے کیونکہ 1947 سے جس راستے پر یہ خطہ رواں دواں ‌ ہے اس کا یہی منطقی نتیجہ ہوسکتا ہے۔ ہم دنیا کی تاریخ پر نظر ڈال کر دیکھ سکتے ہیں کہ طاقت ور افراد نے نفرت اور تفرق کی بنیادوں ‌ پر تقسیم اور جنگ سے کمزور کا استحصال کیا ہے اور خود کو مزید طاقت ور بنایا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ساؤتھ ایشین ومن فزیشن آف نارتھ امریکہ، پی اے سی یعنی پیپلز اگینسٹ کمیونلزم اور احمد آباد کے تہذیب گروپ سبھی نے جنگ اور نفرت کی مخالفت کی۔ ان خواتین اور مردوں ‌ نے انڈیا اور پاکستان کی طرف سے جنگ کے نقارے بجانے کے بجائے ایک دوسرے سے خیر سگالی کا مظاہرہ کیا۔

آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں ‌ سب ایک دوسرے سے پیچیدہ تانے بانے میں ‌ جڑے ہوئے ہیں۔ برصغیر کے افراد دنیا میں ‌ ہر جگہ موجود ہیں۔ ان کے خاندان بھی ہر جگہ موجود ہیں۔ میرا اپنا ددھیال انڈیا میں ‌ رہتا ہے اور ننھیال امریکہ میں۔ ایک مرتبہ ہمارے سکھر کے سینٹ میریز اسکول کے بچوں سے فیس گروپ پر بات ہورہی تھی۔ انہوں ‌ نے کہا کہ انڈیا اور امریکہ پر ایٹم بم گرا دینا چاہیے۔ یہ سن کر میں ‌ نے ان سے پوچھا تھا کہ میرے خاندان نے آپ کا کیا بگاڑا ہے جو آپ ہم سب کو جان سے مار دینا چاہتے ہیں؟

ہمارے اسکولوں ‌ کے بچوں ‌ کی یہ سوچ کیوں ‌ ہے؟ جب میں ‌ نے پڑھائی مکمل کرکے پہلی آفیشل جاب شروع کی تو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے اسکول کی پرنسپل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ میں ‌ ان کو سپورٹ کروں۔ اس وقت مجھے پتا چلا کہ کسی عیسائی بچی نے امتحان کے پرچے میں ‌ کچھ ایسا لکھ دیا تھا جس پر بلاسفی کا کیس بن گیا اور اسکول بند ہوگیا تھا۔ ہم دور سے یہی دیکھ رہے تھے کہ ہمارے پچھلے ملک کے لوگ وقت کے ساتھ جنونی بنتے جا رہے ہیں۔

جب ہم 1993 کی کڑکتی سردیوں ‌ میں پہلی بار ٹلسا اوکلاہوما میں ‌ اترے تو وہ میری زندگی میں ‌ پہلا موقع تھا جب مجھے دنیا کو ایک مختلف نقطہ نظر سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہمارے اپارٹمنٹ کے قریب اورل رابرٹس یونیورسٹی تھی جس میں ‌ پانچ منزلہ لائبریری تھی۔ ان دنوں ‌ میں ‌ جاب کر کے جہاز کے ٹکٹ لینے کے علاوہ، کالج سے دور اپنی پڑھائی بھی جاری رکھنے میں ‌ مصروف تھی۔ میں ‌ پیدل چل کر لائبریری چلی جاتی تھی اور سارا دن وہاں ‌ گذار کر شام کو واپس گھر آتی تھی۔

ان دنوں ‌ ہم گائٹن فزیالوجی پڑھ رہے تھے۔ اگلے سال رابنس پیتھالوجی کی موٹی کتاب دیکھ کر میرا دل ڈوب گیا تھا کہ اتنی موٹی اور مشکل کتاب کیسے ختم کریں ‌ گے؟ اورل رابرٹس میں ‌ کسی زمانے میں ‌ میڈیکل اسکول بھی ہوتا تھا جو بعد میں ‌ بند ہوگیا تھا۔ اس وجہ سے اس لائبریری میں ‌ میڈیکل کی کافی کتابیں ‌ بھی ہوتی تھیں۔ ایک دن میں ‌ نے رابنس پیھتالوجی کے سائز کی کتاب دیکھی جو صرف آنکھ کی فزیالوجی کے بارے میں ‌ تھی۔

اس سے مجھے معلوم ہوا کہ گائٹن فزیالوجی کو تسخیر کرنے کے بعد اس سے بھی آگے معلومات ہیں۔ بلکہ معلومات کبھی مکمل نہیں ہوتیں، ہمیں مستقل کھوجنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ ایک بک شیلف پر نظر دوڑاتے ہوئے مجھے ایک کتاب نظر آئی جس کا نام تھا، ٹرین ٹو پاکستان۔ ظاہر ہے کہ مجھے تجسس ہوا کہ اس کتاب میں ‌ کیا لکھا ہے؟ وہ کتاب خشونت سنگھ نے لکھی تھی۔ یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ مجھے سرحد کی دوسری طرف سے تقسیم ہند کی تاریخ اور بے گھری کوسمجھنے کا موقع ملا۔ اس وقت مجھے یہ اندازہ ہوا کہ سب انسان ایک جیسے ہیں، برابر ہیں اور تقسیم ہند صرف مسلمانوں کی تاریخ کا ہی حصہ نہیں ہے۔

حالیہ واقعات ہم سے تقاضہ کرتے ہیں کہ ہم دنیا کی تاریخ کو منقسم تاریخ‌ کی طرح‌ نہیں ‌ بلکہ عالمی انسانی تاریخ‌ کی طرح‌ پڑھیں۔ جب ہم لوگ سکھر میں ‌ رہتے تھے تو میرے ابو نے میری امی کو وہاں ‌ کی تاریخی جنرل لائبریری کی لائف ممبر بنا دیا تھا۔ وہ لائبریری پاکستان بننے سے پہلے سے موجود ہے۔ اس وجہ سے ہم لوگ جتنی چاہیں ‌ کتابیں ‌ مفت میں ‌ پڑھ سکتے تھے۔ بچپن میں ‌ ہم سب بچوں ‌ کو کہانیاں پڑھنے کی لت لگی ہوئی تھی۔

اپنے کورس سے باہر بھی ہم کافی کتابیں ‌ پڑھتے تھے۔ تقسیم ہند کے بارے میں ‌ بہت کہانیاں ‌ پڑھیں جن میں ‌ مسلمانوں ‌ کی قربانیوں ‌ اور ہندوؤں، سکھوں اور انگریزوں کے ان پر مظالم کا ذکر تھا۔ پاکستان اسٹڈیز، اسلامیات اور اس یک طرفہ لٹریچر سے ہم دنیا کو اسی نظر سے دیکھتے تھے جیسا کہ ہماری حکومت ہمیں ‌ دکھانا چاہتی تھی۔ کون سا بچہ اپنے ماں باپ، اپنی حکومت، اپنے مذہب اور اپنے ہیروز پر یقین نہیں کرتا؟ یہی وجہ ہے کہ جب ہم ہائی اسکول ختم کرکے یونیورسٹی جاتے ہیں اور ہمیں ‌ یہ پتا چلتا ہے کہ ہم سے بچپن میں ‌ جھوٹ بولا گیا تھا اور یک طرفہ تعصبی معلومات فراہم کی گئی تھیں تو اس بات پر شدید افسوس اورغصہ لازمی ہے۔

چونکہ ابو کی وفات ہوچکی تھی اور ہم لوگ امریکہ منتقل ہوگئے تھے، انڈیا کے رشتہ داروں سے رابطہ بالکل کٹ چکا تھا۔ ان کو ہم نے کافی بعد میں ‌ جاکر دریافت کیا۔ صرف ایک دو باتیں ‌ معلوم تھیں۔ ایک تو دادا کا نام اور دوسرا علی گڑھ کے پاس کوئی قصبہ سکندرہ راؤ ہے جہاں ‌ ہمارے دادا کی گلاب کے پھولوں سے مختلف چیزیں ‌ بنانے کی ایک چھوٹی سی فیکٹری تھی۔ ان دنوں ‌ ویزا اتنے سخت نہیں ہوئے تھے جیسے اب ہیں۔ اپنی زندگی میں ‌ بھی ابو انڈیا آتے جاتے تھے۔

ان کے بھائی بھی سکھر آتے تھے۔ خط وکتابت بھی قائم تھی۔ میرا بھائی علی جب انڈیا گھومنے گیا تو اس نے قصبہ سکندرہ راؤ جاکر مسجد میں ‌ ہمارے دادا کا نام لے کر پوچھا کہ کیا کوئی ان کو جانتا ہے؟ انہوں ‌ نے اس کو ہمارے دادا کے گھر پہنچا دیا جہاں ‌ اب بھی ہمارے کافی رشتہ دار رہتے ہیں۔ کچھ دہلی شفٹ ہوگئے اور کچھ علی گڑھ۔

ملک سے باہر نکل کر انڈین پڑوسیوں ‌ اور ساتھ میں ‌ کام کرنے والوں سے بھی ملنے جلنے اور بات چیت کا موقع ملا۔ ہم لوگ ایک دوسرے کے الفاظ کے چناؤ پر ہنستے تھے۔ جیسا کہ انہوں ‌ نے کہا کہ پاکستان جا کر چٹھی لکھنا یا ہم نے کہا خدا حافظ۔ میرے آفس کے پیچھے کارڈیالوجی کلینک ہے۔ ڈاکٹر مظفر پاکستانی ہیں اور ڈاکٹر ارچنا انڈین ہیں۔ ڈاکٹر مظفر اس کو مذاق میں ‌ کہتے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان تو وہ اس بات پر ہنستی ہیں۔

کشمیر سے ہم کو کون سا وظیفہ مل رہا ہے؟ کشمیر کے بے گناہ لوگوں ‌ کو کب تک سزا ملتی رہے گی؟ یہ سوال ہر ہندوستانی اور پاکستانی شہری کو اپنی حکومت سے کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں ‌ کشمیر کو دوستی بڑھانے کی جگہ بننا چاہیے جہاں ‌ ساری دنیا سے لوگ چھٹیاں منانے جائیں۔ ڈاکٹر نائلہ علی خان کے مطابق دونوں ‌ ملکوں کو کشمیر کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے شطرنج کے مہرے کی طرح‌ استعمال کرنا چھوڑ دینا چاہیے۔ دونوں ‌ کی افواج کو کشمیر سے نکل جانا چاہیے۔

انڈیا جانا، تاج محل دیکھنا اور اپنے دادا کا گھر دیکھنا میری بکٹ لسٹ میں شامل تھا۔ انڈیا میں ‌ بہت غریبی اور بدحالی دیکھی۔ تقسیم ہند کے بعد دونوں ‌ ممالک میں ‌ آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ اس خطے کے لوگوں ‌ میں ‌ ماب مینٹالٹی یعنی پرتشدد ہجوم کی ذہنیت بڑھی ہے۔ انڈیا میں ‌ تعلیم کی شرح‌ زیادہ ہے اور لوگ مختلف مذاہب کے ساتھ ساتھ موجود ہونے کی وجہ سے نسبتاً کھلے ذہن کے تھے۔ وہاں ‌ پر ہر طرح‌ کی کتابیں موجود تھیں۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ہندوستان میں ‌ بھی شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔ اپنی زندگی کے تجربے سے میں ‌ یہ بتا سکتی ہوں ‌ کہ تعلیم سے ذہن بدل سکتے ہیں۔ کیونکہ میرا اپنا بھی بدل گیا۔ ہم عام شہری ہیں لیکن ہمیں ‌ اپنی طاقت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہمیں ‌ اپنی حکومتوں اور افواج سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ‌ درست طریقے سے نبھائیں۔ اور یہ بھی کہ ہمارے بچوں ‌ کو اپنے ایجنڈوں کے لیے استعمال کرنے کے لیے ان کے اسکولوں ‌ میں ‌ تعصب، نفرت اور مذہبی شدت پسندی نہ سکھائی جائے۔

انڈیا کے حالیہ حملے میں ‌ جن افراد کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے، ان کو اپنے گھروں ‌ کی مرمت کا بل انڈیا کی حکومت کو بھیجنا چاہیے کہ وہ ان کا نقصان پورا کریں۔ ان لوگوں ‌ کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں ‌ بھی اپنی گریونس جمع کرانی چاہیے۔ جب حکومتوں ‌ کو پتا چلے گا کہ وہ اپنے فیصلوں ‌ کے نتائج کے لیے ذمہ دار ٹھہرائی جائیں گی تو وہ ہم عام عوام کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے پہلے کچھ سوچیں ‌ گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •