جنگ بھی کبھی کوئی جیتا ہے؟
آپ جانتے ہیں کہ آج کل سوشل میڈیا پر میمز (Memes) کا دور ہے۔ لمبی چوڑی تحریر لکھنے کی بجائے ایک تصویر کے ساتھ ایک مختصر جملہ، جس میں مزاح کا عنصر ہوتا ہے۔ آپ فیس بک سے واٹس ایپ اور ٹویٹر وغیرہ پر نظر دوڑائیں تو آپ کو جو چیز سب سے زیادہ وائرل ہوتی نظر آتی ہے وہ میمز ہیں۔ آج ایک بھارتی فیس بک فرینڈ کی وال پر ایک میم دیکھی، جس کی عبارت کچھ یوں تھی: (سرحد پر جو تناؤ ہے، کیا ہمارے ہاں چناؤ ہے؟ ) اتنی سی بات اور کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں۔
یوں لگا کہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کی اس سے بہترین سمری نہیں ہو سکتی۔ بھارت میں عام انتخابات پاکستان مخالف نعروں کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہوتے۔ کانگریس جیسی نسبتاً معتدل جماعت بھی الیکشن کے دوران پاکستان دشمنی کے جذبات کو ابھار کر ووٹ مانگتی ہے۔ اور جب معاملہ بی جے پی اور نریندرا مودی کا ہو، وہ بھی ایسے وقت میں جب عام انتخابات سے پہلے مودی سرکار انتہائی کمزور پوزیشن میں ہے، پاکستان دشمنی کے نام پر ووٹ بینک میں اضافے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں۔
ادویات کی قیمتیں، بھارتی روپے کی قدر میں گراوٹ، مرکزی ٹیکس ریونیو سسٹم، کسانوں کی بڑھتی خودکشیاں، نوٹ بندی مہم اور نریندرا مودی کے غیر ملکی دوروں کے اخراجات وغیرہ ایسے محاذ ہیں جہاں مودی سرکار کو مسلسل ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ دوسری جانب راہول گاندھی کانگریس کے تنِ مردہ میں نئی روح پھونکنے میں مصروف ہیں۔ بھارت کے متنوع معاشرے اور سیاسی سسٹم میں عموماً اتحادی حکومتیں تشکیل پاتی ہیں۔ جیسے پی ڈی پی، یو ڈی اے وغیرہ۔
تو اس وقت اپوزیشن جماعتیں کانگریس کے ساتھ متحد ہوتی نظر آرہی ہیں۔ بنگال میں ممتا بینر جی مودی سرکار کے لئے ٹھیک ٹھاک مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ اسی طرح بہار، یو پی، مہاراشٹر اور راجدھانی دہلی میں مودی سرکار مشکل میں نظر آ رہی ہے۔ اس دوران کشمیر میں گزشتہ تین سال سے جاری انتفادہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتا نظر آ رہا تھا۔ محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی اتحاد کے ساتھ بڑھتی مشکلات میں نیشنل کانگریس اور بی جے پی کا اکٹھے انتخاب لڑنا نظر نہیں آ رہا۔ دوسری جانب خود بھارتی مبصرین اور غیر ملکی ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اس انتفادہ کو پاکستان سے کسی قسم کی سپورٹ حاصل نہیں۔ یہ خالصتاً کشمیریوں کی اپنی مہم ہے۔
تو صاحبو یہ تھے وہ عواقب جن کی روشنی میں لائن آف کنٹرول پر جارحیت اور پلوامہ حملہ نوشتہ دیوار تھا۔ پلوامہ حملے کی تحقیقات میں بھی یہ جانا جا چکا ہے کہ خودکش حملہ آور کا مقامی کشمیری شہری تھا جس کا نام عادل احمد ڈار تھا۔ حملے کی ذمہ داری جیشِ محمد نے قبول کی، اور یقین کیجئے کہ عقل سمجھنے سے قاصر ہے کہ کیوں کی۔ بین السطور ایسے عوامل نظر نہیں آتے کہ جیش کا اس کارروائی سے تعلق ہو، لیکن اور اگر ہو بھی تو کیا یہ ذمہ داری قبول کر کے آپ پاکستان کی مدد کر رہے ہیں یا پاکستان کے لئے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں؟
دنیا میں حالیہ کشمیری مہم کو پذیرائی ہی اس لئے مل رہی ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ اس بار انتفادہ کے پیچھے پاکستانی عسکری عناصر نہیں۔ اب خود کو دوبارہ سے خبروں میں زندہ کرنے کے لئے آپ حملے کی ذمہ داری تو قبول کر رہے ہیں، لیکن پاکستان کو مشکل صورتحال میں ڈال رہے ہیں۔ یہ اداروں میں ان عناصر کے لئے بھی سوالیہ نشان ہے جو ایسے لشکروں کو پالتے ہیں۔
گذشتہ چند روز لائن آف کنٹرول پر سخت کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ 26 فروری کو رات کے اندھیرے میں بھارتی طیاروں نے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی اور بھارتی حکومت نے بالاکوٹ کے علاقے میں جیش محمد کے تربیتی مرکز پر حملہ کر کے تین سو دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ آئی ایس پی آر اور پاکستانی میڈیا بار بار کہتا رہا کہ یہ ضلع مانسہرہ والا بالاکوٹ نہیں بلکہ کنٹرول لائن سے چار کلومیٹر دور ایک چھوٹا گاؤں بالاکوٹ ہے، تاہم بھارتی میڈیا بار باربالاکوٹ، خیبر پختونخواہ کا نام لیتا رہا۔
بھارتی حکومت اور میڈیا حملے کا کوئی ثبوت دکھانے میں ناکام رہے جبکہ پاکستان نے صحافیوں کو مذکورہ مقام کا دورہ کروا دیا اور دنیا کو دکھا دیا کہ بھارت نے سرجیکل سٹرائیک کے نام پر ایک بار پھر بھونڈا ڈرامہ رچایا ہے۔ اگلے روز دن کے اجالے میں پاکستان ائیر فورس نے دشمن کے دو مگ 21 طیارے مار گرائے، جبکہ ایک پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو گرفتار کر کے اس کی ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کی۔ اسی روز بھارت نے ایک پاکستانی ایف سولہ طیارہ گرانے کا دعویٰ کیا۔ جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح طور پر کہا کہ ایف سولہ طیارے اس آپریشن کا حصہ نہیں تھے۔ اگلے روز بھارتی سینئر حکام کی پریس کانفرنس میں ایک چھوٹے میزائل کا ملبہ دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ میزائل صرف ایف سولہ ہی اڑا سکتا ہے۔
سرحدی کشیدگی تو جانے کس سمت چلے اور کتنے روز اور چلے۔ لیکن دونوں ممالک کے عوام کو یہ سوچنا ہو گا کہ کیا جنگ کسی مسئلے کا حل ہے۔ پاکستان فوبیا کا شکار بی جے پی اور وار ہسٹیریا میں مبتلا بھارتی میڈیا لگاتار جنگی جنون کا شکار نظر آتے ہیں۔ گذشتہ چند روز تواتر سے مغربی میڈیا کے علاوہ بھارتی چینلز کو بھی فالو کیا۔ یوں لگا کہ پوری بھارتی میڈیا ارناب گوسوامی اور سمت پاٹرا جیسے ذہنی مریضوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔
بھارت میں اگلے دو ماہ میں قومی انتخابات مکمل ہوں گے۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ بھارت میں انتخابات ایک ہی روز نہیں ہوتے بلکہ مرحلہ وار ہوتے ہیں۔ بی جے پی کو پانچ ریاستوں میں شکست ہو چکی ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے لئے پاکستان دشمنی اور بھارت ماتا کی حفاظت کے نام پر ووٹ مانگے جائیں گے۔ لیکن اس دوران دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات مزید خراب ہو چکے ہوں گے۔ آج جب وزیراعظم عمران خان نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا بیان دیا، تو بھارتی میڈیا میں اسے بھارت کی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔ ایسے رویوں سے دو ایٹمی قوتوں کو جنگ کے دہانے پر دھکیلا جا رہا ہے۔
پاکستان اور بھارت چار روایتی جنگیں لڑ چکے ہیں۔ لیکن ان دونوں ملکوں نے جنگ کی حقیقی تباہی نہیں دیکھی۔ یہ جنگیں عموماً محدود علاقوں میں لڑی گئیں جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں معمولاتِ زندگی زیادہ متاثر نہیں ہوئے۔ جنگ کی حقیقی تباہ کاریوں کے شکار تو یورپ، امریکا اور جاپان جیسے ممالک ہوئے ہیں، جہاں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے۔ انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ یہاں جنگ کو فی الحال چسکے بازی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ جیسے ہی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے مغربی ممالک فوراً سرگرم ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دنیا ان دو امیچور ملکوں کے درمیان جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
یہاں یہ بھی ذکر کرنا ضروری ہو گا کہ دونوں ملکوں کے عوام جنگ نہیں چاہتے۔ یہ افواج کی مسابقت، سیاسی رہنماؤں کے مفادات اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے مقاصد ہیں جو خطے میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتے۔ ناچیز کو دو بار بھارت جانے کا موقع ملا۔ یقین مانئے کہ لوگ محبتیں بانٹتے ہیں، روابط بڑھانا چاہتے ہیں۔ لیکن چند انتہا پسند پورے امن عمل کو ہائی جیک کر لیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں سرحدی کشیدگی اور جنگ کے حوالے سے ایک نظم کہی تھی۔ اس کا کچھ حصہ احباب کی نذر ہے۔
آؤ جنگ جنگ کھیلتے ہیں
جانتے ہو ناں تم
مانتے ہو ناں تم
ایٹم کی جنگ میں مرتے وہ نہیں
جو آن کی آن میں ہلاک ہو جاتے ہیں
وہ تو بس مٹ جاتے ہیں
ایک لمحے میں مٹی کا رزق ہو جاتے ہیں
لمحہ لمحہ مرتے تو وہ ہیں جو زندہ بچ جاتے ہیں
جن کی مٹی سبزہ اگلنے سے انکار کر دیتی ہے
جن کے بچے بھی مردہ جنم لیتے ہیں
اور گر مردہ نہ بھی ہوں تو
مرے برابر ہی سمجھو
یہ جانتے ہو ناں تم
مانتے ہو ناں تم
کہ اس سرحد کے، اس ریکھا کے دونوں طرف
بھوک چھا جائے گی
موت رقص کرے گی
چلو مل کر یہ رقص دیکھتے ہیں
آؤ جنگ جنگ کھیلتے ہیں
یہ لوگ جن کے باپ دادا
یہی کچھ دو تین پیڑھی پہلے
ایک ہی دیس کے باسی تھے
آج کیسے ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں
تم تو جانتے ہو
یہ نفرت کے بیج ہم نے ملکر ہی تو بوئے ہیں
کچھ پاک دھرتی کے بیٹے ہم نے وارے ہیں
کچھ بھارت ماتا کے سپوت تم نے کھوئے ہیں
تو پھر چلو کھیل شروع کریں
نفرتوں کے بیج جو بوئے تھے
سو اب دشمنی کی فصل تیار ہے
کچھ لاکھ یا کچھ کروڑ فالتو لوگوں کو
جنگ میں جھونکتے ہیں
ہم ہی اک دوجے پہ وار کرتے ہیں
ہم ہی ایک دوسرے کے وار جھیلتے ہیں
آؤ جنگ جنگ کھیلتے ہیں


