انڈین پائلٹ وی آئی پی تھا, اس لئے چھوڑ دیا


کام کرنے والے کو ہمارے ہاں کمی کہتے ہیں اور نکمے کو چوہدری۔ اسلام آباد کے ایک حصے کو ایمبیسیڈر انکلیو کہتے ہیں (جہاں ساری دنیا کے چوہدری رہتے ہیں ) اس کے ساتھ وی آئی پی سیکٹرز ہیں۔ جہاں ہمارے چوہدری رہائش پذیر ہیں۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ اسلام آباد میں صرف وی آئی پی یعنی چوہدری رہتے ہیں۔ گھروں، کاروں اور باتھ روموں کی صفائی ستھرائی (ہمارے ہاں صفائی کرنے والے کو گندہ اور گند پھیلانے والے کو صفائی پسند کہتے ہیں ) کے لئے، خوبصورت باغیچے لگانے، قسم قسم کے بنگلوں اور کوٹھیوں کو رنگنے، کتے ٹہلانے، بچے کھلانے، کھانے پکانے اور کھلانے، بچوں کو پڑھانے اور یہاں کے مکینوں کی حفاظت کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔

لیکن ان لوگوں کے دل اسلام آباد میں نہیں لگتے نہ یہ خود کو اسلام آباد والے سمجھتے ہیں۔ یہ دانہ چگنے والے پرندوں کی طرح مالکوں سے بچے ہوئے چرائے گئے کھانے اور ان کے استعمال شدہ کپڑے مکی ہوئی تنخواہوں سمیت جلد ازجلد وہاں جانا چاہتے ہیں۔ جہاں ان کے گھونسلے ہیں۔ جن میں بھوکے بچے منہ کھولے ٹوٹے ہوئے کواڑ کے پیچھے پردہ اٹھنے اور ماں باپ کے چہرے دیکھنے کے منتظر ہوتے ہیں۔ چھوٹے گھر اور بڑے کنبوں کے یہ عام لوگ یو آئی پی ہوتے ہیں۔

یعنی ان ائڈینٹیفائد پرسنز۔ بے شناخت لوگ۔ جس طرح اسلام آباد ہمارا چوہدری ہے۔ اسی طرح ہم کمی کمین۔ اگر اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ تو اطلاع دیتا ہوں۔ کہ وی آئی پی لوگوں کی قبرستان بھی یو آئی پی لوگوں سے الگ حصے اور درجے میں ہیں۔ اگر آپ وی آئی پی قبرستان نہیں جانتے۔ تو نشانی یہ ہے۔ کہ یہاں سالوں بھی کوئی فاتحہ پڑھنے نہیں اتا۔ کیونکہ پسماندگان مصروف ہوتے ہیں یا ملک سے باہر۔

وی آئی پی اور یو ائی پی کا تصور سب سے پہلے کس نے دیا۔ اپنی کم علمی کی بناء پر یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ ارسطو اور افلاطون کے مثالی شہروں نظریوں اور ریاستوں میں بھی مالک اور غلام موجود تھے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آخری سانسوں میں دردمند دل کے ساتھ غلاموں کے حقوق کی ہدایت فرماتے فرماتے دنیا سے تشریف لے جاتے ہیں۔ کارل مارکس نے اسی طبقاتی نظام اور انسانی درجہ بندی پر، انسان دوستی پر مبنی آپنے نظام کی بنیادی ڈھانچہ استوار کیا۔

ایک چھوٹے سے گاؤں سے لے کر جدید ترین معاشرے پر آباد ترقی یافتہ شہر تک ہر جگہ یہ نظام پایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آخرت میں بھی یہی نظام ہوگا۔ کیونکہ جنت اور دوزخ بھی الگ الگ معیار اور سائیز کے ہوں گے۔ مساوات ریاضی کی کتاب میں موجود نشان (=) کے علاوہ حقیقت میں کہیں نہیں۔ یہاں تک کہ موت یعنی جنگ میں بھی وی آئی پی آبادیوں اور تنصیبات کی حفاظت کے لئے ممکنہ حد تک حفاظتی موجود اور مستعد ہوتا ہے۔ اور غیر اہم لوگوں کی بستیاں اور گردآلود شہر موت کی شکار گاہ بنے ہوتے ہیں۔

جنگ تو نہیں لیکن ہم حالت جنگ میں ضرور ہے۔ جنگ اور حالت جنگ میں اعلان جنگ کا فرق ہوتا ہے۔ ہندوستان کے جہاز دوسری دفعہ حملہ کرنے آئے۔ تو ایک جہاز گراگیا۔ پائیلٹ زندہ گرفتار ہوا۔ جو بڑی بڑی جاندار مونچھوں کا مالک ونگ کمانڈر ابھے نیندن وردھمان مہاویر نکلا۔ ایک ریٹائرڈ انڈین ایئر مارشل جناب وردھمان صاحب کا سپوتر۔

اس کے جہاز میں ہمارے شہروں پر گرانے کے لئے مہلک اور تباہ کن بم تھے۔ ہمارے اہم تنصیبات کو اڑانے اور قیمتی جہازوں کو گرانے کے لئے میزائل تھے۔ وہ بے شک موت بانٹنے آیا تھا۔ یمراج تھا یمراج۔ وہ رنگے ہاتھوں اور خون الود ناک کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔ ہم نے قیدی کے ساتھ انسانیت والا سلوک کیا جس کو آج وزیراعظم صاحب نے خیرسگالی کے جذبے کے تحت واپس کرنے کا اعلان کیا۔

بین الاقوامی جنگی قوانین کے تحت جنگی قیدیوں کو بہت سارے حقوق حاصل ہیں۔ جن میں قیدیوں کا باہمی تبادلہ اور رہائی بھی شامل ہے۔ لیکن یہ خوش قسمت پائلٹ اگرچہ رہا ہونے جا رہا ہے (اگر کوئی یوٹرن نہ آئی) لیکن قانونی طور پر اتنا بدنصیب ہے۔ کہ اس پر جنگی قیدیوں والا قانون لاگو ہی نہیں ہوتا۔ کیونکہ جنگ شروع ہی نہیں ہوئی۔ اعلان جنگ ہوئی ہی نہیں تو جنگی قیدی کیسا اور جینیوا کنونشن کون سا؟

جنرل اسد درانی نے اپنی متنازعہ اور مشہور کتاب میں لکھا ہے کہ بمبئی تاج ہوٹل والے حملوں کے دوران اس کا بیٹا بھارت میں تھا۔ سفری کاغذات نامکمل تھے۔ جس کی وجہ سے وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوکر گرفتار ہوسکتا تھا۔ بیٹے نے جنرل صاحب کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ جنرل صاحب نے ایک ہم منصب بھارتی جنرل کو فون کیا اور بھارتی جنرل نے جنرل درانی کے بیٹے کی مدد کرکے بھارت سے بحفاظت نکال لیا۔ 1965 کی جنگ میں ابھے نیندن کی طرح ایک بھارتی پائیلٹ جہاز گرنے کے بعد گرفتار ہوا۔ خوش قسمتی سے وہ بھی بھارتی ایئر چیف کا بیٹا تھا۔ خود صدر ایوب خان کے ساتھ چائے پینے کی شرف سے سرفراز ہوا اور چند دن کے بعد ماما پاپا کے پاس بھیجا گیا۔

یو ائی پی لوگ اپنے گندے بیٹے کے لئے چین کا بنا ہوا کھلونا جہاز خرید کر دیتے ہیں اور گلی میں کھیلنے بھیجتے ہیں۔ وی آئی پی لوگ اپنے ڈئیر سن کو حقیقی جہاز مہلک اسلحے سمیت دیتے ہیں اور ہمسایہ ملک پر بمباری کے لئے بھیجتے ہیں۔ لیکن فکر کوئی بات نہیں۔ ہمسایے چائے پلا کر واپس بھیج دیتے ہیں۔ کیونکہ بچے تو سب کے ہوتے ہیں۔ کیا ہمارے بچے نہیں؟ یا وہ افسر اور پائلیٹ نہیں؟

دوسری طرف یو آئی پی لوگوں کے بے نام اور بے شناخت مقبول حسینوں کو عشروں تک تعذیب خانوں اذیت پسندوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ ہڈیاں توڑی جاتی ہیں۔ ناخن نکالے جاتے ہیں زبانیں کاٹی جاتی ہیں۔ اور جب وہ اپنے اور دشمن میں فرق کرنے کے قابل نہیں رہتے تو واپس بھیجے جاتے ہیں۔ تاکہ سند رہے۔ دوسری طرف بے حیثیت کلبھوشنوں کو شیشے کے مرتبان میں اچار کی طرح، بوڑھی ماں اور بے بس بیوی کے سامنے سجا کر تماشا بنایا جاتا ہے۔ تاکہ سند رہے۔ یہی حالت مزدوری کی تلاش میں نکل کر پھنسنے والے کرنل حبیب کی ہے۔ جو رزق کی تلاش میں اندھیرے تہہ خانوں کے سیلن زدہ ماحول میں کسی زنگ شدہ زنجیر کی طرح پڑا کراہ رہا ہوگا۔ لیکن اس کے بچوں کے علاوہ کوئی اس کا نام لیوا نہیں۔ کیونکہ وہ یو آئی پی تھا۔ جی ہاں! یو آئی پی نہ ہوتا تو مزدوری کے لئے نیپال جاتا؟

دوران جنگ جنگی قیدی اور گرے ہوئے پائلٹ صدام حسین نے بھی واپس کیے تھے۔ کسی نے اسے معاف نہیں کیا۔ جنگ ہو کے رہی۔ پشتو میں کہتے ہیں۔ جنگ میں مٹھائی نہیں بانٹی جاتی گالیاں دی جاتی ہے۔ دوران جنگ دشمن کے قیدی واپس کرنے کو خیرسگالی نہیں بزدلی اور کمزوری سمجھی جاتی ہے۔ میں ذاتی طور پر جنگ کو مجموعی انسانی دانش کا دیوالیہ پن سمجھتا ہوں۔ لیکن یاد رکھے جنگ میں مٹھائی نہیں بانٹی جاتی۔

کلبھوشن بھی بغیر ویزے اور دو نمبر پاسپورٹ پر ایا تھا۔ تو کیا ابھے نیندن ویزے اور پاسپورٹ لے کر ایا تھا۔ غلطی سے سمندری حدود کراس کرنے والا مچھیرا اور مویشی چرانے والا چرواہا بھی عدالتی نظام کا سامنا کرتا ہے اور مقررہ قید کاٹ کر جاتاہے۔ پھر اسلحے بارود سمیت پکڑا جانے والا ابھے نیندن کیوں نہیں؟ کیونکہ وہ وی آئی پی ہے، وی آئی پی کا بیٹا ہے۔ کم ازکم جنگ تو برابری کے سطح پر لڑنی چاہیے۔ ممالک اور قوموں کی جنگ کو طبقاتی جنگ نہ بنائی جائے۔

کاش چلچلاتی دھوپ، برستی بارش اور گرتی ہوئی برف میں چٹان کی طرح کھڑا فرض نبھانے والا میرا سپاہی اتنا قیمتی اور معتبر ٹھہرے کہ دشمن اس پر گولی چلانے سے پہلے ہزار دفعہ سوچے۔ کہ پاکستانی سپاہی ہے۔ گولی ماروں گا۔ تو میری اور میرے ملک کی خیر نہیں۔ گھر میں گھس کر بدلہ لینے آئیں گے۔ اے کاش اس دھرتی کا ہر بیٹا وی آئی پی سمجھا جائے۔ کیونکہ گھر میں تو ہر کوئی وی آئی پی ہوتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 96 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani