معاملہ ٹھنڈا ہو گیا مگر معاملات لشکر و جیش کا کیا ہو گا؟
حالیہ سرحدی تناؤ کا ایک پہلو جس کا میڈیا میں خاص ذکر نہیں ہوا۔ پلوامہ حملے کی ذمہ داری جیشِ محمد نے قبول کی۔ جیسا کہ تحقیقات میں واضح ہو چکا ہے کہ خودکش حملہ آور عادل ڈار مقبوضہ کشمیر کا شہری تھا اور حملے میں استعمال ہونے والا بارودی مواد مقامی طور پر خریدا گیا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ 2005 کے بعد سے جہادی تنظیمیں اتنی فعال نہیں ہیں۔ لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کالعدم ہو چکی ہیں اور ان پر مختلف ادوار میں پابندیاں لگتی رہی ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر بارڈر سیکورٹی کا سخت نظام ہے، دونوں جانب کڑے پہرے ہیں۔ ایسے میں لائن آف کنٹرول پار کر کے مجاہدین کو جموں میں پہچانا قریب قریب ناممکن ہے۔
آزادی کشمیر کی حالیہ تحریک یا انتفادہ کی عالمی پذیرائی کی واحد وجہ یہ ہے کہ اس بار یہ تحریک خود کشمیریوں نے شروع کی ہے۔ اس تحریک کے چہرے اور پسِ پردہ عوامل کا دور دور تک پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ نائن الیون کے بعد بھارت میں ہوئی کسی بھی کارروائی کا نقصان بھارت سے زیادہ پاکستان کو ہوتا ہے۔ اس لئے صدر مشرف کے دور سے جہادی تنظیموں کو غیر فعال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔
اب اگر جیش ایک ایسے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے جو اس نے ظاہری طور پر نہیں کیا، تو اس سے کیا پاکستان کا فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان؟ اور با الفرض یہ کارروائی آپ نے ہی کی ہے، اور آپ اپنی دانست میں اسے درست بھی سمجھتے ہیں، تو کیا ایسے بیان دے کر آپ تحریکِ آزادی کشمیر اور پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں یا پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟ اگر تو آپ کا مقصد بھارت کو نقصان پہنچانا تھا تو آپ صریحاً ناکام رہے ہیں۔
بھارت کو عام انتخابات سے پہلے ایسے موقع کی تلاش تھی۔ ایک ایسا واقعہ جو قرین قیاس طور پر بھارتی ایجنسیوں نے خود کروایا، اور بالفرض آپ نے بھی کیا تو گذشتہ دو ہفتوں کے واقعات کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی اور نریندر مودی کو ہوا۔ ایسے نادان دوستوں کا کیا فائدہ کہ دشمن کو اگلے الیکشن میں فتح کے لئے زبردست مدد فراہم کی ہے۔
جیش محمد کے معاملے کو پاکستانی ریاست نے ایک بار پھر غلط طریقے سے ہینڈل کیا۔ بھارت نے حسبِ روایت الزام پاکستان پر دھر دیا۔ اب تو یہ معمول ہے کہ جب بھی بھارت میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو بریکنگ نیوز میں ہی الزام پاکستان، لشکرِ طیبہ اور جیش محمد پر دھر دیا جاتا ہے۔ بہرحال پاکستان نے واضح طور پر تردید کی اور تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی۔ اس کے علاوہ حملہ آور کے کشمیری شہری ہونے کا نکتہ بھی اٹھایا۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا۔ لیکن معاملے کو سرحدی تناؤ تک پہنچانے کے ذمہ دار آپ بھی برابر ہیں۔
گذشتہ ہفتے، صحافیوں کو جیش محمد کے مدرسہ و مرکز کا دورہ کروایا گیا۔ اگرچہ اس سے غلط پیغام گیا۔ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ جیش کالعدم جماعت ہے اور اس کا کوئی وجود نہیں، دوسری طرف ہم صحافیوں کو ریاستی سطح پر جیش کے مراکز کا دورہ کرواتے ہیں۔ خیر یہاں تک بھی ٹھیک تھا۔ اس کے بعد حکومتِ پاکستان نے جماعت الدعوة (لشکرِ طیبہ کی ذیلی جماعت اور متبادل نام) ، فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن اور جیش کے ذیلی اداروں پر پابندی لگا دی۔
اب ایک لمحے کے لئے اپنے آپ کو ایک تیسرے فریق کے طور پر فرض کیجئے، اور بتائے کہ آپ کس بات پر یقین کریں گے۔ پہلا بیان: ہمارے غیر ریاستی عناصر اس واقعے میں ملوث نہیں، دوسرا بیان: آپ بے فکر ہو جائیں، ہم نے ان پر پابندی لگا دی ہے۔ معلوم نہیں کون سے بزرجمہر ہیں، جو ایسے بے تکے مشورے دیتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے ہم کئی سال دعویٰ کرتے رہے کہ ہمارا افغان طالبان پر کوئی رسوخ نہیں، اور اب ہم افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کا کریڈٹ بھی لے رہے ہیں۔
یقین کی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ جیش کا پلوامہ حملے سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسے بیان عموماً اپنے آپ کو خبروں میں زندہ رکھنے اور دشمن پر اپنی دہشت بٹھائے رکھنے کے لئے داغے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں کہ میریٹ حملے، بینظیر قتل کیس اور دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں حملے کی ذمہ داری ایک گروہ نے قبول کی، تحقیقات کے بعد دوسرا گروہ ملوث نکلا۔ جس نے آپ کو نقصان پہنچانا ہے، وہ کمپنی کی مشہوری نہیں کرے گا۔
جیش اور لشکرِ طیبہ جب واقعتاً کشمیر میں مسلح تحریک کا حصہ تھیں، اس وقت تو انہوں نے کبھی کسی واقعے کی ذمہ داری نہیں قبول کی۔ اب ایسے نازک وقت میں جب بھارت کے عام انتخابات کی آمد آمد ہے، اور مودی کو سرحدوں پر تناؤ کی سخت ضرورت ہے، کس دانشمند کے کہنے پر پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی۔ جبکہ تحقیقات میں آپ کا کوئی تعلق اس واقعے سے ثابت نہیں ہوا۔ خبروں میں رہنے کے لئے ایسی بھونڈی حرکتیں کر کے آپ پاکستان کو نہیں، بھارت کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
یہاں ان تمام افراد اور حلقوں سے بھی سوال کیا جانا چاہیے جو دامے درمے سخنے جیش کی حمایت کرتے ہیں اور اسے ممکنہ حد تک فعال رکھتے ہیں۔ ایک ایسا قدم جس کا نقصان پاکستان کو ہوا ہے، یا ہو رہا ہے، سرحدی تناؤ میں کئی شہری جان سے جا رہے ہیں، فوج ہائی الرٹ ہے، فوجی نقل و حرکت پر بھاری سرمایہ خرچ ہو رہا ہے، دنیا میں پاکستان کی سبکی ہوئی۔ اور جو بھی اس احمقانہ قدم کا ماسٹر مائنڈ ہے، اس سے سوال ہونا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سوال کون کرے گا؟




