مولانا عبید اللہ سندھی کے غیر روایتی مذہبی افکار


تحریر: دلاور حسین

مولانا عبید اللہ سندھی ( 1872۔ 1944 ) صرف ایک سیاسی اور ا نقلابی رہنما ہی نہ تھے بلکہ برصغیر پاک وہند کے آزاد خیال، اصلاح پسند، ترقی پسند اور جدت پسند مذہبی مفکر تھے۔ مولانا صاحب شاہ ولی اللہ دہلوی ( 1703۔ 1762 ) کے جدت پسندانہ مذہبی افکا ر سے متا ثر تھے۔ اگرچہ مولانا صاحب رجعت پسند روایتی مذہبی خیالات رکھنے والے روایتی دینی مدرسہ دارالعلوم دیوبند سے تربیت یافتہ تھے تاہم قدامت پسندانہ مذہبی خیالات سے واضح او ر شدید اختلاف رکھتے تھے۔

آپ کا شما ر ان مذہبی مفکّرین میں ہوتا ہے جنہوں نے جدید دور کی ضروریات اور وقت کے تقاضوں کو کھلے دل سے قبول کر کے رجعت پسندی اور جدّت پسندی میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی مخلصانہ کوشش کی۔ آپ نے رسمی عبادات کی بجائے قرآن کے اصل پیغام، مقصد ا ور روح کو سمجھنے پر زور دیا۔ آپ نے مسلم فقہ کی نئے سرے سے تشریح کی ضرورت محسوس کی۔ آ پ کا خیال تھا کی وقت گزرنے کے ساتھ فقہ کی روایتی تشریح متروک ہو چکی ہے جسے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

نہ صرف فقہ بلکہ آپ نے قرآن کی چند آیات کی مدلل وضاحت رویتی تراجم وتشریحات سے ہٹ کے پیش کی۔ آپ کی شخصیت کے سیا سی پہلووں و خدمات کو تو ناقدین و تجزیہ نگاروں نے اجا گر کیا ہے تاہم باوجود آپ کی مدلل، روشن خیال، ترقی پسند عظیم مذہبی رججانات و خدمات کے لکھاریوں نے نہ ہونے کے برابر تبصرہ کیا ہے۔ پیش کرد ہ مضمون میں مولانا سندھی کی نمایاں مذہبی افکار پر مختصر تبصرہ و تجزیہ پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔

1857 کی جنگ آزادی کے بعد مغل سلطنت کا خاتمہ ہوا اور انڈیا پر برطانوی راج بلاواسطہ شروع ہوا۔ مسلمانوں سے حکومت چھن جانے کے بعد برطانوی راج کے بعد پید ا ہونے والے صورتحال سے نپٹنے کے لیے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے مختلف طبقات اور شخصیات کی جانب سے مختلف ردعمل آیا۔ اس رد عمل کو ان کے برطانوی راج کے بارے نظریات و خیالات کی بنیاد پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ بعد نے برطانوی تسلط کو مکمل طور پر قبول کیا، بعد نہ مکمل طور پر مسترد کیا، بعد گوں مگوں کی کیفیت میں تھے اور بعد نے جزوی طو ر پر قبول کیا اور جزوی طور پر مسترد کیا۔

ا ن شخصیات میں سے سب سے پہلے سر سید احمد خان، کا نام آتا ہے جو مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے مذہبی اور سائنسی تعلیم دونوں کو لازم وملزوم سمجھتے تھے۔ ان کے بعد سید امیر علی اور علامہ اقبال جیسے عظیم مفکرین جدید و قدیم کے امتزاج کا پر چار کرتے رہے۔ اس کے بر عکس مذہبی گرہوں کا رد عمل یکسر مختلف تھا۔ سب سے نمایاں دار العلوم دیو بند کے علماء تھے جنہوں نے جددیت کو کلی طور پر رد کیا۔ در اصل سر سید کی تحریک علی گڑھ اور دار العلوم دیوبند دونوں جدت کے بارے یکسر مختلف نقطہ نظر رکھتے تھے۔ او ر ان دو مختلف نظریات رکھنے و الے مسلمان گروہوں یکجا کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہو پا رہی تھی۔ ان حالات میں مولانا عبید اللہ سندھی نے جدید او ر قدیم میں ہم آہنگی پیدا کر کے مسلم معاشرے کی علمی، سیاسی، سماجی او ر مذہبی ترقی کا علم بلند کیا۔

مولانا عبیداللہ سندھی کی پیدائش 1872 میں سیالکوٹ کے ایک سکھ گھرانہ میں ہوا۔ زمانہ طالب علمی میں آپ نے اسلام قبول کر لیا جب آپ کی عمر بمشکل سولہ برس تھی۔ اس کے بعد مختلف دینی مدارس جن میں بھرچونڈی (گھوٹکی، سندھ) ، دین پور (رحیم یار خاں، پنجاب) اور پاک وہند کی معروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند سے دینی تعلیم حاصل کی۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے علما ء سے علم حاصل کرنے کے باوجود مولانا سندھی نے اپنے اساتذہ کے روایتی اور قدامت پسندانہ افکا ر و نظریات سے واضح اختلاف کیا۔ ہندوستان کی مختلف دینی درسگاہوں میں تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک جن میں ترکی، روس اور حجاز کے دوروں سے حاصل ہونے والے تجربات ومشاہدات نے آپ کے مذہبی وسیاسی سوچ پر گہر اثر چھوڑا۔

آپ نے روس سے انقلابی اشتراکیت اور ترکی سے کمال اتاترک ( 1881۔ 1938 ) کے ترقی پسندانہ خیالات کا بغور مشاہد ہ کیا۔ ان اسفا ر نے آپ کو مسلمانوں کے حالات کے ساتھ سا تھ ان کے مسائل و مشکلات کا مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اسلامی دنیا کے مشاہدات نے آپ کو مسلمانوں کے مذہبی عقا ئد ورسومات کے متعلق مسائل کے حل اور اصلاحات میں مدد کی۔ مولانا سند ہی بلند اصلاحی سوچ اور جوش وخروش کے ساتھ انڈیا واپس لوٹے۔ مولانا صاحب نے مسلمانوں کی زندگی کے مذہبی پہلووں کی اصلاح ودرستی کے مقصد کے لیے اقدامات اٹھائے۔

اس مقصد کے لئے آپ نے بے شمار کتب و رسائل لکھے۔ آپ نے سیاسی افکار کے لیے اپنی سرگزشت ْ ذاتی ڈائریْ اور ْ کابل میں سات سال ْ کے عنوان سے تحریر کی۔ تاہم مذہبی رججانات کے اظہار کے کیے مندرجہ ذیل اہم کتب لکھیں : تفسیر المقام المحمود (قرآن پاک کی سندھی زبان میں تفسیر) ، الہام الرحمن و تفسیر القرآن، قرآن کا مطالعہ کیسے کیا جائے، قرآنی اساس انقلاب، قرآنی دستور انقلاب، قرآنی فکر انقلاب، قرآنی جنگ انقلاب، قرآنی عنوان انقلاب، قرآنی اصول انقلاب، َِ افادات و ملفوظات حضرت مولانا عبید اللہ سندھی اور شاہ ولی اللہ اور ان کا فلسفہ نمایاں ہیں۔

ان تمام کتب وتفاسیر میں مولانا سندھی نے ترقی پسند اسلام کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مولانا صاحب آزاد خیال اور تعصب سے پاک روادار سوچ کے مالک تھے۔ آپ قرآن کی عالمگریت کے ماننے والے تھے۔ شاہ ولی اللہ کی طرح مولانا سندھی بھی قدامت پسند علماء کی قرآن کی آیات کے نزول کے بارے رائے ناقد تھے۔ آپ کا کہنا تھا کہ یہ علماء قرآنی آیات کے مخصوص سیاق وسباق پر اصرار کر تے ہیں نہ کے قرآن کے بنیادی مقصد اور پیغام پر۔ آپ کی رائے تھی کی اس طرح کا اصرار قرآن کے پیغام کی عالمگیریت کو مخصوص حالات تک محدود کر دیتاہے۔

آپ کے مطابق تمام مذاہب کی تمام مقدس کتب نے بھی اپنے اپنے ادوار وہ ہی حقیقت آشکار کی جوقرآن نے کی ہے۔ تاہم قرآن پچھلے تمام صحائف کی جدید اور خدا کے پیغام کی آخری و حتمی شکل ہے۔ آپ کا نقطہ نظر تھا کی قرآن تمام انسانوں کے اتحاد کا مظہر ہے۔ اور قرآن کا عالمگیرپیغام نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ یقیناًتما م بنی نوع انسان کے لیے ہے۔ آپ نے دلیل دی کی قرآن دو عناصر کا منبع ہے ایک حکمت اور دوسرا قوانین۔ حکمت عالمگیر، دائم، آفاقی ناقابل تبدیل اورسب کے لیے ہے جبکہ قوانین زمان ومکان تک محدودومخصوص ہیں۔

آپ کے مطابق دیگر مذاہب کے پیروکار مثلا ہندو، یہودی اور عیسائی تمامی دین حنیف پر ہیں اگرچہ وہ شریعت محمدی کی رو سے مسلمان نہیں ہیں۔ آپ کا ماننا تھا کہ مسلمان وہ ہے جو خدا کی اطاعت گزرا اور فرمانبردارہے۔ اس لئے جو لوگ خدا کے احکامات کی اطاعت کرتے ہیں بھلے وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہیں وہ مسلمان شمار ہو ں گے۔ ایک دفعہ دارالعلوم دیوبند میں مسئلہ تبلیغ پر مباحثہ ہو رہا تھا مولانا سندھی نے اس سے متعلق قرآنی آیت کی تشریح باقی وہاں موجود علماء سے یکسر مختلف کی۔

آپ کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جن تک قرآن کا پیغام نہیں پہنچا وہ قیامت کے دن اسلام نہ لانے کے لئے جوابدہ نہ ہوں گے۔ اس تشریخ کے ضمن آپ کو دارالعلوم دیوبند سے نکال دیا گیا۔ حضرت عیسی کے سولی پر چڑھنے کی بعد زندہ آسمان پر اٹھا لیے جانے اور قیامت سے پہلے دوبارہ واپس آنے کے بارے میں آپ نے سوا لات اٹھائے اورکہا کہ اس ضمن قرآن میں ایک آیت بھی موجود نہیں۔

سیاسی، سماجی اور انفرادی معا ملات سے متعلق رہنمائی کے لئے آپ نے حدیث پر قرآن کو تر جیح دی۔ آپ کا کہنا تھا کہ روز مرہ زندگی اور دیگر معاملات کے متعلق قوانین کا ماخذ قرآن ہونا چاہیے نہ کے حدیث۔ کیونکہ قرآن کی حکمت ابدی اور عالمگیر ہے جبکہ حدیث اس حکمت کو عملی جامہ پہنانے کے واسطے مخصوص وقت اور جگہ میں قید موجودہ معاشرہ کی ضرور یات کے مطابق اس حکمت کی تشریح ہے۔

یوں حدیث کی تشریح و قوانین نہ آفاقی اور نہ عالمگیر ہیں جبکہ قرآن کی حکمت زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔ حدیث کی تشریح جو اس مخصوص وقت کی ضروریات کو ذہن میں رکھ کر کی گئی جس پر آئیندہ آنے والے مسلمان عمل کرنے کے پابند نہیں۔ اس طرح حدیث کی بنیاد پر بنائے گئے اصول وقت کی ضرورت اور حالات کے مطابق تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے بعد ا حا دیث کی سند اورصداقت پر تنقید و تبصرہ کیا۔ تاہم سیاح ستہ میں سے آپ امام مالک ( 711۔795 ) کے مجموعہ حدیث مو طاکو معتبر اورمستند سمجھتے تھے۔ تاہم مولانا سندھی بیسویں صدی کی تحریک اہل قرآن کے ماننے والوں کے پیرو کار ہر گز نہ تھے جن کے مطابق صرف قرآن ہی ہدایت الہی کا ذریعہ ہے جبکہ حدیث معاون ماخذ ہے۔ مولانا صاحب صرف کچھ احادیث کی روایتوں کی مستند نہ ہونے پر بات کر رہے تھے نہ کہ کلی طور پر اسے مسترد کر رہے تھے۔

مولانا صاحب نے فقہ کو بھی بدلتے حالات اور  جد یدیت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اس کی سر نو تشریح پر زور دیا۔ آپ کے مطابق جدید یت اور بدلتی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلامی فقہ کی ازسر نو تشریح لازم ہے۔ بدلتے حالات سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے اسلامی فقہ جمو د کا شکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں نظر ثانی درکار ہے۔ آپ کا کہنا تھا کہ رسول پاک عرب میں تشریف لائے جہاں کی رسم ورواج، اقدار، آب و ہوا، جغرافیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے نبی پاک نے احکامات اور قوانین بنائے جو اس وقت اور خطے کے حالات اور لوگوں کی عادات کے مطابق تھے۔ مثال کے طور پر پینل کوڈ اس وقت اور حالات کی ضرورت کے مطابق بنایا گیا۔ جس پر آج کے زمانے کے مختلف حالات او ر مختلف خطوں میں رہنے والے لوگ عمل کرنے کے پابند نہیں۔

مولانا سندھی نے غیر رسمی عبادات کو مادری زبان میں پڑھنے کے حق میں تھے۔ آپ کے مطابق غیر رسمی عبادات کا عربی زبان میں ادا کرنا ضروری نہیں۔ ہاں البتہ فرض نماز عربی زبان میں ادا کرنا لازم ہے۔ آپ جب حج پر گئے تو دوران طواف آپ نے مشاہدہ کیا کہ عربی معلم تکبیرات و دیگر تسبیحات عربی زبان میں پڑھ رہے تھے جبکہ مقتدی جو کہ غیر عربی تھے ان معلوموں کے ساتھ مناسک حج کے دوران قرآنی آیات بغیر مطالب و معانی سمجھے دہرا رہے تھے۔

مزید پڑھنے  کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2