طلاق دینے کا درست طریقہ


اس کے بعدجب دوسرا طُہر آئے تَو تب اگر وہ چاہے تَو اُس طُہر میں جنسی قربت حاصل کرنے سے پہلے بیوی کو طلاق دے۔ نیز فرمایا کہ ”سورۃ الطلاق“ کے الفاظ ”فطلقوہن لعدتہن“ سے یہی مراد ہے۔ اب غور فرمائیں کہ جہاں اللہ اور اس کے رسولِ مقبولؐ کا حکم، مرضی اور منشاء تک واضح ہو جا ئے، وہاں کسی اور طرف توجہ کرنے کی گنجائش ہی کہاں باقی رہتی ہے؟ اللہ کا حکم اور نبی پاکؐ کی وضاحت بتاتی ہے کہ حیض میں دی گئی طلاق سے ہر صورت رجوع ہی کیا جائے گا۔

حنبلی مسلک کے مطابق اس صورت میں رجوع کرنا ”مستحب“ ہے۔ شافعی مسلک کے نزدیک اس صورتحال میں رجوع کر نا ہی ”سنت“ پر عمل کا قائم مقام ہے۔ مذہبِ حنفی کی معتبر کتاب ”ہدایہ“ میں لکھا ہے کہ اس صورت میں رجوع کرنا مناسب ہی نہیں بلکہ ”واجب“ ہے۔ اب رہا مالکی مؤقف تَو ملاحظہ کیجئے کہ امام مالکؒ اور ان کے اصحاب اس معاملہ میں اتنے سخت ہیں کہ ان کے نزدیک حیض کی حالت میں طلاق دینا قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے۔

عورت خواہ مطالبہ کرے یا نہ کرے، بہرحال حاکم کا یہ فرض ہے کہ جب کسی شخص کا یہ فعل اس کے علم میں آئے تَو وہ اسے رجوع پر مجبور کرے اور عدت کے آخری وقت تک اس پر دباؤ ڈالتا رہے۔ اگر وہ انکار کرے تَو اسے قید کر دے۔ پھر بھی انکار کرے تَو اسے مارے۔ اس پر بھی نہ مانے تَو حاکم خود فیصلہ کردے کہ میں نے تیری بیوی تجھ پر واپس کر دی اور حاکم کا یہ فیصلہ رجوع کا قائم مقام ہو گا۔

4۔ مسئلہ طلاق کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ طلاق کے حوالے سے پیش آمدہ سب الجھنوں اور مشکلات سے بچنے کا واحد راستہ صرف یہی ہے کہ اس معاملے میں بِلا چُون و چرا قرآنی احکامات پر عمل کر لیا جائے۔ قرآ ن طلاق کے ضابطے کو سرسری انداز میں بیان نہیں کرتا بلکہ اس مسئلے پر ایک پوری سورۃ ”الطلاق“ پیش کرتا ہے۔ نیز سورۃ البقرۃ میں بھی طلاق کے تفصیلی احکامات بیان کرتا ہے۔

اندازہ فرمائیں کہ قرآن سینکڑوں بار نماز قائم کرنے کا حکم دیتا ہے لیکن نماز پڑھنے کاطریقہ ایک بار بھی بیان نہیں کرتا جبکہ طلاق اتنا نازک معاملہ ہے کہ قرآن اس کا مکمل طریقہ کار اَز خود بیان کرتا ہے تاکہ کسی قسم کا شک و شُبہ باقی نہ رہے۔ اس معاملے میں قرآن کے دامن میں پناہ لینے میں ہی عافیت ہے۔ قرآن طلاق کے اصول و مبادی کومفصل بیان کرتے ہوئے واشگاف کہتا ہے کہ ”یہ تَو اللہ کی حدود ہیں۔ “ اور پھر تنبیہہ کرتا ہے ”جو بندہ اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تَو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ “

یاد رہے کہ سورۃ آل عمران کے مطابق: ”اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔ “ یہ تمہید جو یہاں باندھی گئی ہے، اس کا ایک پس منظر ہے۔ مسئلہ طلاق کا مطالعہ کرتے ہوئے جب سورۃ الطلاق کو کھولا تَو اس کی دوسری ہی آیت میں یہ حکم نظر آیا کہ جب عدت کی معیاد پوری ہونے لگے تَو اپنی بیوی کو خوش اسلوبی سے اپنے پاس رکھ لو یا انہیں خوش اسلوبی کے ساتھ جدا کر دو اور (دونوں صورتوں میں ) دو آدمیوں کو گواہ مقرر کر لو۔

طلاق کی صورت میں دو گواہوں کی یہ شرط اس راقم کی نظر سے پہلی بار گزری ہے۔ یہ حکم کسی غیر معتبر کتاب کا نہیں، نہ اس کا راوی مشکوک ہے اور نہ اس کا تواتر و تسلسل منقطع۔ یہ قول اللہ رب العزت کا ہے، اس کے راوی جناب رسول اللہؐ ہیں اور اس کا تواتر و تسلسل خود قرآن کریم کے تواتر و تسلسل سے وابستہ ہے۔ ایسے میں اس حکم سے اتنی بے اعتنائی کہ کبھی کسی کو اس کا خیال تک نہیں آتا، ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ علومِ قرآن کے عظیم ترین مفسّر ابنِ عباسؓ اسی آیت کی روشنی میں طلاق اور رجوع دونوں پر گواہ مقرر کرنا ضروری قرار دیا کرتے تھے۔

اگرچہ یہ بات درست ہے کہ جمہور مفسرین و فقہاء کے نزدیک قرآنِ حکیم کا یہ حکم فرض کے درجے کا نہیں بلکہ تاکیدی ہے لیکن غور طلب بات یہ ہے قرآن کی اس تاکید کی ہم نے مجموعی طور پر کبھی کوئی پرواہ کی ہے؟ قرآن کی اس تاکید کو اتنا معمولی سمجھنا کہ اسے کبھی ضروری ہی تصور نہ کرنا، ایک طرح کی بے اعتنائی نہیں تَواور کیا ہے؟ کم از کم میں نے آج تک کبھی کسی مذہبی پس منظر رکھنے والے آدمی کو بھی یہ تاکید کرنے نہیں سُنا کہ طلاق کے وقت اللہ کے تاکیدی حکم کو ملحوظ رکھتے ہوئے دو گواہ مقرر کر لینا۔ یہ بے اعتنائی آخرکس چیز کی غمّاضی کر رہی ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ الحکیم کا ہر حکم حکمت سے بھر پور ہولیکن اِس حکم میں کوئی حکمت نہ ہو؟

5۔ حاصلِ بحث یہ کہ طلاق دینے کے صرف دو طریقے ہی درست ہیں :

1۔ بیوی کو ایسی حالتِ پاکی میں، جس میں جنسی مقاربت نہ کی گئی ہو، صرف ایک طلاق دی جا ئے، اور پھر تین ماہ گزرنے کا انتظار کیا جا ئے تاکہ عدت پوری ہو کر طلاق کا عمل احسن طریقے سے پورا ہو سکے۔

2۔ ایک طُہر میں ایک طلاق، پھر دوسرے طُہر میں دوسری طلاق اور پھر تیسرے طُہر میں تیسری طلاق دے کر طلاق کو مکمل کیا جا ئے۔

مذکورہ بالادونوں طریقوں کے علاوہ باقی تمام طریقے دین کی نظر میں نا پسندھ، غلط، بدعت، مکروہ یہاں تک کہ حرام اور گناہ کے کاموں میں سے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعید بن المسیّبؒ جیسے تابعی کے نزدیک جو شخص بھی سنت کے خلاف طلاق دے، اس کی طلاق سرے سے واقع ہی نہیں ہوتی۔ امامیہ مکتبہ فکر کے لوگ بھی اسی رائے سے متفق ہیں۔ ان کی بنیاد یہ ہے کہ چونکہ صحیح طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے سے طلاق دینا ممنوع اور حرام ہے، اس لئے غیرمؤثر ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3