طلاق دینے کا درست طریقہ
ابنِ تیمیہؒ جیسے جیّد عالم کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ یہ امر غور و فکر کا متقاضی ہے۔ عہدِ حاضر میں تفسیر و سیرت کے ایک اہم لکھاری اور قانونِ اسلامی کے بہترین شارح جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ نے اس موضوع پر علماء کے غور و فکر کے لیے ”دعوتِ فکر و نظر“ کے نام سے ایک مختصر مگرجامع ترین رسالہ تحریر فرمایا ہے۔ چونکہ امتِ مسلمہ کا عمومی مزاج اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں بھی مسلکی جکڑبندیوں کا پابند ہے اس لئے اس کتابچے کی خاص قدر نہیں کی گئی لیکن مستقبل قریب میں جب بھیڑ چال کی یہ روش ختم ہو گی تَو قبلہ پیر صاحبؒ کا یہ رسالہ آنے والی نسلوں کے لیے بہت بڑی دلیل اور روشن سنگِ میل کی حیثیت رکھے گا۔
آج کی اس نشست کا اختتام یہ راقم الحروف قرآن کریم کی انہی آیات کا مکمل ترجمہ تحریر کر کے کرے گا، جن میں طلاق کا احسن ترین طریقہ پوری شرح و بسط کے ساتھ خالقِ ارض و سماء نے بیان فرمایا ہے : اے نبی ؐ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے لیے طلاق دیا کرو۔ اور عدّت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو۔ اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ (زمانۂ عدت میں ) نہ تُم انہیں اُن کے گھروں سے نکالو، اورنہ وہ خود نکلیں اِلَّا یہ کہ وہ کسی صریح فحش کی مرتکب ہوں۔
یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ اور جو کوئی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا، وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا۔ تم نہیں جانتے، شاید اس کے بعد اللہ (بہتری کی) کوئی صورت پیدا کر دے۔ پھر جب وہ اپنی عدّت کی مدّت کے خاتمہ تک پہنچیں تَو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں ) روکے رکھو یا بھلے طریقے پر اُن سے جدا ہو جاؤ۔ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو، جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں۔ اور (اے گواہ بننے والو! ) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے دیا کرو۔ یہ باتیں ہیں، جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے، ہر اُس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا، اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا، جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ جو اللہ پر بھروسا کرے، اس کے لیے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔
اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، ان کے معاملہ میں اگرتم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تَو (تمہیں معلوم ہو کہ ) ان کی عدّت تین مہینے ہے۔ اوریہی اُن کا معاملہ ہے، جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔ اور حاملہ عورتوں کی عدّت کی حد یہ ہے کہ اُن کا وضعِ حمل ہو جا ئے۔ جو شخص اللہ سے ڈرے، اُس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کر دیتا ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے، جو اُس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کی برائیوں کو اس سے دُور کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔
اُن کو (زمانۂ عدّت میں ) اُسی جگہ قائم رکھو، جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو۔ اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستاؤ۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تَو اُن پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو، جب تک اُن کا وضعِ حمل نہ ہو جائے۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچّے کو) دودھ پلائیں تَو ان کی اُجرت انہیں دو۔ اور بھلے طریقے سے یہ معاملہ باہمی گفت و شنید سے طے کر لو۔ لیکن اگر تم نے ایک دوسرے کو تنگ کیا تَو بچّے کو کوئی اور عورت دُودھ پلائے گی۔
خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے۔ اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو، وہ اُسی مال میں سے خرچ کرے، جو اللہ نے اُسے دیا ہے۔ اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے، اُس سے زیادہ کا وہ اُس کومکلّف نہیں کرتا۔ بعید نہیں کہ اللہ تنگدستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے۔ کتنی ہی بستیاں ہیں، جنہوں نے اپنے رب اور اُس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تَو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بُری طرح سزا دی۔ انہوں نے اپنے کیے کا مزہ چکھ لیا اور اُن کا انجامِ کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔
اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب مہیّا کر رکھا ہے۔ پس اللہ سے ڈرو، اے صاحبِ عقل لوگو! جو ایمان لائے ہو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کر دی ہے۔ ایک ایسا رسول ؐ جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کر ے، اللہ اُسے ایسی جنّتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق رکھا ہے۔ (الطلاق : آیات 1 تا 7 )

