صنعت تضاد


تضاد دنیا کی ابدی و آخروی حقیقت ہے۔ یہ دنیا کے استقام اور ترقی کی علامت ہے۔ مخالف قوتیں ایک دوسرے کے خلاف کام کرتے ہوے ارتقأکا سبب بنتی ہیں۔ ادب کی زبان میں اس تضاد کوخوبصورتی سے استعمال کیاگیا ہے۔ دنیا کی تمام زبانوں میں تضاد کو استعمال کرتے ہوے شاعری، ڈرامہ اور نثر میں اعلی ٰدرجہ کی تخلیقات وجود میں آیئں۔

فیض احمد فیض جیل میں تھے، ان سے ملاقات پر پابندی تھی۔ لیڈی عبداللہ ہارون تمام پابندیوں توڑ کر جیل پہنچ گئی تھیں۔ اس جرأت کی داد دیتے ہوے فیض صاحب نے ”حبیب عنبر دست“ نظم لکھی۔ جب وہ جیل سے رہا ہوے تو جاب ختم ہو چکی تھی۔ ان کو عبداللہ ہارون کالج کے ریکٹر کا عہدہ پیش کیا گیا۔ اس دوران لیڈی عبداللہ ہارون کو وفات کے بعدکالج کے احاطہ میں دفن کر دیا گیا۔ فیض صاحب روزانہ قبر کے پا س سے گزرتے تھے۔ اس وصل و ہجرکی متضادحالت کوایک مرثیہ میں انہوں نے انتہائی خوبصورتی سے اکٹھا کیا۔

دور جا کے قریب ہو جتنے۔

ہم سے کب تم قریب تھے اتنے

اب نہ آو گے تم نہ جاؤ گے

وصل و ہجراں باہم ہوے کتنے

شیکسپئر کے ڈرامہ ہیملٹ میں جب شہزادہ ہیملٹ اپنے چچا کلاڈیئیس، جس نے بادشاہ کو قتل کرکے ملکہ سے شادی کر لی اور تخت پر قابض ہوگیاتھا۔ کو قتل کرنے لگتا ہے، تو وہ کہتا ہے۔

I must be cruel to be kind۔

مجھے اتنا ظالم ہو جانا چاہیے کہ میں مہربان ہو جاؤں۔ باپ کے قاتل کو سزادیتے ہوے وہ کہتا ہے کہ میری ماں کے لئے خاوند کی موت کا دکھ ظلم نہیں مہربانی ہے۔

شیکسپیر کے ہی مشہورڈرامہ رومیو اینڈ جولیٹ کا اہم کردار فرئرلارنس باغ میں پھول اور جڑی بوٹیاں چنتے ہوے، جن سے وہ ادیات بناتا ہے کہتا ہے

ؑEarth that ’s natures

Mother، is her tomb

what is her burying،

grave that is her womb۔

زمین جو کہ قدرت کی ماں ہے اس کا مقبرہ بھی ہے۔ دفن کرنے والی قبر اس کی بچہ دانی ہے۔ زمین زندگی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہے اور قبر بھی۔

سقراط نے کہا تھا، ”میں ایک چیز جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔ “

”اگر تم اتنی محبت کرو کہ وہ تکلیف اور دکھ دے، اور اس سے زیادہ تکلیف اور دکھ نہیں ہو سکتا، پھر اور محبت کرو“۔ مدر ٹریسا۔

اسلم انصاری کی نظم ”تمام دکھ ہے، “ گوتم بدھ کا آخری واعظ ہے۔ اس کے دو اشعار تضاد کی خوبصورتی کی انتہا پر ہیں۔

شعور کیا ہے؟ اک التزام وجود ہے اور وجود کا التزام دکھ ہے

جدائی تو خیر آپ دکھ ہے، ملاپ دکھ ہے

کہ ملنے والے، جدائی کی رات میں ملے ہیں، یہ رات دکھ ہے

تمام مذاہب میں اچھائی اور برائی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ اہرمن اور یزداں برابر کی طاقت کے حامل ہیں۔ آدم کو بنانے کے ساتھ ہی شیطان کو تا قیامت زندگی اور لا متناہی اختیارات دے دیے گئے۔ پاکی اور پلیدی کا ملاپ زندگی کو جنم دیتا ہے۔ دن کے ساتھ ہی رات بنائی گئی۔ اندھیرا نہ ہو تو اجالا کی پہچان ہی مٹ جاے۔ موت ہی زندگی کو خوبصورت بناتی ہے۔

”دیوتا ہم سے جلتے ہیں کیونکہ ہم فانی ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی لمحہ ہمارا آخری ہو سکتا ہے۔ ہر چیز صرف اس لئے زیادہ خوبصورت ہے کیونکہ ہم نے تباہ ہو جانا ہے۔ تم اتنی پیاری کبھی نہیں ہو سکتی جتنی تم اب ہو۔ ہم دوبارہ ادھر پھرکبھی نہیں آسکتے۔ “ ٹرائے

دنیا کا وجود ہی متضاد طاقتوں کی وجہ سے ہے۔ مرکز گریز اور مرکز مائل قوتیں نہ ہوں تو کائنات کے تمام سیارے اپنا مدار بھول جائیں اور کائنات تباہ ہو جاے۔

بدصورتی، خوبصورتی کو اجاگر کرتی ہے۔ روشنی کسی چیز پر پڑے اور وہ ساری روشنی جذب کر لے تو وہ خود کالا دکھائی دیتا ہے اور کالے کی موجودگی ہی گورے رنگ کو نکھارتی ہے۔ دوست کی اہمیت کا اندازہ دشمن کی موجودگی میں ہی ہوتا ہے۔

انسانی معاشرہ میں متضاد چیزیں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔ اور یہی انسانی معاشرہ کی خوبی ہے۔ مختلف مذاہب اور فرقے ایک دوسرے سے نکلنے کے باجود ایک ہی معاملہ میں مختلف خیالات رکھتے ہیں۔ ایک کی نیکی دوسرے کی برائی ہے۔ ایک کی متبرک جگہ دوسرے کے لئے ناپاک۔ ایک کی عبادت دوسرے کا گناہ۔ لیکن ایک کے وجود سے دوسرے کی زندگی میں بہار ہے۔ مختلف رنگ و نسل سے معاشرہ سجتا ہے۔ مختلف رنگوں کے پھولوں سے ہی گلدستہ بنتا ہے۔ کائنات رنگ و بو میں ہلچل، نغمہ وسرگم، رقص و سرود کی محافل تو شیطان کی موجودگی کی وجہ سے ہی ہے۔

گر کبھی فرصت ہو تو پوچھ اللہ سے

قصہ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو

آو، تمام دنیا کے ادب نے جس طرح تضاد کو خوبصورت بیان کیا اسی طرح اس کو زندگی کی اصل حقیقت کے طور پر قبول کر کے جینا سیکھیں۔ کیونکہ کسی کے لئے مرجانا عشق نہیں، اس کی تمام اچھائیوں برائیوں کے ساتھ تمام زندگی ساتھ نبھانا اصلی عشق ہے۔

آوتضاد کی حقیقت کو قبول کرتے ہوے دشمن کے ساتھ مل کر زندگی کو مزیدخوبصورت بنایئں۔

Facebook Comments HS