پاک بھارت باہمی تعلقات کا بیانیہ
جنوبی ایشیا او راس خطہ کی سیاست، معیشت اور سماج کی مجموعی ترقی دو طرفہ بہتر تعلقات، سازگار ماحول اور تعاون کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب دونوں اطراف کی ریاست، حکومتیں، سیاسی جماعتیں، اہل دانش، رائے عامہ تشکیل دینے والے ادارے اور عوام باہمی اختلافات، تعصبات، نفرت اور تلخیوں سمیت ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف کھلے دل کے ساتھ پیش قدمی کرے۔ کیونکہ ہم سب یہ اتفاق کرتے ہیں کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں اور باہمی اختلافات کا بنیادی حل مکالمہ یا بات چیت کے ساتھ جڑا ہے۔
ایسی صورت میں کسی بھی ملک کو جنگی حالات کو پیدا کرنا، ماحول کو تلخ بنانا اور اختلافات کی آگ کو بھڑکا کر سیاست کرنا کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ لیکن اس کا عملی تقاضہ یہ ہے کہ دونوں اطراف کی ریاست، قیادت اورعوام سیاسی تدبر، فہم فراست، بردباری، تحمل اور روداری پر مبنی پالیسی کو اختیار کرکے اپنے مسائل کا پائدار حل تلاش کریں۔
حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان جو سیاسی تلخی بڑھی ہے اس نے ایک بار پھر خطہ سمیت دونوں ملکوں کی سیاست میں پہلے سے موجود سیاسی بداعتمادی میں اور زیادہ بداعتمادی پیدا کردی ہے۔ ایسی صورتحال میں دونوں اطراف کے ان سنجیدہ افراد اور فریقین کو جو واقعی دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے حامی ہیں کا کردار اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ دونوں اطراف میں موجود وہ افراد، ادارے یا سیاسی، مذہبی یا سماجی فریقین، اہل دانش جو شدت پسندی کی بنیاد پر ٹکراؤ یا جنگ کو مسئلہ کا حل سمجھتے ہیں ان کے خلاف ایک مضبوط پرامن دوستی کے بیانیہ کو طاقت فراہم کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ یہ کام ریاستی، حکومتی اور میڈیا، اہل دانش سمیت سول سوسائٹی کی سطح پر ہوگا اور یہ ہی سب فریقین مل کر بہتر تعلقات کے تناظر کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کی مدد کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں اور ان قوتوں کے خلاف بڑی مزاحمت پیدا کریں جو عملی طورپر بہتر تعلقات میں رکاوٹ ہیں۔
نریندر مودی کی حکومت میں بھارت نے دیکھ لیا کہ انتہا پسندی، مسلم دشمنی یا پاکستان دشمنی کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست یا طرز عمل سے صرف پاکستان کا ہی نقصان نہیں ہوگا بلکہ خود بھارت کا داخلی بحران بھی بڑھ جائے گا۔ پاکستان نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے کہ اس کی بعض پالیسیاں غلط تھیں او راس کا ادراک بھی موجود ہے۔ حالیہ کچھ برسوں میں پاکستان نے جس مضبوط سیاسی، انتظامی او رعسکری حکمت عملی کی بنیاد پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ پاکستان بدستور انتہا پسندی او ردہشت گردی کے تناظر میں یہ جنگ لڑرہا ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ محض فوجی طاقت سے حل نہیں ہونا بلکہ اس کے لیے ایک نیا متبادل بیانیہ یعنی فکری بنیادوں پر مائنڈ سیٹ پر مبنی جنگ کو جیتنا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان، پیغام پاکستان جیسے منصوبے اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
اصولی طور پر پاکستان، بھارت سمیت اس خطہ کے بہت سے ممالک بشمول افغانستان انتہا پسندی اور دہشت گردی کے شکا رہیں۔ غیر ریاستی عناصر جنہوں نے انتہا پسندی اور طاقت کے استعمال کو بنیاد بنا کرریاستی عمل کو کمزور کیا ہے ان کے خلاف ایک مشترکہ سیاسی، انتظامی، عسکری حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام دو سطحوں پر ممکن ہوگا۔ اول ہر ملک اپنے داخلی محاذ کا جائزہ لے او رجہاں جہاں ایسے امور ہیں جو انتہا پسندی، دہشت گردی اور اپنی سرزمین دوسروں کی سرزمین میں مداخلت کے لیے استعمال کرتے ہیں ان کا کڑا احتساب کیا جانا چاہیے۔
یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ریاستی او رحکومتی نظام میں نہ صرف ایسے امور کی کڑی نگرانی ہوگی بلکہ کسی بھی سطح پر ان غیر ریاستی عناصر کی حمایت، حوصلہ افزائی یا سرپرستی نہیں کی جائے گی۔ یہ اقدامات واضح اور شفاف ہوں اور ہر سطح پر دیکھے او رپرکھے بھی جاسکیں۔ دوئم داخلی محاذ کے بعد ریاستی سطحو ں پر ایک دوسرے کی حمایت او رمدد کے ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے کا مشترکہ اینٹی ٹریرئزم میکنزئم کے فورم کو زیادہ سے زیادہ موثر، با اختیار اور متحرک و فعال کیا جائے۔ کیونکہ ایک سے زیادہ ریاستیں دہشت گردی کا شکار ہوں تو اس کے لیے ہمیں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں یا ریاستوں کو ذمہ دار قرار دے کر بداعتمادی پیدا کرنے کی سیاست سے گریز کیا جانا چاہیے۔ یہ ہی سوچ او رحکمت عملی تمام ریاستوں اور پاک بھارت کے مفاد میں بھی ہے۔
یہ بات دونوں ملکوں کو سمجھنی ہوگی کہ اختلافات کی حیثیت وزنی ہے یا غیر وزنی دونوں صورتوں میں ان اختلافات کو کم کرنا یا ختم کرنے کی بڑی کنجی مذاکر ات ہی کی سیاسی میز ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت بھارت کا داخلی نظام انتخابی سیاست کے بہت قریب ہے۔ بھارت کی انتخابی تاریخ میں پاکستان دشمنی کا ایجنڈا ہمیشہ سے بالادست رہا ہے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر بھارت کی قیادت کیسے مذاکر ات کے راستے کو اختیار کرتی ہے، مشکل لگتا ہے۔
دونوں ملکوں میں وہ لوگ جو ایک دوسرے ملکوں پر الزام تراشی لگا کر ایک دوسرے کو ذمہ دار قراردے کر عملا مذاکر ات کے دروازے بند کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی روش سے باہر نکلیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان مکمل درست ہے اور بھارت غلط یا بھارت درست اور پاکستان غلط ہے۔ دونوں اطراف سے ماضی میں بھی غلطیاں ہوئی ہیں او راب بھی بہت سے مسائل ہیں۔ اس کا حل یہ ہی ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں کی بنیاد پر ماضی میں رہنے کی بجائے مستقبل کا نقشہ کھینچے۔
بھارت او رپاکستان کے درمیان تعلقات کی بہتری میں واقعی ایک نئے بیانیہ کی ضرورت ہے۔ یہ بیانیہ غربت کو ختم کرنے، تعلیم، صحت، پانی، روزگار، پس ماندگی جیسے سنگین مسائل پر توجہ چاہتا ہے۔ جنگوں پر بھاری سرمایہ کاری کرنے کی بجائے انسانوں پر بڑی سرمایہ کاری کی بڑی ضرورت ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم دو طرفہ تنازعات میں الجھنے اور پھنس کر رہنے کی بجائے آگے بڑھنے کا راستہ اور اپنے اپنے دلوں کو کشادہ اور اس میں محبت پیدا کرنا ہوگی۔
ریاستی سطح پر جو بداعتماد ی ہے اس کا ایک حل سیاسی، سماجی اور دیگر باہمی فورمز کی تشکیل اور ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے کے لیے باہمی رابطوں کو بڑھانا او را س میں آسانیاں پیدا کرنے سے جڑا ہوا ہے اور یہ کام ریاستی و حکومتی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ بھارت کو پاکستان کی نئی سیاسی قیادت اور ان کی جانب سے تواتر کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ کیونکہ اگر بھارت نے یہ موقع کھودیا تو اس سے خود پاکستان میں بھی یہ نکتہ مضبوط ہوگا کہ بھارت کسی بھی سطح پر بہتر تعلقات کا حامی نہیں او راس کا ایجنڈا پاکستان دشمنی ہے، جو بھارت کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
اب وقت آگیا ہے کہ بالخصوص بھارت سارک ممالک سے جڑی سیاسی، سماجی اور اقتصادی فورمز کو فعال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرکے ایک بہتر مستقبل کی طرف پیش قدمی کرے، کیونکہ جنوبی ایشیا اور سارک ممالک کا تواتر کے ساتھ اکٹھا بیٹھنا اور باہمی تنازعات، اختلافات، مسائل کے مقابلے میں مسائل کے حل کی تلاش ہی بنیادی ایجنڈا ہونا چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے بھارت نے ایسے تمام مواقعوں کو پس پشت ڈال رکھا ہے جو اعتماد سازی کو ممکن بناسکتے ہیں۔
انتہا پسندی، دہشت گردی، کشمیر کا مسئلہ، پانی جیسے مسائل پر اگر ہم مل کر آگے بڑھیں تو یہ مسائل بھی حل ہوں گے اور تعلقات میں بہتری کا عمل بھی دیکھا جاسکے گا۔ لیکن اس کے لیے دونوں ملکوں کی قیادت بالخصوص بھارت کو جو ایک بڑا ملک بھی ہے اس کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے کہ وہ او رپاکستان دونوں روایتی اندازمیں مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے غیر معمولی سطح پر غیر معمولی اقدامات کی مدد سے آگے بڑھ کرترقی وخوشحالی کی جنگ جیت سکتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت بھارت کا داخلی ماحول کچھ ا ایسے امکانات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم جنگی جنون سے باہر نکل کر امن کا راستہ اختیار کریں تو مشکل لگتا ہے۔ لیکن اس میں کسی بھی قسم کی مایوسی کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ جیسے ہی بھارت کے انتخابات کا مرحلہ ختم ہوگا تو اس کے بعد تعلقات کی بہتری کا نیا ماحول بن سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ بھارت میں جو انتخابات کا مرحلہ ہے وہ کس حد تک مودی کی انتہا پسندانہ اور نفرت کی سیاست کو ووٹ دے کر دوبارہ اقتدار کا حصہ دار بناتا ہے یا ان کی ہندواتہ پر مبنی سیاست کو مسترد کرکے نئی قیادت کو سامنے لاتا ہے۔ اس لحاظ سے بھارت کے انتخابات کے نتائج ہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آنے والے دنوں میں پاک بھارت تعلقات میں بہتری پیدا ہوگی یا اس میں حالات اور زیادہ کشیدہ ہوں گے، فیصلہ بھارتی عوام نے ہی کرنا ہے۔


