جنگ میں کسی کی جیت نہیں۔ انسانیت کی شکست ہوتی ہے


تقسیم ہند سے اب تک ہندوستان نے کبھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا، پاکستان کے قیام کے بعد 1948 میں ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں کشمیر کا ایک حصہ قابض بھارت کے تسلط سے آزاد ہوا۔ 1965 میں پھر بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی اور لاہور پر غیر اعلانیہ حملہ کردیا۔ اس جنگ کو ٹینکوں کی دوسری بڑی جنگ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ بھارت نے جدید ہتھیاروں سے جبکہ پاکستان نے جذبہ ایمان سے لڑی اس جنگ کا نتیجہ بھی دنیا کے سامنے ہے تاریخ آج بھی ایم ایم عالم اور ان جیسے کئی غازیوں کو یاد رکھے ہوئے ہے۔

1971 میں بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی جس کے نتیجے میں پاکستان کا ایک بازو پاکستان سے جدا ہوگیا۔ 1999 میں پھر کارگل کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی۔ یہ تو بڑی جنگیں تھیں، آئے دن بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے پاک فوج کی جانب سے بھی اس کا بھرپور جواب دیا جاتا ہے کیوں کہ کوئی بھی ملک اپنی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دیتا۔

ان جنگوں میں دونوں ملکوں کا بے پناہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ ان جنگوں میں جتنا نقصان ہوا اس کے بعد عقلمندانہ فیصلہ تو یہ ہوتا کہ دونوں ممالک تمام مسائل کا حل پر امن طریقے سے نکالتے اور جنگوں میں خرچ ہونے والے اربوں روپے اپنے ملک کی ترقی ہر خرچ کرتے۔ لیکن افسوس کے پاکستان کی جانب سے امن کی ہر کوشش کو بھارت نے غیر سنجیدگی سے لیا۔ پاک بھارت تعلقات اس وقت زیادہ کشیدہ ہوئے جب بھارتی انتہا پسند جماعت بی جے پی کے نرندر مودی برسراقتدار آئے۔

مودی کا ماضی کئی مسلمانوں کے خون سے داغدار ہے۔ ان کی الیکشن مہم بھی مسلم مخالف تقریروں سے بھری ہوئی ہے۔ مودی اپنے دور حکومت میں کچھ بھی ڈیلیورنہ کرسکے۔ بھارت میں انتخاب قریب آتے ہی مودی نے پھر اپنے عوام کے جذبات ابھارنے کے لئے انتہائی بھونڈا اقدام کیا۔ پلوامہ حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے نا اہل بھارتی فوج پر ایک خودکش حملہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں 44 فوجی ہلاک ہوتے ہیں۔ واقعے کے فورأٔ بعد ہی بھارتی میڈیا اور بھارتی حکمرانوں نے واقعے کا الزام پاکستان پر دھر دیا۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے خطے میں قیام امن کے لئے بھارت کو واضح پیغام دیا کہ اگر بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو دے، مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی۔ لیکن ثبوت ہوتے تو بھارت دیتا اور جو شخص اپنی الیکشن مہم کے لئے 44 فوجی مروا سکتا ہو وہ خطے کا امن بھی تباہ کرسکتا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان میں موجود 300 دہشتگرد مارے گئے ہیں۔

کل تک پاکستان پلوامہ کے ثبوت مانگتا تھا مگر اب کی بار بھارت کی 21 اپوزیشن جماعتیں اور بھارتی میڈیا دہشتگردوں کی ہلاکت کے ثبوت مانگنے لگا جبکہ بھارتی حکومت اور افواج ثبوت دینے سے انکاری رہے۔ آخر ثبوت ہوتے تو دیے جاتے ناں۔ مودی جی جنگل کو ٹریننگ کیمپ اور درختوں کو دہشت گرد کہتے رہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کی طرح غیرعلانیہ حملہ نہیں کیا اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ اب ہم بھارت کو حیران کریں گے اور ایسا ہی ہوا پاکستانی قوم تمام تر اختلافات بھلا کر ایک ہوگئی ہر طرف پاکستان زندہ باد اور پاکستان آرمی زندہ باد کی صدائیں سنائی دینے لگیں، پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے اور ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کرلیا۔

پاکستان نے خطے میں قیام امن کے لئے پھر جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھارتی پائلٹ کو رہا کردیا۔ جس پر دنیا بھر میں پاکستان اور پاکستانی وزیراعظم کی تعریف ہوئی حتیٰ کے بھارت سے بھی عمران خان کی تعریفوں کی آوازیں آنے لگیں۔ بھارتی پائلٹ کی گرفتاری کے متعلق ایک پریس بریفنگ میں میجر جنرل آصف غفور نے ایک تاریخی جملہ کہا کہ  جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی بس انسانیت ہار جاتی ہے۔

کاش بھارت اس بات کو سمجھ جائے۔ جنگ میں واقعی انسانیت ہار جاتی ہے۔ 70 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ایٹم بم کا شکار ہونے والے ممالک ترقی کر گئے۔ دنیا کے ممالک نے اپنی معیشت مستحکم کی لیکن بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث برصغیر میں روز انسانیت کی شکست ہوتی ہے۔ کبھی کشمیر میں عزتیں لٹتی ہیں، کبھی کوئی معصوم پیلٹ گن کا شکار ہوتا ہے، کبھی شہری آبادی نشانہ بنتی ہے تو کبھی پاکستان کی جوابی کارروائی میں لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب کوئی نعش گرتی ہے۔ بھارت کی 7 لاکھ فوج اس وقت بھی کشمیر میں انسانیت کو شکست دینے کی کوشش میں مصروف ہے اور اس ناپاک مشن پر بھارت اربوں روپے خرچ کر رہا ہے۔ یہ وہی اربوں روپے ہیں جن سے بھارت کے بچے پڑھ سکتے تھے، جن سے بھارت میں غربت کا خاتمہ ہوسکتا تھا، جن سے بھارت میں فٹ پاتھ پر سونے والوں کو گھر مل سکتا تھا۔

بھارت کو اب سمجھنا ہوگا کہ شہادت مسلمانوں کی سب سے بڑی خواہش۔ جب تک تم ہم پر جنگ مسلط کرو گے ہم لڑتے رہیں گے۔ صرف مسلمان ہی نہیں پاکستان کے غیر مسلم بھی ملک پر جان نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔ تم بھی جانتے ہو کہ دنیا کہہ چکی ہے پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے 89 فیصد عوام ہر وقت دھرتی پر مر مٹنے کو تیار رہتے ہیں۔ تم بار بار 71 کی جنگ یاد دلاتے ہو نہ۔ تو سن لو ہم 1971 کو بھولے نہیں اگر ابکی بار جنگ ہوئی تو 71 کا بدلہ بھی لیں گے لال قلعہ، تاج سب واپس لیں گے۔ ہم بس امن چاہتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ انسانیت پھر سے ہار جائے۔ بھارت کو پاکستان کے پیغام امن کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کشمیر سمیت تمام مسائل کو بات چیت سے حل کرنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان اپنے پیغام امن سے پیچھے ہٹ جائے۔ اور پھر خطے میں ہر طرف انسانیت ہار جائے۔

Facebook Comments HS