پاکستان تجھے سلام!
اڑتالیس سال بعد ہندوستان اور پاکستان کی افواج میں سے ائیر فورس نے ایک دوسرے کی ہوائی حدود پار کی گئیں۔ اس کی وجہ بنی ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کا پہلے پلوامہ میں ہونے والے حملے کا پاکستان پر الزام لگانا اور پھر اسی کو بنیاد بنا کر پاکستان میں مزعومہ جیشِ محمد کے ٹھکانوں پر ہندوستان کی طرف سے بمباری کرنا۔ پاکستان کا موقف بہت واضح تھا کہ ہندوستان پلوامہ میں ہوئی دہشت گردی میں پاکستان کے ملوّث ہونے کا ثبوت فراہم کرے تو پاکستان مجرموں کو خلاف کارروائی کرے گا۔ لیکن بھارت کی طرف سے اس بات کو یکسر نظرا نداز کردیا گیا۔ کیونکہ ثبوت ہوتا تو دیا جاتا۔
اس کے بعد ایک روز اچانگ آندھی طوفا ن کی طرح بھارت کے جہاز رات کے وقت پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے اور ویرانوں میں بم پھینک کر بھاگ گئے۔ اور پھر دعویٰ یہ کردیا گیا کہ ہمارے جوانوں نے پاکستان میں جیشِ محمد کے متعدد ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس سے سینکڑوں لوگ ہلاک بھی ہوئے۔ پورے ہندوستان میں مودی جی کا ڈنکا بجنے لگا اور مودی جی کو الیکشن میں کامیابی یقینی نظرآ نے لگی۔
جب انسان ڈیڑھ سیانا ہو کر عاقبت نااندیش ہو جائے تو عقل ماری جاتی ہے۔ افسوس کہ ہندوستان کا میڈیا اور حکمران نہیں جانتے کہ یہ سریع الروابط مواصلاتی دور ہے۔ ایسا نہیں کہ کسی کو کچھ پتہ نہ چلے کہ کیا ہوا۔ اب تو سیکنڈوں میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا ہے۔ وہی ہوا، جھوٹ کی قلعی کھل گئی۔ پوری دنیا جان گئی کہ کیا کھیل رچایا گیا ہے۔ ہر ملک کے تجزیہ نگار نے یہی کہا کہ جنگ سیاست کی کامیابی کا ایک بڑا حربہ ہے۔ دوسری طرف بھارتی فضائیہ کا جیشِ محمد کے ٹھکانوں پر حملہ کر کے تباہ کرنے اور اموات کی خبر بھی جھوٹی نکلی۔
جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے اس لیے وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ پلوامہ حملے جس میں جو چالیس بھارتی فوجی ہلاک ہوئے خود مودی سرکار کا کیا دھرا ہے۔ اس بات کی بہت جلد تصدیق بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سابق رُکن ایوی ڈانڈایا صاحب کی ویڈیو میں موجود ریکارڈنگ نے کردی جس میں بھارت کی مقتدر ہستیاں پلوامہ میں ہونے والی دہشت گردی کو پلان کر رہی تھیں۔ یہ ویڈیو کلپ کوئی ڈیڑھ ملین لوگوں نے دیکھا۔ معتبر اخبارات نے اس کو حرف حرف شائع کیا۔ اب یہ سب ریکارڈ پر ہے گو ویڈیو کلپ غائب کردیا گیا ہے۔
اس ویڈیو کی ریکارڈنگ میں ایک خاتون اور دو مردوں کی آوازوں کو سنا جا سکتا ہے اس کی تفصیل ایک اخبار ”دی نیوز انٹرنیشنل“ نے کچھ یوں دی کہ بی جے پی کے رہنماؤں میں سے دو شخص گفتگو میں اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ الیکشن جیتنے کے لیے جنگ ضروری ہے۔ عورت کہتی ہے کہ بلاوجہ جنگ کیسے چھڑ سکتی ہے امیت جی؟ اس پرا یک مرد کہتا ہے کہ قوم فوجیوں کے معاملے میں بہت جذباتی ہے۔ اس سے حالات خراب کیے جا سکتے ہیں۔ وہ عورت پوچھتی ہے کیا آپ اپنے فوجیوں کو شہید کریں گے؟
اور ایک دو سے تو بات نہیں بنے گی۔ جواب میں کہا جاتا ہے ہماری سیاست اس پر ہی منحصر ہے۔ عورت رہنما کہتی ہے اڑی میں ہم نے یہ کیا تھا نا؟ کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ کم ازکم سو پچاس تو مارنے پڑیں گے۔ پھر وہ بتاتی ہے کہ سوچیں ان فوجیوں کے گھر والوں پر کیا گزرتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ فوجیوں کو مرنے کے لیے تیار رہنا ہوتا ہے مگر دشمن کے ہاتھوں مرنے کے لیے نہ کہ اپنے حکمرانوں کے ہاتھوں۔ اور بہت سے راستے ہیں امیت جی۔ مگر جواب میں کہا جاتا ہے کہ یہی راستہ یقینی ہے۔ جس پرعورت کہتی ہے کہ اگر اپنے ہی یوں مارنے لگیں تو دشمن پھر کیا کرے گا۔ لیکن میں آپ سے بحث نہیں کروں گی۔ اس لیے ٹھیک ہے، پیسے بھیج دیں، میں کہہ دیتی ہوں۔ میں بارہ تیرہ فروری کے بعد آپ کوکال کر وں گی۔
سوچیے اب ہندوستان میں لوگ اپنے بچے فوج میں دینے سے کتنا گھبرائیں گے کہ یہ تو اپنے ہی حکمرانوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں۔ یہ تو حکمرانوں کے لیے قربانی کے بکرے ہیں۔ جن کو بوقت ضرورت وہ خود پر حلال سمجھتے ہیں
پاکستان کی منصفانہ، پر امن مخلص اور بہادرانہ حکمتِ عملی کو سلام کہ اس نے حالات کا پانسہ پلٹ دیا۔ مودی سرکار نہ صرف چت ہو چکی ہے بلکہ منافع میں سخت بدنامی گلے کا ہار بنی۔ آج ہمیں اپنے پاکستان سے ہونے پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔
پلوامہ کی بھیانک اور ظالمانہ غلطی کے بعد بھی مودی صاحب کو خوف خدا نہیں آ یا انہوں نے پاکستان پر رات کے وقت ہوائی حملہ کروادیا۔ اور دعوی کیا کہ یہ حملہ جیشِ محمد کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا، جس میں بھاتی فضائیہ نے جیشِ محمد کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے اور بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ ہندوستان میں مودی صاحب کا ڈنکا بجنے لگا۔ بھارتی میڈیا اپنے جانبازوں کی بہادری پر چنگھاڑنے لگا۔ مودی صاحب کو اپنی فتح یقینی لگنے لگی۔ لیکن پاکستان کی جوابی کارروائی نے سب کچھ ختم کردیا۔ بھارت نے تو پاکستان میں رات کے اندھرے میں شب خون مارا تھا جبکہ پاکستان نے جواب میں دن دہاڑے ان کے گھر جا کر خالی جگہوں پر بم گرا کر ان کو بتا دیا کہ ہمیں کمزور نہ سمجھو۔ جس پر ان کے کی ائیر فورس کے محافظ اپنے گمان میں پاکستانی غازیوں کو نیست و نابود کرنے نکلے اور خود گھیر لیے گئے۔ نتیجہ میں ہندوستان اپنے تین لڑاکا جہازوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور بے عزتی منافع میں ملی۔ ایک شخص قید ہوا ایک مارا گیا اور ایک اپنے ہی علاقے میں زخمی ہو کر گرا۔
ہندوستان کا لاڈلا سا موقف تھا کہ جس طرح امریکہ نے پاکستان میں عسکری کارروائی کے ذریعے اسامہ بن لادن کو گرفتار کیا تھا اسی طرح ہم نے بھی وہاں پر موجود اپنے مجرموں کوسزا دے دی۔ اور گویا یہ ہمارا حق تھا۔ قارئین ا س سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اسامہ بن لادن والا بھی الیکشن سٹنٹ تھا امریکی چناؤ کے لیے۔ یہ بات مودی صاحب نے وہیں سے سیکھی۔ بالکل اسی طرح پلوامہ بھی الیکشن جیتنے کی ایک کڑی تھی۔ جس کے بعد پاکستان میں بھارتی فضائیہ کا حملہ گویا مودی سرکار کی الیکشن میں فتح کی ضمانت بن سکتا تھا۔ لیکن ایک چائے کا گھونٹ ہونٹوں تک جاتے میں کچھ سے کچھ ہو سکتا ہے۔ افسوس کہ نتیجہ وہ نکلا جس کا ان لوگوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
افسوس ہندوستان کی جھوٹ بولنے کی پرانی حکمتِ عملی آج بھی ان کی پہچان ہے۔ چھ سات عشروں میں انہوں نے کچھ نہیں سیکھا۔ آج مودی صاحب کے اس ایک جھوٹ کی پاداش میں مودی سرکار کو جہاں بدنامی کی یہ چھپکلی نگلنی مشکل ہورہی ہے وہیں ان کے پائلٹ کی گرفتاری اورا س کے توقع سے برعکس سچے ا ور کھرے بیانات ہندوستان کے لیے وہ ہزیمت بن گئے ہیں کہ جس کو یہ لوگ ایک لمبا عرصہ نہیں بھول سکیں گے۔ یہ بھی سچ ہے کہ بھارت میں سارے لوگ جھوٹے اور عقل کے اندھے نہیں۔ اولوالالباب طبقہ ہر جگہ ہوتا ہے۔ اب ہندوستان کایہ طبقہ سوال پر سوال اٹھا رہا ہے اور مودی سرکار کو جواب دیے نہ بنے والا معاملہ درپیش ہے۔ ابھی آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ یہ سوالات مودی جی کو چین نہیں لینے دیں گے اور خوابوں میں ڈرائیں گے۔
دوسری طرف سنا گیا ہے کہ ابھی نندن صاحب کوجبری ریٹائر کردیا گیاہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ پیراشوٹ سے ایجیکٹ ہونے سے ان کی ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچ گیا ہے۔ (اور وہ ملک کے مزید جہاز گرانے کے قابل نہیں رہے ) جبکہ ایک دنیا نے ابھی نندن صاحب کو ایکٹو اور پوری صحت کے ساتھ چلتے پھرتے تنو مند اورتوانا بارڈرکراس کرتے دیکھا ہے۔ اور شبیر نے یہ بھی دیکھا کہ وہاں کسی بھارتی فوجی نے ان کو سیلیوٹ نہیں کیا۔ ان کا بس چلتا تو کالر سے پکڑ کر لے جاتے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارت ان کی اتنی مہنگی چائے کے شوق کا بوجھ اٹھانے کا متحّمل نہیں ہو سکتا سو ایک بار ہی میں تین کروڑ دے کر ان کو رخصت کردیا گیا ہے۔
سچ یہ بھی ہے اور بہت بڑا سچ ہے کہ ابھی نندن صاحب کا قصور صرف اظہارِ حقیقت تھا۔ انہوں نے جو دیکھا اس کو بیان کردیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں انڈیا کے میڈیا کے غلط پروپیگنڈہ کا شکوہ کیا۔ اور کہا کہ ہمارے ہاں بھی فوج کی پاکستان کی طرح پروفیشنل تربیت ہونی چاہیے ( یہ بھی ایک دبا ہوا شکوہ ہی تھا) ۔ یعنی جنیوا کنوینشن کے مطابق جس طرح پاکستانی ائیر فورس نے مجھ سے اچھا سلوک کیا ہے ویسا ہی بھارت کو بھی اپنے فوجیون کو عملاً سکھانا چاہیے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوج میں دشمن کے قیدیوں اور یرغمالیوں سے اچھا سلوک کرنا نہیں سکھایا جاتا۔ اس پر یاد آیا کہ ابھی نندن صاحب سے بہت پہلے بھارت میں کسی ٹیلی ویژن پروگرام میں ایک سوال کیا گیا تھا کہ ایک ائر فورس افسر کا مزاج کیسا ہونا چاہیے تو انہوں نے کہاتھا بہت بُرا۔ آج ان کے خیالات بدل گئے۔ یہ ہوتی ہے حسنِ سلوک کی طاقت۔ یہ دلوں کو خرید لیتی ہے۔
انڈو پاک کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم پاکستانیوں میں سے جو کبھی غلطی سے بھی ان کی حدود میں چلے گئے، ہندوستان نے ان کے ساتھ نہایت برا اور ظالمانہ سلوک کیا۔ ایک لمبی فہرست ہے۔ حال ہی میں ہندوستان میں ایک پاکستانی قیدی کی جیل کی انتظامیہ کے سامنے دوسرے قیدیوں کے ہاتھوں ہلاکت ہوئی۔ جبکہ انہوں نے اپنا قیدی ہم سے سجا سنورا اور زندہ واپس لیا اور جواب میں ہمیں ہمارے پاکستانی بھائی کی چوٹوں سے بھری لاش بھیجی۔ ایک دوسرا واقعہ کوئی تین ہفتے پہلے کا ہے جس میں ایک پاکستانی بائیس سالہ ذہنی معذور خاتون کا شہید کرنا ہے جو غلطی سے بارڈر کراس کر گئی تھی۔ بہت افسوس ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں جب بھی ان میں سے کوئی بھولا بھٹکا پاکستان کی حدود میں جا نکلا ہے واپس حفا ظت سے گھر پہنچایا گیا ہے۔ ہم سب کو وہ گونگی بہری لڑکی تو یاد ہی ہو گی۔ جس کو ایدھی صاحب نے باپ کی طرح پالا تھا۔ ا سکے عقائد کے لیے اس کو مندر تک بنا کر دیا۔ اور پھر بہت پیار سے ا س کو واپس کیا تھا۔ بھارت کو پاکستان سے اخلاق سیکھنا چاہیے۔ آئندہ کے لیے جھوٹ سے بھی توبہ کر لینی چاہیے۔ جھوٹ کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی سا کھ دنیا بھر میں کافی خراب ہوگئی ہے۔
ہندوستان کو ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ اخلاقیات کو بہتر کرنا ہے، ٹیکنالوجی مل جانے سے انسانیت مہذب نہیں بنتا۔ تہذیب سیکھنی پڑتی ہے۔ سوچوں کی پختگی لانی پڑے گی۔ یہ بچگانہ ہتھکنڈے اور سیاہ کو سفید کرنے کے ڈھکوسلے نہیں چلیں گے۔ آج کیمروں نیز مائکرو فونز کے ذریعے پوری دنیا کو منکر نکیروں کا سامنا ہے۔ ساری دنیا عموماً اور حکمران خصوصاً کیمرے اور مائیکرو فونز کے آگے ہیں۔ ان کا کچھ بھی اب پرائیوٹ نہیں رہا۔ لہٰذا اپنی سوچ کو اکیسویں صدی کے ہم آہنگ کریں۔ اب دنیا کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جا سکتی۔


