کشمیر کی آزادی کے دو ستارے : اداکارہ شمیم آرا اور شیخ رشید احمد


Hashim qureshi

ایک روز بعد بھارتی کشمیر میں موجود سابق حریت پسند رہنما ہاشم قریشی نے یاسین ملک کے بیان کی تصدیق کی۔ واضح رہے کہ ہاشم قریشی 30 جنوری 1971 کو گنگا نامی بھارتی طیارہ اغوا کر کے لاہور لانے والے اغواکاروں میں شامل تھے۔ ہاشم قریشی 1994 تک جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سینئر رہنما رہے۔ بعد ازاں ہاشم قریشی نے مسلح جدوجہد ترک کر کے انتخابی سیاست کا راستہ اختیار کر لیا۔ یاسین ملک کے بیان کے بارے میں ہاشم قریشی نے بتایا کہ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں وہ (ہاشم قریشی) ایسے بہت سے حریت پسندوں کو جانتے تھے جنہوں نے شیخ رشید احمد کے قائم کردہ تربیتی کیمپ میں جہادی تریبت حاصل کی تھی۔ ہاشم قریشی نے یہ بھی بتایا کہ راولپنڈی سے 13 کلومیٹر دور واقع اس تربیتی کیمپ کی نگرانی سردار رشید حسرت نامی شخص کرتا تھا۔ اس موقع پر ہاشم قریشی سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان کے دوسرے سیاسی رہنما بھی اس قسم کے تربیتی کیمپ چلانے میں ملوث تھے۔ ہاشم قریشی نے انگریزی میں جواب دیا

”It will be better to ask whether there was any high official who was not involved in militancy۔ “

اس موقع پر پاکستان کے معروف صحافی حامد میر سے بھی رائے لی گئی تھی۔ حامد میر نے تصدیق کی کہ شیخ رشید کے وسیع و عریض فارم ہاؤس پر 1988 سے 1990 تک جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے حریت پسندوں کو تربیت دی جاتی تھی نیز یہ کہ اس زمانے میں اسلام آباد کے بہت سے صحافی اور دوسرے باخبر افراد اس تربیتی کیمپ کے بارے میں جانتے تھے۔ یاسین ملک کے بیان پر ہاشم قریشی اور حامد میر کی گواہی سے کہیں بڑھ کر موثر شہادت پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے دی۔ 17 جون 2005 کو مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ وہ 1991 میں پاک فوج کے سربراہ تھے اور ان کے علم میں تھا کہ شیخ رشید احمد فتح جنگ روڈ پر واقع اپنے فارم ہاؤس پر کشمیری حریت پسندوں تو عسکری تربیت دیتے تھے۔ تاہم اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو جیسے ہی اس تربیتی کیمپ کی خبر ملی تو انہوں نے فوری طور پر اسے بند کرنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر اسلم بیگ نے یہ بھی کہا کہ جہاد کشمیر میں شیخ رشید کا کردار اتنا اہم نہیں تھا جتنا یاسین ملک بتا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یاسین ملک نے بعد ازاں نامعلوم وجوہ کی بنا پر اپنا یہ بیان واپس لے لیا تھا۔

جہاد کشمیر میں شیخ رشید کے اس تاریخی کردار سے پاکستان کی لیجنڈری اداکارہ مرحومہ شمیم آرا کی یاد آتی ہے۔ شمیم آرا نے 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ اس شخص سے شادی کریں گی جو کشمیر پر پاکستانی جھنڈا لہرائے گا۔ اس زمانے میں شمیم آرا شہرت اور دولت کی بلندیوں پر تھی۔ انہوں نے بھابھی، آنچل، قیدی، دلہن، سازش، چنگاری اور فرنگی جیسی فلموں سے دھوم مچا رکھی تھی۔ وہ بلاشبہ لاکھوں جونوں کے دلوں کی دھڑکن تھیں۔ چنانچہ کئی نوجوان کشمیر فتح کرنے کا خواب لے کر پاک بھارت بارڈر پر پہنچ گئے۔ اس امر کی تصدیق ممکن نہیں کہ ان بہادر نوجوانوں کی آنکھ میں کشمیر کا خواب بستا تھا یا شمیم آرا کا جلوہ رونق دیتا تھا۔ البتہ ایک خان صاحب ان سب نوجوانوں سے بازی لے گئے۔ وہ لاہور میں شمیم آرا کے گھر پہنچ گئے اور بڑھک لگائی کہ ”ہم کشمیر فتح کرنے جا رہے ہیں۔ ہمارا انتطار کرنا۔ ورنہ ہم واپس آ کر تم کو گولی مار دے گا۔ “۔

شمیم آرا نے اپنے بیان کا ہنگامہ ختم ہونے کا انتطار کیا اور پھر کشمیر کو بھول کر بلوچستان کے ایک رند نامی سردار سے شادی کر لی۔ کار کے ایک حادثے میں سردار رند کی موت کے بعد شمیم آرا نے اگفا کلر فلم کمپنی کے مالک گھرانے کے نوجوان عبدالمجید کریم سے دوسری شادی کی۔ شمیم آرا نے تیسری شادی ڈبلیو زید احمد کے بیٹے فرید احمد سے کی۔ حسب روایت یہ شادی بھی طلاق پر ختم ہوئی۔ شمیم آرا نے ڈھلتی عمر میں دبیر الحسن سے شادی کی۔ معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر فتح کرنے کی شرط رکھتے ہوئے شمیم آرا نے کشمیر کے مفہوم میں کچھ ابہام ضرور رکھا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے شیخ رشید جہاد کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے یہ گنجائش ضرور باقی رکھتے ہیں کہ راولپنڈی میں بہت سے شیخ رشید رہتے ہیں۔ یہی نہیں، راولپنڈی میں تو ان ستم ظریفوں کی بھی کمی نہیں جو کہتے ہیں کہ شیخ رشید کا حقیقی نام عبدالرشید بٹ تھا۔ شیخ رشید نام کا ایک طالب علم رہنما سیاست سے کنارہ کش ہو گیا تو رشید بٹ نے اپنا نام بدل کر شیخ رشید رکھ لیا تاکہ اصل والے شیخ رشید کی شہرت پر قبضہ کیا جا سکے۔

یہ سب تفصیل اس لئے بیان کی گئی کہ جہاد کشمیر کے دو ناقابل فراموش کرداروں شیخ رشید احمد اور شمیم آرا کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے اور ہماری آئندہ نسلیں تاریخ کے اس روشن باب سے پوری طرح آگاہ ہو سکیں۔


صفحات: 1 2