تیرا ساتھی، میرا ساتھی۔ جام ساقی، جام ساقی
جب سے ہوش سنبھالا ہے، سندھ میں یہ تیسرا سب سے زیادہ لگائے جانے والا نعرہ تھا جو سنتے آئے اور ہمیشہ سماعتوں میں گھونجتا رہا، یقیناً دوسرا نعرہ ”جئے بھٹو“ تھا۔
کامریڈ جام ساقی سندھ کے وہ سماجی کارکن تھے جنہوں نے ہمیشہ انسانی جمہوری حقوق کے لئے زندگی وقف کردی۔ آپ پاکستان میں کمیونسٹ تحریک کے اولین رہنماؤں اور کارکنوں میں ایک تھے۔
سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر کی تحصیل چھاچھرو کے اک چھوٹے سے گاؤں ”جھنجھی“ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کا کمال تھا کہ حیدرآباد میں پہنچ کر انہوں نے نومبر 1968 ع سندھ کے لکھے پڑھے نوجوانوں کے لئے اک تنظیم ”سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (SNSF) کا بنیاد رکھا۔ ندیم اختر اس تنظیم کے فاؤنڈر نائب صدر اور میر تھیبو جنرل سیکریٹری تھے۔
یقیناً اس دور میں کالج اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے لئے یہ بات نہایت قابل فخر مانی تھی ہم ”ہم SNSF کے نمائندہ یا ممبر ہیں۔“
80 والی دہائی میں سندھ مین اگر کسی سیاستدان کا طوطی بولتا تھا وہ ”جام ساقی“ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان پر ریاست کے تمام ادارون کی نظریں گڑی ہوئی تھیں۔ اس دوراں جام ساقی اور ان کے رفقاء کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر جمال نقوی، قلمکار بدر ابڑو، صحافی سہیل سانگی اور سیاسی کارکن شبیر شر کے خلاف ”ملٹری عدالت“ میں ریاست کے خلاف بغاوت کا کیس داخل کیا گیا۔
یہ کمال کی بات ہے نہ کہ جنرل ضیاء کے اس دور میں کامریڈ جام ساقی کے خلاف بغاوت کیس میں جام ساقی کی دیس سے وفاداری اور ریاست سے بغاوت کے جھوٹے کیس میں گواہی دینے کے لئے اس وقت کے سب سے بڑے لوگ اور ایک دوسرے سے بالکل مختلف سوچ رکھنے والے لوگ عدالت میں پیش ہوئے۔
کامریڈ جام ساقی کی حمایت میں گواہوں میں وفاق کی علامت شہید محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ، بلوچستان سے میر غوث بخش بزنجو، خیبر پختونخواھ سے خان عبدالولی خان، سندھ کے عظیم عالم دین مولانا شاہ محمد امروٹی، پنجاب کے صف اول کے سیاستدان معراج محمد خان اور فتحیاب علی خان سمیت دانشور اور صحافتی کارکن منہاج برنا، افضل صدیقی، شیخ علی محمد، شیخ عزیز، عبداللہ جے میمن، عبدالغنی درس اور دوسرے شامل تھے۔
جبکہ ان کے وکلاء میں ماما محمد یوسف لغاری، عبدالودود، اختر حسین، علی امجد اور شفیع محمدی شامل تھے۔ یقینن ”جام ساقی کیس“ اس وقت کا سب سے بڑا کیس مانا جاتا تھا۔ اور پاکستان کی سیاسی جدوجہد میں اس کیس اور جام ساقی کی کوششوں کا بڑا کردار ہے۔
ریاستی اداروں نے ساری عمر ”جام ساقی“ کو سکھ سے سونے نہیں دیا۔ مجموعی طور پر 15 سال قید میں رہنے والے جام ساقی کی پہلی بیوی ”مائی سکھاں“ کو جب کسی نے یہ غلط اطلاع ملی کہ ”فوجیوں نے جام ساقی کو جیل میں قتل کردیا گیا ہے۔ “ تو اس باوفا خاتون نے درد جدائی میں گاؤں کے کنویں میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی تھی۔
جام ساقی کی شخصیت میں ایک وقت میں کئی خوبیاں موجود تھیں۔ وہ ایک محنت کش سیاستدان، بہترین دانشور، شاندار قلمکار، شیریں زبان مقرر، بہادر انسان اور بہادر لیڈر تھے۔ آدھی عمر کمیونسٹ تحریک سے وابستہ رہنے کے بعد میں محترمہ بینظیر بھٹو سے ساتھ مل کر پ پ پ کا حصہ رہے۔ سندھ میں عوامی سیاسی جدوجہد میں سائیں جی ایم سید کے بعد جام ساقی کا نام نہایت عزت سے لیا جاتا ہے۔
ہمارے سینیئر دوست کامریڈ ڈاکٹر نیاز سومرو تو ہمیشہ جام ساقی کے شیدائی رہے۔ ساری عمر لاہور میں نوکری کرنے بعد جب رٹائر ہوئے تو واپس حیدرآباد واپس چلے گئے۔ کہنے لگے ”کوئی شک نہیں کہ لہور لہور اے، مگر افسوس لاہور میں جام ساقی نہیں، اور میں اپنے یار“ جام ساقی ”کے پاس حیدرآباد جاؤں گا۔ ان کے لئے اچھی بات یہ بھی ہے کہ حیدرآباد پہنچنے کے بعد کامریڈ نیاز سومرو نے“ جام ساقی کو زندگی میں زبردست خراج پیش کرنے کے لئے دوستوں سے مل کرشاندار قومی تقریب کا انعقاد کوایا۔ افسوس کی خبر یہ تھی کہ یہ تقریب دونوں کے لئے آخری تقریب ثابت ہوئی گذشتہ سال دونوں ہی جگ سدھار گئے۔ جام ساقی کے انتقال کا دکھ سارا سندھ جھیل رہا ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ”جام ساقی“ کو اس جنت میں داخل فرمائے جو ”تفکرو فی خلق اللہ“ پر عمل کرنے والوں کے لئے بنائی گئی ہے۔
سندھ میں آج جام ساقی کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے اور اس موقع پر ہمارے پرانے کلاس۔ فیلو اور سندھیالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اسحاق سمیجو صاحب نے سندھیالوجی میں سندھ کی عظیم شخصیات سے منسوب کارنرز میں شہید بشیر خان قریشی کے کارنر کے ساتھ ہی ”جام ساقی کارنر“ کا افتتاح کروایا ہے۔ یہ عمل واقعی قابل داد و تحسین ہے، سندھ واقعی اپنے محسنوں کو نہیں بھولتا۔
جام ساقی تو واقعی سب انسانوں کا ساتھی تھا اس لیے تو یہ نعرہ مقبول ہوا۔ ۔
تیرا ساتھی، میرا ساتھی
جام ساقی، جام ساقی۔
جب سے ہوش سنبھالا ہے، سندھ میں یہ تیسرا سب سے زیادہ لگائے جانے والا نعرہ تھا جو سنتے آئے اور ہمیشہ سماعتوں میں گھونجتا رہا، یقینن دوسرا نعرہ ”جیئے بھٹو“ تھا۔ اور پہلا نعرہ۔ ۔ سندھ میں ”جیئے سندھ“۔ ۔ کے سوا پہلا نعرہ کون سا ہوسکتا ہے ”جیئے سندھ“۔





