جس کو کوئی نوکری نہیں ملتی وہ استاد بن جاتا ہے
”جس کو کوئی نوکری نہیں ملتی اور کسی جگہ وہ جا نہیں سکتا تووہ استاد بن جاتا ہے۔ “ گزشتہ چند دنوں سے تعلیمی حلقوں میں بہت زیادہ چرچا جس بات کا ہو رہا ہے وہ ہمارے پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم جناب ڈاکٹر مراد راس کا یہی جملہ ہے جو کہ موجودہ اساتذہ کے بارے میں انہوں نے ایک پریس ریلیز میں اس وقت ادا کیا تھا جب وہ نئی تعلیمی اصلاحات کا تعارف کروا رہے تھے۔
اس بیانیے کی خاصیت یہ ہے کہ اس جملہ کو آج کل کے متنازعہ بیانات میں شمار کیا جارہا ہے اور مختلف مکاتب فکر کے لوگ اس بیان پر مختلف آراء کا اظہار کرتے نظر آرہے ہیں۔ کچھ کے نزدیک تواس میں کوئی غلط بات نہیں ہے اور وزیر تعلیم نے صرف ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا اظہار کیا ہے جبکہ کچھ کے نزدیک یہ اساتذہ کی شان میں ایک صریح گستاخی اور نا قابل معافی جرم ہے بلکہ کچھ ناراض اساتذہ نے تو اسی جملے کے وزن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نیاجملہ متعارف کروا دیا کہ ”جس کو کوئی وزارت نہیں ملتی وہ وزیر تعلیم بن جاتا ہے۔ “
خلق خدا کے دیکھا دیکھی میں نے بھی اس موضوع پر کچھ لکھنے کا پلان بنایا اور ایک اچھے محقق کے فرض کو ملحوظ رکھتے ہوئے پہلے پوری پریس ریلیز کی ویڈیو دیکھی۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد چند ایک باتوں کو لکھنے کی اشد ضرورت محسوس کی اور قارئین کی عدالت میں حاضر ہو گیا۔
غصہ بجا اور حقیقت پسندانہ ہے کہ ایک سرکاری عہدے دار کو اپنے ملک و ملت کے ان معماروں کے لئے یہ جملہ مناسب نہیں لگتا۔ لیکن اگر سیاق و سباق کو مد نظر رکھا جائے تو کچھ نرمی کے حقدار جناب وزیر تعلیم صاحب بھی نظر آتے ہیں کہ انھوں نے اس جملے سے فوراً پہلے ہی اس جملے کی تکلیف کا اعتراف بھی کرلیا تھا۔ لیکن پھر بھی تمہید کا یہ انداز اگر دل آزاری کا باعث بنا تو ہمیں حقیقت پسند بننا پڑے گا کیونکہ بات تو سچ ہے مگر کے مصداق یہ جملہ بھی تلخ ہی سہی مگر کچھ حد تک درست بھی ہے۔
سوچ اب اس امر کی ہے کہ ایسا جملہ ارباب اختیار کو ادا ہی کیوں کرنا پڑا اور کیا اس جملے میں اساتذہ کی تحقیر ہے یا حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف؟
اگر تو اساتذہ کی تحقیر ہے پھر تو بات ہی غیر ضروری ہے کہ جومعاشرہ اپنی کوتاہیوں اور ناکامیوں کو اپنے اساتذہ پر ڈال دے اس معاشرے کے حکمران ایسی ہی گفتگو کرتے نظر آئیں گے اور جواب میں لوگوں کے ایسے ہی غصہ اور ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور اگر حکومت اپنی ناکام پالیسیوں کا اعتراف کر رہی ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے کہ دیر آئے مگر درست آئے کی مثال چلیں کسی حکومت نے اس طرف نظر تو ڈالی ورنہ پہلے تو چل سو چل ہی تھا۔
قارئین کرام اگر ہم کھلے دل کے ساتھ حکومت کے اس موقف کو درست تسلیم کریں کہ وہ تعلیمی میدان میں اصلاحات کرنا چاہ رہی ہے تو بلا شبہ یہ ایک تعریفی اقدام ہے۔ ایسے میں ایک تجویز ہم بھی دیتے چلیں کہ ڈاکٹر مراد راس نے جب اساتذہ کی لائسنسنگ کی بات کی تو انہوں نے مثال بھی دی کہ جس طرح ڈاکٹرز اور وکلاء کے باقاعدہ لائسنس ہوتے ہیں اسی طرح اساتذہ کے لئے بھی ضروری ہونا چاہیے کہ وہ بھی لائسنس یافتہ ہو کر استاد کہلوائیں یعنی کوئی بھی آئندہ یہ نہ کہہ سکے کہ کوئی اور نوکری نہیں ملی تو استاد بن گئے۔ لیکن کیا صرف لائسنس کا اجراء کردینا کافی ہے؟ کیوں نا اس بنیادی مسئلہ کوبنیاد سے ہی حل کر لیا جائے تاکہ جو تنقید اور ناپسندیدگی کی لہر آنی ہے وہ ایک دفعہ ہی آئے اور پھر مسئلہ کے لئے خوب سے خوب تر حل تجویز کیے جا سکیں۔
یقین مانئے پی سی ایس یا این ٹی ایس کسی استاد کی اہلیت کو ماپنے کا کوئی معقول معیار نہیں ہے۔ ان امتحانات کے ذریعے تو واقعی وہ افراد جو مختلف نوکریوں کی تلاش میں ہوتے ہیں وہ ادھر بھی قسمت آزماتے ہیں اور ان میں سے چند خوش قسمت اگر استاد بن جائیں تو انھیں یہ جملہ بھی سننے کا حوصلہ رکھنا چاہیے کہ وہ ٹیچر بائے چانس ہیں۔ اس پر مزید آسانی کہ بی ایڈ اور ایم اٰیڈ کی ڈگریاں بھی جس طرح حاصل کی جارہی ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
کیا ہی احسن قدم ہو اگر ہم ڈاکٹر، انجینئیر یا کسی آئی ٹی کے ماہر کی طرح استاد کی بھی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کرلیں۔ کیونکہ جب ہم یہ تسلیم کر لیں گے کہ استاد بھی کسی معاشرے کا اہم ترین جزو ہے تو ہم اس کے لئے بھی اسی طرح تیاری کریں گے جس طرح ڈاکٹر یا انجنئیر بننے کے لئے کرتے ہیں۔ یعنی میٹرک کے بعد جب انٹرمیڈیٹ کا مرحلہ آئے تو ڈاکٹر اور انجینئیر بننے والے طلباء و طالبات کی طرح استاد بننے والے طلباء بھی اپنی سمت کا تعین کرلیں۔
جس طرح پری میڈیکل اور پری انجینئیرنگ ہے اسی طرز پر اگر پری ایجوکیٹر بھی متعارف کروا دی جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ لازمی مضامین کے ساتھ علم التعلیم، تعلیمی نفسیات اور جنرل سائنس کے مضامین کو شامل نصاب کر کے اس جماعت کا خصوصی انعقاد کرایا جائے اور بالکل میڈیکل اور انجنئیرنگ کالجز کی طرح ایجوکیٹرز کے لئے بھی الگ کالج یا یونیورسٹیز ہوں جہاں چار سالہ تعلیمی کورسسز کروائے جائیں۔ ہاؤس جاب اور انٹرن شپس کی طرح ایجوکیٹرزکی بھی مختلف مدارس میں عملی تدریس مکمل کرنے کے بعد پاکستان ایجوکیٹرز کونسل باقاعدہ ان کو لائسنس جاری کرے اور جو کالج یا یونیورسٹیز میں پڑھانا چاہتے ہوں ان کو ان کی پسند کے مضامین میں سپیشلایزیشن کروائی جائے جس کے بعد وہ کالج اور یونیورسٹی میں پڑھانے کے اہل ہوں۔ موجودہ بی ایڈ اور ایم ایڈ کو بھی پیرا میڈیکل یا ایسوسی ایٹ ڈپلومہ کی طرح اہمیت حاصل ہو اور اضافی نمبرات ہوں۔
یقیناً اس سخت لیکن بھرپور نظام سے گزرنے کے بعد استاد واقعی ایسی ہستی ہوگا جس کی قابلیت یا اہلیت پر کوئی سوال تو دور کی بات ہے کسی کی ہمت تک نہ ہوگی کہ ان کا مقابلہ کر سکے۔ جیسے ہم کسی ڈاکٹر کی قابلیت پر تحفظات رکھنے کے با وجود اس کی ڈگری اور تعلیمی کارکردگی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں اسی طرح یہ ایجوکیٹرز بھی مستند اور باقاعدہ استاد ہوں گے کیونکہ یہ ٹیچر بائے چانس نہیں بلکہ ٹیچر بائے چوائس ہوں گے۔ استاد وہ واحد ہستی ہے جس نے مستقبل کے معماروں کی تعمیر کرنی ہوتی ہے سو خود اس ہستی کی تعمیر و تکمیل کس قدر اشد ضروری ہے اس بات کی اہمیت کا ادراک ہمارے لئے بہت ضروری ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیجیے کہ آپ نے کوئی ترازو یا پیمانہ بنانا ہے لیکن اگر آپ کے پاس اس پیمانے کو بنانے والے اوزار ہی قابل اعتبارنہیں ہیں تو کیا آپ کا تیار کردہ پیمانہ یا ترازو درست ہوگا؟ سو کسی بھی لائسنس یا اصلاحات کو نافذ کرنے سے پہلے استاد کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنا ازحد ضروری ہے۔


