پاکستان کی نامور خواتین


ویسے تو عالمی اقتصادی فورم W E F کے ایک سروے کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جن میں خواتین کو صنفی امتیاز کے سلوک کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 149 ممالک کا سروے کیا گیا جن میں پہلے نمبر پر سعودی عرب دوسرا پاکستان تیسرا مصر اور چوتھا ملک یمن ہے جہاں خواتین دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ صنفی امتیاز کا نشانہ بنتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں خواتین کو زندگی کے مختلف شعبوں اور خصوصًا سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع پیدا کیے گئے۔ پارلیمنٹ میں خواتین کو 17 فیصد اور ضلعی نظام حکومت میں 33 فیصد نمائندگی دینے کے تاریخی فیصلے کیے گئے جبکہ مشرف کے ہی دٶر میں لیڈیز فرسٹ کا نعرہ لگایا گیا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد خواتین سیاستدانوں میں مادر ملت فاطمہ جناح بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بیگم شائستہ اکرام اللّٰہ کے علاوہ جن خواتین نے سرگرم رہ کر فعال کردار ادا کیا ان میں بیگم نصرت بھٹو محترمہ بینظیر بھٹو سیدہ عابدہ حسین تہمینہ دولتانہ فہمیدہ مرزا حنا ربانی کھر وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے محترمہ بینظیر بھٹو کو عالم اسلام اور پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بیگم نصرت بھٹو کو پہلی سینیئر خاتون وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا کو پاکستان کی قومی اسمبلی کی پہلی خاتون اسپیکر اور حنا ربانی کھر کو پہلی خاتون وزیر خارجہ کا تاریخی اعزاز حاصل ہوا

دیگر خواتین سیاستدانوں میں شیری رحمٰن ڈاکٹر شیریں مزاری فوزیہ وہاب جبکہ نوجوان خواتین میں سیدہ شہلا رضا ڈاکٹر نفیسہ شاہ ڈاکٹر راحیلہ مگسی سسّی پلیجو۔ شہلا فاروقی شہلا رضا سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر بھی بنی ہیں۔ شعر و ادب میں خواتین کے جو بڑے نام ہیں ان میں کشور ناہید فہمیدہ ریاض ادا جعفری قرۃ العین حیدر سیدہ نورالہدیٰ شاہ ثریا بجیا ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو تہمینہ درانی فاطمہ حسن پروین شاکر نوشی گیلانی ریحانہ روحی شبنم شکیل سیدہ عائشہ غفار شاہدہ لطیف ذکیہ غزل موجودہ دور میں مقبول شاعرات میں ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ سرفہرست ہیں اس کے علاوہ کنیز فاطمہ روبینہ ممتاز مدیحہ شوق حجاب فاطمہ حجاب وغیرہ شعر و ادب میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ خواتین صحافت میں زاہدہ حنا رضیہ بھٹی شیری رحمان ڈاکٹر شیریں مزاری ثمینہ راجہ وغیرہ کا کردار قابل تحسین رہا ہے۔ سندھ سے نورالہدیٰ شاہ ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو ڈاکٹر مہتاب ڈاکٹر دُر شہوار اور پنجاب سے تہمینہ درانی نے جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سماج کے خلاف ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ سندھ کی سیاست میں نصرت سحر عباسی بھی سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ سوشل میڈیا میں کراچی کی بسمہ نورین سماجی اور مذہبی و ملکی مسائل کے حوالے سے قومی سطح پر بڑا فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے لاہور سے تعلق رکھنے والی ممتاز قانون دان عاصمہ جہانگیر نے تمام عمر دلیرانہ جدوجہد کی اور عالمی سطح کی شہرت حاصل کی۔ جبکہ سوات کی ملالہ یوسف زئی نے بچپن سے ہی جہالت کے خلاف جدوجہد شروع کر کے تعلیم کی روشنی پھیلانے کی عملی جدوجہد کی جس کی پاداش میں وہ دہشت گردوں کا نشانہ بن گی تاہم ان پر قدرت مہربان رہی اور ان کی زندگی بچ گئی۔ ملالہ دنیا میں سب سے کم عمر میں نوبل امن انعام حاصل کرنے والی اعزاز کی حامل لڑکی ہیں۔۔ وہ ایک بہادر اور پُر عزم بچی ہیں۔ وہ دہشت گردوں کے باعث اپنے ملک میں نہیں رہ سکتی مگر ان کا دل اپنے وطن پاکستان کے لئے دھڑکتا اور تڑپتا رہتا ہے۔

بلوچستان جیسے قبائلی و نیم قبائلی معاشرے میں خواتین کا ادب و صحافت طبّ قانون و تعلیم اور سیاست میں فعال کردار ادا کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ بلوچستان کی بہت سی خواتین نے اپنی محنت لگن اور جدوجہد کی بدولت معاشرے بڑی عزت و احترام اور بڑا مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے معاشرے کی بہتری کے لئے سرگرم اور فعال کردار ادا کیا ہے۔ سماج کو بدلنے کے لئے ان کی جدوجہد تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ بلوچستان کی معروف قانوندان سیدہ طاہرہ صفدر جو بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ کی موجودہ چیف جسٹس ہیں جنہوں نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان میں یہ منفرد اور تاریخی اعزاز حاصل کیا ہے۔ اسی بلوچستان میں بلوچ معاشرے کی خاتون طاہرہ احساس جتک جن کا تعلق رابعہ خضداری کے شہر خضدار سے ہے۔ طاہرہ احساس جتک کو بلوچستان کی خواتین میں یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ بلوچی براہوی اور اردو میں بہترین شاعری کی ہے وہ ایک درجن سے زائد کتابوں کی مصنفہ ہیں اور وہ گورنمنٹ گرلز کالج کی پرنسپل کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ میں نے پچھلے سال ان کی تعلیمی اور ادبی خدمات کے حوالے سے ایک مضمون تحریر کیا جس میں ان کو دُخترِ بلوچستان کے خطاب سے مخاطب کیا تھا۔ اہلیان بلوچستان کو یہ خطاب مناسب لگا اس لئے اب ان کو دختر بلوچستان کے خطاب سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ پرفیسر طاہرہ احساس کی ایک صاحبزادی حمیرا حدف حسنی ہیں اور وہ بھی اپنی والدہ محترمہ کے نقش قدم پر رواں دواں ہیں تعلیم اور ادب کے میدان میں وہ بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ اس کے علاوہ تسنیم صنم جہان آریٰ تبسم کرن حیدر سیدہ نجمہ واحد فردوس انور قاضی فرزانہ خدرزئی پروفیسر زینت ثنا و دیگر کی بہت بڑی ادبی خدمات ہیں۔

بلوچستان میں صحت کے میدان میں ڈاکٹر شہناز لاشاری سب سے بڑا نام اور مقام رکھتی ہیں۔ ان کا تعلق گنداواہ ضلع جھل مگسی سے ہے لیکن وہ اور ان کی بہن ڈاکٹر نجمہ غفار کوئٹہ منتقل ہو چکی ہیں تاہم انہوں نے اپنے آبائی علاقہ سے رابطہ نہیں توڑا ہے۔ ڈاکٹر شہناز لاشاری محکمہ صحت سے رٹائر ہو چکی ہیں اور بلوچ قوم پرست سیاست میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں اور اس وقت بلوچستان نیشنل پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ہیں۔ زبیدہ جلال کا سیاست اور تعلیمی خدمات کے حوالے سے بڑا اہم کردار ہے۔ سماجی تنظیموں کے حوالے سے مجھے ان کے ساتھ مختصر کام کرنے کا تجربہ حاصل ہوا ہے ہے وہ ایک نیک دل باوقار اور سنجیدہ اور کم گو خاتون ہیں۔ انہوں نے تربت جیسے پسماندہ اور دور افتادہ علاقے میں علم کی شمعیں روشن کر رکھی ہیں وہ پہلے 2002 میں وفاقی وزیر مقرر ہوئی تھیں اور اس وقت بھی وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز ہیں۔ بلوچستان کے سابق گونر اور سابق وزیر اعلیٰ نواب ذولفقار مگسی کی اہلیہ محترمہ بیگم شمع پروین مگسی گزشتہ 3۔ سال کے عرصہ سے سیاست کے میدان میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ متعدد بار رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ ان کا تعلق ضلع جھل مگسی سے ہے اور مجھے بڑے افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے ضلع کے اندر تعلیمِ نسواں کے حوالے سے کوئی ایک کالج بھی قائم نہیں کروا سکی ہیں۔ شاید اس حوالے سے ان کو کچھ مجبوریاں درپیش ہوئی ہوں گی ورنہ پسے ہوئے طبقے اور نادار افراد کی مدد اور خدمت کی نیک شہرت رکھتی ہیں۔ بلوچستان میں کچھ ایسی بھی خواتین ارکان اسمبلی اور وزیر رہی ہیں کہ وہ صرف نام کی حد تک تھیں اور ہیں ان کی جگہ پر ان کے شوہر باپ اور بھائی اختیارات استعمال کرتے رہے ہیں۔

بلوچستان کی سیاست میں راحیلہ حمید درانی کو بھی جسٹس طاہرہ صفدر کی طرح منفرد اور تاریخی اعزاز حاصل رہا ہے کہ وہ پاکستان کی صوبائی اسمبلیوں کی تاریخ میں راحیلہ درانی کو بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی اسپیکر رہنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے اپنا یہ اہم ترین منصب بہت احسن طریقے سے استعمال کیا ہے۔ یہ بھی زبیدہ جلال کی طرح نہایت سنجیدہ کم گو اور باوقار خاتون ہیں۔ مجھے چیف جسٹس طاہرہ صفدر صاحبہ کی میڈیا کوریج کا اعزاز اس وقت حاصل ہوا جب وہ 2007 میں ڈیرہ اللّٰہ یار میں سیشن جج تھیں اور وہ ڈیرہ مراد جمالی میں جناب منور شاہوانی کی سربراہی میں ایک جوڈیشری کانفرنس میں شرکت کی غرض سے تشریف لائی تھیں۔ جسٹس منور شاہوانی سے میری پرانی نیاز مندی ہے اور وہ میری کالم نگاری پر پسندیدگی کا اظہار کرتے تھے۔ بلوچستان کی خواتین سیاستدانوں میں یاسمین لہڑی اور مسز خورشید بروچہ کا کردار بھی قابل تحسین ہے۔ بلکہ یاسمین لہڑی نے نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی کی حیثیت بڑا بولڈ کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت بلوچستان عوامی پارٹی کی ایم پی اے بشریٰ رند اور ہما رئیسانی بھی سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم ہما رئیسانی اپنی پارٹی پالیسیوں سے اختلافات کے باعث پارٹی سے الگ ہو چکی ہیں مگر فلاحی اور سماجی شعبوں میں اپنی بہتر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ جبکہ صحت کے شعبے میں جھل مگسی کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر رخسانہ مگسی کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ ان کو بلوچستان میں پہلی خاتون میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور پہلی خاتون ڈی ایچ او بننے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ ڈاکٹر رخسانہ مگسی بھی زبیدہ جلال رند اور راحیلہ درانی کی طرح نہایت سنجیدہ بردبار کم گو محنت اور لگن والی باوقار خاتون ہیں جبکہ بلوچستان کی خواتین صحافت میں شاہین روحی بخاری نوشین قمبرانی اور سیدہ زیب النّسا غرشین کا نام سرفہرست ہے۔ میں آخر میں ان معزز خواتین سے معذرت خواہ ہوں جن کے نام نہیں لکھ سکا یا مجھے یہ تحریر لکھتے وقت ان کے نام یاد نہیں آئے۔

Facebook Comments HS