میرے پاس بس ایک ہی راستہ تھا، خودکشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پانچ سال پہلے میرے پاس بس ایک ہی راستہ تھا، خودکشی۔ اس کی وجوہات میں بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ محدود سرکل، محدود وسائل اور محدود سوچ (مجھے لگتا ہے کہ سوچ میں وسعت لانے کے لئے حلقہ احباب کا وسیع اور باشعور ہونا ضروری ہے ) نے مجھے زندگی سے اس قدر باغی کر دیا کہ مجھے زندگی میں کوئی کشش محسوس ہی نہ ہوتی تھی۔ میں ہمیشہ سے زندگی سے باغی نہ تھی لیکن وقت اور حالات نے مجھے ایسا کر دیا۔

خیر پانچ سال پہلے جب میں نے لاسٹ اٹیمپٹ کی تو مجھے یاد تو نہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ میں نے اپنے آپ کو بہت اذیت دی۔ اور اس کے آفٹر ایفیکٹس بھی مجھے ہی بھگتنے پڑے۔ اس کے بعد میں نے سوچنا شروع کیا۔ میں نے سوچا کہ میرے مر جانے سے کیا فائدے ہوں گے یا کس کس کو نقصان ہو گا۔

یہ سوچنے اور اس بات پہ غور کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ میرے مرنے سے فائدہ تو شاید ایک دو لوگوں کو ہو گا (میری سوچ کے مطابق) لیکن سب سے زیادہ نقصان میرے بچوں کا ہو گا۔ میرا نقصان تو ہو گا ہی ہو گا۔ بچوں کا نقصان مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتا سو ایک وجہ تو یہ ملی کہ اب جینا ہے۔ دوسری وجہ یہ ملی کہ بھئی تم مر گئی تو دنیا کی ناک میں دم کون کرے گا۔ پھر مجھ میں لکھنے کا جذبہ جاگا۔ وہ جو کئی عرصہ پہلے مر گیا تھا۔

میں نے اس جذبے کو نہلا دھلا کے میدان میں اتارا۔ پہلے ڈائری لکھتی تھی۔ پھر فیس بک پہ لکھنے لگ گئی۔ لکھتی گئی لکھتی گئی۔ بے سروپا باتیں، اپنے قصے، اپنی خواہشات اور جب کچھ نہ سمجھ آیا تو گانوں غزلوں کے بول لکھ کے بھڑاس نکالی۔ پھر یہ ہوا کہ پہلے لوگ حیران ہوئے کہ یہ کون پاگل ہے۔ پھر کچھ چونکے۔ اور پھر کچھ پسند بھی کرنے لگے۔ لوگوں کو پڑھنے کا موقع ملا تو سوچ بھی وسیع ہوئی۔ لوگوں سے ملنے جلنے کی ہمت آنے لگی۔

بلاشبہ مجھے اس سوشل میڈیا سرکل سے جہاں بہت اچھے لوگ ملے وہیں بہت برے بھی۔ جہاں لوگوں نے میرے پیروں سے زمین کھینچنی چاہی مجھے گمنام کرنا چاہا۔ وہیں ایسے دوست بھی ملے جنہوں نے کہا کہ اڑ جا کڑیے پورا آسمان تیرا ہے۔ اعتماد بہت اچھی چیز ہے خاص طور پہ جب یہ اعتماد آپ کی صلاحیتوں پہ کیا جائے۔ گھر سے بھی سپورٹ ملی، اس جملے کے ساتھ کہ یہ عقل تمہیں پہلے آ جانی چاہیے تھی۔ خیر عقل عقل ہوتی ہے چاہے جب بھی آ جائے۔

اپنے آپ کی قدر ہوئی تو اپنے آپ سے پیار بھی ہوا۔ میں خوبصورت ہوں۔ کسی کے کہنے یا نہ کہنے سے مجھے فرق نہیں پڑتا۔ میں جیسی ہوں خالص ہوں۔ جسے میری شکل یا جسم پہ اعتراض ہو گا تو یہ بھی اس کا مسئلہ ہے میرا نہیں۔ میں کسی سے کم تر نہیں۔ مجھے اپنا نام بنانا ہے۔ مجھے دنیا کو بتانا ہے کہ ہاں میں جینے کے قابل ہوں۔ مر تو ہر شخص نے ہی جانا ہے تو میں کیوں اپنا حسن خراب کر کے مروں۔

پانچ سال پہلے مجھے صرف میرے رشتے دار یا ارد گرد کے لوگ جانتے تھے۔ اب باشعور دوست جانتے بھی ہیں اور عزت بھی دیتے ہیں۔ بے شک عورت کو عزت دینا بھی دل گردے والے ہی کر سکتے ہیں۔ آج عورت کے عالمی دن کے موقع پر میرا پیغام تمام عورتوں کے لئے یہ ہے کہ کوشش اور ہمت کبھی مت چھوڑیں۔ کسی دوسرے کو چاہے وہ کوئی بھی ہو آپ کی ذات کے فیصلے مت کرنے دیں۔ آزادی، محبت اور احترام عورت کا بنیادی حق ہے۔ اس کے اس حق کو تسلیم کریں۔

یہ مت جتائیں کہ آپ بطور مرد یہ احسان عورت پہ رکھیں کہ میں نے تمہیں آزادی دی ہے۔ آزادی دینے والے آپ کوئی نہیں ہوتے کیونکہ جس طرح بطور مرد آپ اپنے فیصلوں اور زندگی گزارنے کے طریقوں میں آزاد ہیں۔ ویسے ہی عورت بھی ہے۔ غیرت کے نام پہ قتل، پسند کی شادی کرنے پہ قتل، محبت کرنے پہ قتل، شادی کے لئے نہ ماننے پہ قتل یا تیزاب سے جھلسا دینا، کاری کر دینا، قرآن سے شادی، طلاق ہو جانے کی صورت میں معاشرے کے برے رویئے کو برداشت کرنا اور مظالم کی طویل فہرست میرے دماغ میں چل رہی ہے۔ کیوں ہم نے غیرت کا معیار صرف عورت کی شلوار کو بنا لیا ہے۔ بھئی شلوار سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔

اس سال کے میرے گول بہت کمال ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اگلے وومن ڈے تک میں ان کو حاصل کر لوں گی۔ پھر اس کی کہانی بھی ضرور شئیر کروں گی۔ تب تک آپ بھی کوشش کرئیے کہ اپنی زندگی میں اچھے بدلاؤ لانے کے لئے کوشش کریں گی۔ اور دنیا کو بتا دیں گی کہ عورت کمزور نہیں، اور نہ ہی کسی بھی طرح سے مرد سے کم تر ہے۔
Happy women ’s day

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •