اقوام متحدہ میں سعودی عرب پر سخت تنقید: امریکا کے سوا کسی نے ساتھ نہیں دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافی جمال خاشقی کے قتل اور ملک ميں انسانی حقوق کے ابتر ريکارڈ کے تناظر ميں اقوام متحدہ کی ہيومن رائٹس کونسل ميں سعودی عرب پر باقاعدہ تنقيد کی گئی ہے۔ امريکا کے سوا باقی مغربی ممالک اس معاملے پر يکساں موقف رکھتے ہيں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق کونسل ميں پہلی مرتبہ سعودی عرب پر باقاعدہ تنقيد کی گئی ہے۔ يورپی يونين کی تمام اٹھائيس رياستوں سميت کُل چھتيس ممالک نے رياض حکومت پر زور ديا ہے کہ ملک ميں قيد انسانی حقوق کے کارکنوں کو رہا کيا جائے اور صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقيقات کے سلسلے ميں اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کيا جائے۔ جنيوا ميں ہيومن رائٹس کونسل ميں يہ پيش رفت جمعرات سات مارچ کو ہوئی۔

اقوام متحدہ کی ہيومن رائٹس کونسل کے سن 2006 ميں قيام کے بعد يہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب پر انسانی حقوق کے حوالے سے ايک مشترکہ اعلاميے کی صورت ميں اس طرح باقاعدہ تنقيد کی گئی ہے۔ يہ پيش رفت صحافی جمال خاشقجی کے استنبول ميں سعودی قونصل خانے ميں پچھلے سال اکتوبر کے اوائل ميں ہونے والے قتل کے علاوہ سعودی عرب ميں انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے اور بنيادی حقوق کی صورتحال کے تناظر ميں سامنے آئی ہے۔

يورپی يونين کے تمام رکن ممالک سمیت کينيڈا اور آسٹريليا کے حمايت يافتہ مشترکہ اعلاميے ميں کہا گيا، ’’سعودی عرب ميں پرامن انداز سے اپنے حقوق بروئے کار لانے والے افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانين اور قومی سلامتی کی مد ميں اٹھائے جانے والے ديگر اقدامات پر فريقين کو شديد تحفظات ہيں۔‘‘ انسانی حقوق کے کارکن الزام عائد کرتے ہيں کہ سعودی عرب ميں مختلف معاملات ميں آزادی اور ديگر امور کے ليے سرگرم ہونے کی وجہ سے قيد خواتين کارکنان کو جيلوں ميں بجلی کے جھٹکے ديے جاتے ہيں، انہيں جنسی زيادتی کا نشانہ بنايا جاتا ہے اور اس کے علاوہ تشدد کے ديگر طريقہ ہائے کار بھی استعمال کيے جاتے ہيں۔

مشترکہ اعلاميے ميں مزيد گيا ہے کہ انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن سعودی عرب ميں جاری اصلاحات کے اس عمل ميں کليدی کردار اد کر سکتے ہيں، جو ان دنوں وہاں جاری ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق کونسل نے بالخصوص دس کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کيا ہے۔ ان ملکوں نے اس موقع پر خاشقجی کے قتل کی بھی بھرپور الفاظ ميں دوبارہ مذمت کی۔ فريقين نے اس معاملے کی شفاف اور آزاد تحقيقات پر زور ديا اور رياض حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ اقوام متحدہ کی زير نگرانی تفتيشی عمل ميں تعاون کا مظاہرہ کرے۔

ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی خصوصی تفتيش کار ايگنس کيلامارڈ نے اس موقع پر کہا کہ عالمی برادری کی يہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس ملک ميں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزيوں پر سے پردہ اٹھايا جائے، جو اب تک اس قسم کی تنقيد اور جواب دہی کے عمل سے بچتا آيا ہے۔ واضح رہے کہ رياض حکومت کی جانب سے اس پوری پيش رفت پر فی الحال کوئی رد عمل سامنے نہيں آيا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •