اکیسویں صدی میں خواتین کا کردار
سماجی نظام چونکہ مرد کی خواہشات کے تابع ہے لہٰذا وہی عورت کے کردار کی تشکیل کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عورت اپنے کردار کی تشکیل خود کرے۔ عورت پر تشدد کے خلاف جدوجہد کی شروعات ہوئی۔ بچوں کی نگہداشت کے لیے سہولیات، حمل ضائع کرنے کی اجازت اور جنسی طور پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ، دوسرے دورکے سرِفہرست مطالبات تھے۔
آج اگر ہم ترقی یافتہ مغربی ممالک کی طرف دیکھیں تو خواتین ہر جگہ بازاروں، آفیسوں، بنکوں اور دیگر اِداروں میں کام کرتی نظر آئیں گی اور اب ترقی یافتہ ممالک نے وسیع پیمانے پر اِس حقیقت کا اِعتراف کر لیا ہے کہ کسی بھی سوسائٹی کی تہذیب کو ناپنے کا پیمانہ یہ ہے کہ وہاں کے لوگ اپنی خواتین کے ساتھ کیسا برتاؤکرتے ہیں یعنیHow you view womenخواتین کی جانب سماج کا Viewدراصل، پوری سوساٹی کا Viewہے۔ اس سے آپ ثابت کرتے ہیں کہ آپ کا معاشرہ اور آپ کتنے ترقی یافتہ اورمہذب ہیں۔
بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرق ہو یا مغرب۔ ابھی عورت کو بحیثیت انسان خود کومنوانے کے لیے ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ گو کہ مغربی ممالک میں عورت، مشرقی ممالک کی نسبت زیادہ محفوظ، توانا اور برسرِروزگار ہے مگر اَب بھی وہ کئی زاویوں اور حوالوں سے استحصال کا شکار ہے اور اِس استحصال میں، وہ بغیر سوچے سمجھے اپنی حصہ داری یا شراکت قائم رکھے ہوئے ہیں۔ عورت کو کیسا دِکھنا چاہیے؟ یہ فیشن انڈسٹری اور ان میں کام کرنے والے دماغ طے کرتے ہیں۔
اس حوالے سے دیکھا جائے تو اَب بھی عورت کو ایک جسم کی حیثیت سے کاروباری دُنیا کے گھاگ دماغ اِستعمال کر رہے ہیں لیکن بہرحال اِمکان غالب ہے کہ جدید عورت خود کو اِس اِستحصالی نظام سے جلد یا بدیر آزاد کرانے میں کامیاب ہو جائے گی اس لیے کہ اب اس عملی جدوجہد میں وہ اکیلی نہیں بلکہ مرد بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں نہ صرف مرد بلکہ اب کئی اسٹیٹس بھی اپنے قوانین کے ذریعے عورت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر چکی ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو اُنیسویں صدی میں خود کو برسرِروزگار دیکھنے کی خواہشمند خواتین نے ایک مستقل اور بامعنی جدوجہد سے کئی محاذوں پر پے در پے کامیابیاں حاصل کر کے، خود کو بحیثیت انسان کامیاب و کامران دیکھا ہے۔
جب کہ اس کے مقابلے میں اگر ہم مشرقی اور بالخصوص اِسلامی ممالک، بشمول پاکستان کو اکیسویں صدی میں دیکھیں تو ہمیں خواتین کی جدوجہد اپنے پہلے مرحلے میں ہی کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ عورت کی خودمختاری کے لیے، اس کا برسرِروزگار ہونا پہلا اور بنیادی قدم ہے۔ خودمختار عورت گھر میں، گھر سے باہر، اپنے خلاف ہونے والی زیادتی پر، کسی نہ کسی سطح پر احتجاج کرنے اور اسے روکنے کی پوزیشن میں آ جاتی ہے لیکن بنیادی مسئلہ پھر بھی یہی ہے کہ معاشرے میں اب بھی مردوں کی ایک نہایت قلیل تعداد خواتین کو ان کا جائز مقام دینے کے لیے، آزادی اور احترام، تعلیم اور روزگار کا حق دینے میں عورتوں کے ساتھ کھڑے نظر آتی ہے جب کہ اکثریت آج بھی عورت کی آدھی گواہی اوراس کے ساتھ ہونے والے زنا کی صورت میں چار گواہان نہ لانے پر عورت کو سنگسار کرنے کے حق میں ہے۔
لوگوں کی اکثریت اب بھی خاندان کی عزت، گھر کی عزت او ر مردانہ غیرت کے نام نہاد تصور پر عورت کے قتل پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے۔ اور جب بدقسمتی سے کسی مُلک کے قوانین، عورت کے خلاف اِنتہا درجے کے تشدد میں، اس کے قاتلوں کا ساتھ دیں تو پھر باقی کیا رہ جا تا ہے۔ اس موضوع پر مشرق سے جوتوانا آواز اٹھی، اس کی بازگشت اس وقت تک سنی جائے گی جب تک مرد وزن دونوں ظلم و زیادتی کے خلاف ہم آواز نہیں ہو جاتے۔ نسیم سید کی نظم آدھی گواہی اس ضمن میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہے :
آدھی گواہی
عظیم مصنف
ہماری قسمت کی ہر عدالت کا فیصلہ ہے
کہ ہم
جب اپنے بدن کی بے حرمتی کی
فریاد لے کے جائیں
تو اپنا کوئی گواہ لائیں
گواہ
رشتوں کی محترم کنڈلیوں میں بیٹھے
سنپولیوں کا؟
گواہ
ایسی حویلیوں کی غلام گردش کا
جس میں قانون پاؤں دھرنے سے کپکپائے
کنواری چیخیں
بلک بلک کے
تڑپ تڑپ کے
صدائیں کرتی
انہی اندھیروں میں ڈوب جائیں
مگر وہ اس بے بسی کا اپنی
نہ ایک کوئی گواہ پائیں
کہاں سے لائیں
گواہ
ان بھیڑیوں کو جو اپنی شہوتوں پر
عبادتوں کی مقدس و محترم عبائیں
سجائے بیٹھے ہوں تاک میں
کچے سوندھے جسموں کی
جن کے حجروں کے عود میں
سسکیاں سلگتی ہوں رات کو
اور دن تلاوت کے لحن سے
جگمگائے جائیں
یہ محترم بھیڑیے
ہم ان کی خباثتوں کا گواہ لائیں؟
کہاں سے لائیں؟
ہمیں کوئی ایسا معجزہ دے
کہ گونگی، اندھی سیاہ شب کو
گواہیوں کا ہنر سکھائیں
بصیر ہے تو
خبیر ہے تو
تجھے خبر ہے
کہ اس گواہی کی آڑ میں
کیسے کیسے گدھ ہیں
روایتوں کے جو
ریشہ ریشہ ہمارے چہرے
ہماری رُوحیں
اُدھیڑ کھاتے ہیں
پھینک دیتے ہیں گندے نالوں میں
جسم سڑنے کو
اس تماشے کا اپنے
کوئی گوا ہ ہم نے کبھی نہ پایا
تجھے خبر ہے
کتاب انصاف کے مصنف
سبھی صحیفوں میں یہ لکھا
ترے ترازو کا کوئی پلڑا جھکا نہیں ہے
تو کیا یہ سمجھیں
عظیم منصف
ہمارا کوئی خدا نہیں ہے؟
میراتعلق اس سرزمین اور ثقافت سے ہے جہاں اگر کسی لڑکی کی کامیابی یا مستحسن قدم کی تعریف کرنا ضروری ٹھہرتی ہے تو کہا جاتا ہے ”یہ بیٹی نہیں، بیٹا ہے۔ “ اس پدرسری معاشرے میں جہاں بیٹے کی پیدائش پر شادیانے بجتے ہوں اور مٹھائی تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ مبارک بادوں کا منہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوتا ہو اور بیٹی کی پیدائش پر اسے جنم دینے والی ماں اور باپ سے لے کر دیگر اہلِ خانہ کے ارمانوں پر اوس پڑتی ہو۔ وہاں اگر بیشمار ناخداؤں کے بنائے ہوئے ان گنت محاذوں پر ڈٹے جھوٹے خداؤں سے لڑتی کوئی عورت، معاشرتی حوالے سے کہیں کوئی کامیابی حاصل کرتی ہے یا اپنی صلاحیتوں کو منواتی ہے، تب بھی تعریف سننے کے لیے اسے اپنے زنانہ وجود کے ہونے کا اِنکار ہی سننے کو ملتا ہے کیونکہ پدری سماج میں کامیابی، اعلیٰ مقام، باعزت سماجی مرتبے کا تصوّرمرد سے جڑا ہے۔ کامیابی صرف مردوں، بیٹوں کا طرئہ امتیاز ہی سجھی جاتی ہے۔
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں نیویارک سے شایع ہونے والی ایک رپورٹ میں جو کہ یونائیٹڈنیشن کے زیرِاہتمام شایع ہوتی تھی، یہ اِنکشاف کیا گیا تھا کہ ساؤتھ ایشیاء میں کس طرح حاملہ مائیں، الٹراساؤنڈ میں بچی کو دیکھنے کے بعد ابارشن کرواتی ہیں، جن خواتین کے پاس الٹراسآنڈ کی سہولیات موجود نہیں وہ بچیوں کو جنم دینے کے بعد موت کے گھاٹ اُتار دیتی ہیں۔ وقت از پیدائش بچیوں کے قتل میں نہ صرف بچی کے والدین بلکہ بسا اوقات پورا کنبہ راضی ہوتا ہے کیونکہ لڑکی کی پیدائش ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے، جسے جہیز دے کر رُخصت کرنا، ان کی خیال میں عورت کا واحد مصرف ہوتا ہے، جب کہ بیٹا کمائی کا ذریعہ سمجھ کر پیدا کرنے کی خواہش ہرگھر کا مسئلہ ہے۔ خواہ وہ زرعی سماج ہو یا اِنڈسٹری کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا معاشرہ۔ بیٹے کی پیدائش ہر گھر میں خوشی و کامرانی کا باعث ہوتی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

