اکیسویں صدی میں خواتین کا کردار
اس کے علاوہ بہت سی خواتین پاکستان بھر میں مختلف اِداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ آج پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد جج، وائس چانسلرز، بنک منیجرز، ڈاکٹرز، پروفیسرز، میڈیا اینکرز، ٹیلی ویڑن پریذینٹرز، صحافی، گلوکار اور فیشن ڈیزائنررز ہیں۔ خواتین کے پبلشنگ ہاؤسز ہیں۔ خواتین ٹیلی ویڑن چینلز کی مالک ہیں۔ بہت سی خواتین نے انسانی حقوق کے حوالے سے اِنٹرنیشنل شہرت حاصل کی ہے۔ ادب، آرٹ اور اسپورٹس میں پاکستانی خواتین نے اپنا نام بین الاقوامی سطح پر روشناس کروایا ہے۔
آج کے دور میں اگر ہم جائزہ لیں۔ تو دیکھیں گے کہ پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والی خواتین نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں کہ ان کی شہرت ملک سے باہر بھی پھیل گئی ہے۔ ملالہ یوسف زئی پہلی مسلمان خاتون بنی جو نوبیل اِنعام کی حق دار قرار پائی، اگر ہم مختلف ویب سائٹس پر 15 سے 0 2 خواتین کو سرچ کریں جو کہ ”Most inspiring“ کے معیار پر پورا اُترتی ہیں تو ہمیں درج ذیل نام نظر آتے ہیں۔
i۔ روشینہ ظفر(آنٹراپرینور) اور فآنڈر آف کشف فاؤنڈیشن پاکستان
ii۔ جہاں آرا (پریذیڈنٹ آف پاکستان سوفٹ ویئر ہاؤس اسی ایشن فار آئی ٹی)
iii۔ کلثوم لاکھانی(آنٹراپرینور)
iv۔ غلام صغرا سولنگی(اِنٹرنیشنل وویمن آف کریج ایوارڈ 2011 ) حاصل کیا۔
v۔ ماریہ عمیر(فآنڈر آف ویمن ڈیجیٹل لیگ)
vi۔ صبا گل (بانی Popinjay آرگنائزیشن)
vii۔ سبین محمود(پریذیڈنٹ آف اِنڈس آنٹراپرینور)
viii۔ سیّدہ غلام فاطمہ (لیبر رائٹ ایکٹوسٹ) ورجنرل سیکرٹری آف بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ
ix۔ مریم مختار(فلائنگ آفیسر۔ لیڈی پائلٹ)
x۔ منیبہ مزاری(آرٹسٹ، اِکٹویسٹ، رائٹر)
xi۔ شرمین عبید چنائے (دو بار آسکر ایوارڈ)
xii۔ نرگس موالولا۔ (پروفیسر۔ نوبل انعام یافتہ۔ LIGBOکے لیے کام)
xiii۔ فضا فرحان(فآنڈر آف بخش فاونڈیشن، ڈاکٹر بخش انرجی)
xiv۔ رُخسانہ پروین اور سوفیہ جاوید(اِنٹرنیشنل باکسنگ میڈیلز اِن ساؤتھ ایشین گیمز)
xv۔ منہال سہیل(پہلی پاکستان شوٹرجو اولمپک 2016 ء میں شریک ہوئی)
xvi۔ شازیہ پروین(پاکستان کی پہلی فائرفائٹر)
xvii۔ ثمینہ بیگ پہلی مسلم خاتون جو ہنزہ ویلی بلتستان سے تعلق رکھتی ہیں۔ (پہلی پاکستانی خاتون جنہوں نے 7 سمٹ میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا اور پاکستان کا جھنڈا لہرایا)
xviii۔ ٹوئنکل سہیل(پروفیشنل پاور لِفٹر، 2015 ء میں ایشین بنچ پریس پاور لفٹنگ چمپئن شپ مسقط عمان میں گولڈمیڈل حاصل کیا)
xiv۔ بلقیس ایدھی(مولانا عبدالستار ایدھی کے بعد، ان کے انسانی خدمت کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں )
xx۔ عائشہ فاروق(پاکستانی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ)
xxi۔ شمشاد اختر(اِکنامسٹ، ڈویلپمنٹ اور انٹلیکچول)
xxii۔ مارشل چودھری(فاونڈر آف ریڈنگ روم پروجیکٹ۔ تعلیمی پروجیکٹ جو کہ کم اِنکم والے بچوں کے لیے ہے )
گو کہ ہمارے چاروں صوبوں سے خواتین خود کو اپنی صلاحیتوں سے منوا رہی ہیں مگر یہ مکمل تصویر نہیں ہے۔ آج بھی لاکھوں کی تعداد میں خواتین اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ اکیسویں صدی میں فیمنسٹ تحریک جوآواز بلند کر رہی ہے اس کامقصدممالک اور سٹیٹس پر دبا ؤ ڈالنا ہے تاکہ بغیر کسی صنفی امتیاز کے وہ قوانین بنائے جائیں جن کی رو سے انصاف بھری آزادانہ فضا مردو عورت دونوں کو فراہم کی جا سکے۔ اور اب مرد و عورت کو دو علیحدہ کمپارٹمنٹس میں بانٹنے کی بجائے بحیثیت انسان ان سے مساوی سلوک کیا جائے۔ کم ہی سہی مگراس صنفی امتیاز کے مکمل خاتمے میں، مشرقی عورت کی آواز بھی شامل ہے جو دنیا سے اپنے ہونے کی مکمل گواہی چاہتی ہے۔ نسیم سید کی مندرجہ ذیل نظم اس ضمن میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
اپنی تصویر مجھے آپ بنانی ہو گی
میرے فن کار
مجھے خوب تراشا تو نے!
آنکھ نیلم کی
بدن چاندنی کا
یاقوت کے لب
یہ ترے
ذوق طلب کے بھی ہیں
معیار عجب
پاؤں میں میرے
یہ پازیب
سجا دی تو نے
نقرئی تار میں آواز منڈھا دی تو نے
یہ جواہر سے جڑی
قیمتی مورت میری
اپنے سامانِ تعیش میں لگا دی تو نے
میں نے مانا
کہ حسیں ہے ترا شہکار
مگر
تیرے شہکار میں
مجھ جیسی کوئی بات نہیں
تجھ کو نیلم سی
نظر آتی ہیں آنکھیں میری
درد کے ان میں سمندر
نہیں دیکھے تو نے
تو نے
جب کی
لب و رُخسار کی خطاطی کی
جو ورق لکھے تھے
دل پر
نہیں دیکھے تو نے
میرے فن کار
ترے ذوق
ترے فن کا کمال
میرے پندار کی قیمت
نہ چکا پائے گا
تو نے بت یا تو تراشے
یا تراشے ہیں خدا
تو بھلا کیا مری تصویر
بنا پائے گا
تیرے اوراق سے
یہ شکل مٹانی ہو گی
اپنی تصویر
مجھے آپ بنانی ہو گی
ہوش بھی
جراتِ گفتار بھی
بینائی بھی
جرأتِ عشق بھی ہے
ضبط کی رعنائی بھی
جتنے جوہرہیں نمو کے
مری تعمیر میں ہیں
دیکھ یہ رنگ
جو تازہ مری تصویر میں ہیں

