اکیسویں صدی میں خواتین کا کردار
گھریلو معاملات میں بھیانک ترین تشدد سے لے کر غیرت کے نام پر قتل تک، سب کچھ عورت ہی کو برداشت کر نا پڑتا ہے۔ چولہا پھٹتا ہے تو عورت پر، پنکھے سے لٹکی لاش ملتی ہے تو عورت کی، مرد زیادتی کرے تو بھی مجرم عورت۔ اگر ہم غور کریں تو اِسلامی ممالک، بشمول پاکستان، پدرسری معاشرے کی طاقت ایسی شتر بے مہار ہے کہ عورت کو(جو کہ گھر، خاندان اور قبیلے کی وہ عزت بنا دی گئی ہے، جس کے قتل کرنے اور اس کے ساتھ شریکِ الزام سے پیسے لینے کے بعد عزت لوٹ آتی ہے ) مردوں کی نظر سے بچانے، زنا سے بچانے اور اس کے کردار کی مضبوطی کو یقینی بنانے کے لیے، واحد راستہ اسے گھر کی چہاردیوار میں محبوس کرنا سمجھا گیا ہے۔ ایسے میں، خواتین کی ایک مختصر تعداد، گھر سے باہر نکل کر(اگر خاندان کے مرد تعاون کریں تو) حوصلے، عزم اور پختگی سے، اپنی صلاحیتیں بحیثیت انسان منوانا چاہتی ہے تو اسے بے شمار چیلنجزدرپیش آتے ہیں۔
صنفی امتیاز اپنی تمام تر بے حسی کے ساتھ ہمارے رویوں میں موجود ہے، اس قدر کہ عام طور پر اس کا اِدراک بھی نہیں کیا جاتا۔ بھائی کے مقابلے میں آدھی روٹی پر پلنے والی بہن، بھائی کے مقابلے میں آدھی محبت، آدھی ادھوری تعلیم پر گزارہ کرنے والی، چھوٹی عمر میں ماں کا ہاتھ بٹانے، مردانہ کپڑے دھونے، کھانا پکانے والی بچی، اپنی آدھی حیثیت کو رضائے الٰہی سمجھ کر قادروقانع ہوجاتی ہے۔ یہ جنموں کی پریکٹس اسے سوسائٹی سے لے کر گھر میں اس کی حیثیت کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے کہ مرد حاکمیت یعنی باپ، چچا، ماموں اور بھائیوں کے بعد اسے شوہر، سسر اور دیگر سسرالی مرد رِشتہ داروں کے مزاج، طور طریقوں میں ڈھل جانا ہے، اپنی خدمت سے ان کا دِل جیتنا ہے۔ خود کو کمتر سمجھ کراسے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ اور بہترین غلام ہے اور صرف اِسی حیثیت میں وہ گھر اور معاشرے میں ایک ”عزت دار“ مقام پا سکتی ہے۔ سماجی ٹھیکیداروں نے اپنے مقررہ اور متعین کردہ مقام کے دائرے سے نکلنے کی سزا بہت بھیانک بنا دی ہے۔
دیگر چند ممالک میں۔ مغربی ممالک کی فیمنسٹ تحریک کے اثرات بھی پہنچے تو اِتنے کہ عورت کو گھر سے باہر اُجرت پر مزدور ی کا حق ملا بھی تو ایسے کہ اسے اپنی کمائی کا بڑا حصہ اپنے خاندان پر اِستعمال کرنا تھا۔ اسے بھی عورت نے اپنی کامیابی سمجھا مگر اس مشروط معاشی جدوجہد کے نتیجے میں اسے نہ صرف دوہری بلکہ تہری ذمے داری اُٹھانی پڑی۔ وہ گھر کی گوناگوں مصروفیات (جسے آج تک مشرقی سماج، غیراہم اور معمولی مان کرعورت کو کاہل اورکام چور سمجھتا رہا ہے ) جس میں گھر کی صفائی ستھرائی، کپڑوں کی دھلائی، اِستری، کھاناپکانا، باتھ روم صاف کرنا، جوتے صاف کرنا، برتن دھونا، چادریں لگانا، الماریوں کو قرینے سے رکھنا، گھر کا بجٹ بنانا، ہمہ وقت ضرورت کی اشیاء گھر میں موجود رکھنا، سسرالی و میکے کے رِشتے داروں سے لے کر، مہمان داری اور دُنیاداری جیسی مشکل ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا، شامل ہیں۔
جب کہ معاشی ذمے داری میں مرد کا ہاتھ بٹانے والی عورت کو، گھر کی ان چوبیس گھنٹے کی ذمہ داریوں میں مرد سے تعاون نہیں ملتا۔ عورت نوکری سے آ کر کھانا بناتی ہے۔ بچوں کو دیکھتی ہے، گھر کی صفائی ستھرائی کرتی ہے، دیگر اہلِ خانہ کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ مرد جوتے پھینک کر ٹی وی دیکھتا ہے۔
تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس عورت کو آپ کہتے ہیں کہ وہ آزاد ہے، کیونکہ وہ نوکری پیشہ ہے تو دراصل مشرقی معاشروں میں وہ دوہری طور پر معاشرتی ناہمواری کا شکار ہے۔ اس کے ذمے جو ذمے داریوں کا بوجھ ہے وہ ایک عام انسان کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ اس کا کام بعض اوقات دوگنا سے زیادہ بڑ ہ جا تا ہے، مگر یہ ہرگز مناسب نہیں کہ مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا دُشمن قرار د یا جائے یا یہ کہا جائے کہ مرد عورت کا دُشمن ہے، چونکہ سرسری مطالعے یا مشاہدے سے یہی نظرآتا ہے کہ جسمانی اور معاشرتی حوالے سے طاقتور ہونے کی وجہ سے مرد بالادست ہوتا ہے اسی لئے وہ تشدد بھی کرتا ہے۔
دیہی علاقوں میں جہاں قبائلی رسوم و رواج سے معاشرتی اقدار جڑی ہیں وہاں عورت پر بدترین تشدد مرد ہی کے ذریعے روا رکھا جاتا ہے۔ مگر گہرائی اور گیرائی سے صورتِ حال کا مشاہدہ و مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ یہ نظام، سماج اور رواج جس ڈھب پر بنے ہیں اس میں مرد سے یہی تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ عورت پر ہر حیثیت میں حاوی رہے، اسی میں اس کی مردانگی ہے۔ عورت کے کردار پر کنٹرول کرنے کے لیے جسمانی لحاظ سے اسے بچے جنم دینے اور گھریلو کام کرنے کی مشین سمجھے۔
صدیوں کے اس سبق، رویے اورمتواترپریکٹس نے مردوں اور عورتوں کے اذہان میں ان کی غیرمساوی ذمے داریاں بٹھا دی ہیں۔ vicious circleکا یہ حصار صرف اسی وقت ٹوٹے گا جب نئے خیالات اور ماڈرن تعلیم مساوی طریقے سے وہاں پہنچیں گے۔ مگرجہاں زندگی بسر کرنے کی بنیادی ضروریات تک موجود نہیں، وہاں ہم صنفی امتیاز کے خاتمے کی بات محض ایک اجنبی صدا ہی ثابت ہوگی۔
پی ایچ۔ ڈی کی ریسرچ کے دوران جب میں نے ان خواتین کا تذکرہ کیا جو ملکی سطح سے لے کر بین الاقوامی منظرنامے میں اپنی اِنفرادیت اور صلاحیت منوا چکی ہیں تو مجھے یک گونہ خوشی کا احساس ہوا۔ یہ بار بار کا تحریرکردہ اور بیان کرد ہ جملہ ہے کہ اِسلامی دُنیا کی پہلی خاتون سربراہ، پاکستان سے بنیں اور جن کی صلاحیتوں کا پوری دُنیا نے اِعتراف کیا۔ اِس کے علاوہ ایک پوری کہکشاں ہمیں ان خواتین کی نظر آتی ہے جنہوں نے بحیثیت پاکستانی، اپنی ایک بین الاقوامی شناخت بنائی اور اِس کہکشاں کے پیچھے بھی ہمیں اس عظیم خاتون کی خدمات کا اعتراف کرنا پڑتا ہے، جس نے بحیثیت وزیراعظم، آئین کے آرٹیکل 17 میں ترمیم کرتی ہوئے، لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے خواتین کے لیے سینیٹ، نیشنل اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور فاٹا میں سپیشل سیٹیں مختص کیں۔
پروسوشلسٹ، ڈیموکریٹک پارٹی پیپلزپارٹی نے پاکستان میں پہلی بار یہ اعزاز حاصل کیا کہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو امریکہ میں خاتون ایمبیسیڈر مقررکیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون ڈاکٹر فہمیدہ مراز کو قومی اسمبلی کی سپیکر ہونے کا اعزاز ملایہ ساؤتھ ایشیاء میں پہلی بار ہوا تھا کہ اس عہدے کے لیے ایک خاتون کا چناؤکیا جائے یہی وہ وقت تھا جب پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِخارجہ حناربانی کھر، سیکرٹری آف ڈیفنس، نرگس سیٹھی، سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر شہلارضا اور میڈیا ایڈوائزر شیری رحمن کو منتخب کیا گیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

