آٹھ مارچ اور تمہاری پیدائش پر ہمارا رونا دھونا


ان گندی تصویروں کو دیکھ کر دل بڑا دکھی ہوا۔ حالانکہ گندی تصویروں کو دیکھ کر اکثر تو دل خوش ہو جاتا تھا لیکن اس دفعہ معاملہ کچھ اور تھا۔ یہ گندی تصویریں تو ہماری پسندیدہ اور خوبصورت گندی تصویروں کو محض لفظوں میں بیان کر رہی تھیں، جو کہ بہت غلط اور ناپسندیدہ عمل ہے۔ یہ گندی تصویریں تو ہماری اپنی ان عورتوں نے اٹھا رکھی تھیں جنہوں نے خود تو کپڑے پہنے ہوئے تھے لیکن ہمارے معاشرے کے کپڑے اتار رہی تھیں اور اسے تباہ کرنے کے درپے تھیں۔ اور ہم مردوں کو آئینہ دکھا دکھا کر چڑا رہی تھیں۔

افسوس کہ آزادی کے نام پر اپنے اصلی فرائض سے منکر کچھ خواتین آج اس نہج پر کھڑی ہو چکی ہیں کہ انھیں یہ بھی نہیں پتا کہ آزادی کے نام پر گندی گندی باتیں لکھ کر ان کے ساتھ فوٹو بنوا رہی ہیں جب کہ انہیں شرما کر دور بھاگنا چاہیے تھا۔ ہم مرد تو کبھی کبھی ایسی باتیں کر جاتے ہیں مثلا مختلف جسمانی اعضا کے فوٹو وغیرہ بھیج دیتے ہیں کہ شاید وہ بھی ہماری طرح ہاٹ ہو کر بے قابو ہو جائیں اور ہماری جھولی میں گر پڑیں مگر یہ باتیں تو اکیلے میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ چلو آپ ہاٹ نہیں ہوتیں یا پھر گرمی کو چھپا لیتی ہیں تو کم از سب کے سامنے تو ہمیں نہ چڑائیں۔ اس لیے یہ تصویریں پکڑ کر سر عام ان کے ساتھ فوٹو بنوانا غلط ہے، بے حیائی ہے۔ بحیثیت مرد میں عورتوں کو پسند کرتا ہوں اور ان کے حقوق کا قائل ہوں لیکں میرا دل دکھا ہے اور میں تو خاموش نہیں رہ سکتا کیونکہ میں کوئی حیا کا پتلا عورت تو نہیں۔ بولنا میرا حق ہے۔ میں یوں خاموشی سے اپنے معاشرے کو عورتوں کے ہاتھوں تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔

اور ہاں آزادی اپنی عورت کو بے شرم، ضدی اور ہٹ دھرم جبکہ پرائی عورت کو خوبصورت، سیکسی اور خوش کن بنا دیتی ہے۔ یہ بات ان بینروں سے ثابت ہو گئی ہے۔ بے شرمی والا لباس پہن کر سڑک پہ آجانا، مردوں کی طرح موٹر بائیک چلانا اور خاوند اور اس کی فیملی کا خیال رکھنے سے انکار کرنا، کیا یہی عورت کی آزادی ہے؟

ہم مردوں کو خوب علم ہے کہ عورت کی اصل آزادی کیا ہے۔ عورت کی اصل آزادی یہ ہے کہ شہزادیوں کی طرح گھر میں کنیز بن کر رہے۔ یہ مرد کا کام ہے کہ اسے بھوکا نہ مرنے دے۔ مرد اس کی ضرورت کی ہر چیز اسے مہیا کرے۔ اگر کسی مجبوری کے تحت گھر سے نکلے تو اس طرح پیک ہو کر کہ مرد کی گندی نظروں کو کچھ ڈھونڈ نکالنے کے لیے خوب مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ ہاں مرد کی نظروں کو مکمل مایوس کرنا ممکن نہیں کیونکہ جو اس کی آنکھ نہیں دیکھ سکتی اسے وہ دماغ سے گھڑ لیتا ہے اور اس میں کوئی برقع یا چادر مانع نہیں۔

گھٹن اور جنسی درندگی کے خوف کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہیں جو عورت کی زندگی کو اجیرن بناتے ہیں۔ آپ ضرور پوسٹر بناتی کہ عورت کو جائیداد میں حصہ ملے یا ان کی تعلیم کے لیے الگ یونیورسٹی بنائی جائے یا شوہر آپ کی پٹائی احتیاط سے کرے تاکہ آپ کی ہڈیاں نہ ٹوٹیں، یا بیماری کی صورت میں اگر لیڈی ڈاکٹر میسر نہ ہو آپ کو مرنے دیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ تو یقین کریں میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا، حالانکہ یہ پوسٹرز بھی تو مردوں ہی کے خلاف تھے۔

ہم اس معاشرے سے متاثر ہیں کہ جہاں عورت نے اپنے آپ کو اتنا گرا لیا ہے کہ مرد کی طرح جنسی تسکین کو بھی اپنا حق سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ یہ بالکل غیر فطری بات ہے اور ہمارے پدرسری معاشرے کی روایات کے لیے زہر قاتل ہے۔ حلال مادہ (فی میل) جانوروں میں جنس کا لالچ نہیں ہوتا۔ گائے اور بکری بھی بچے پیدا کرتی ہے اور اپنی نسل بڑھاتی ہے لیکن وہ جنسی تسکین کا مطالبہ نہیں کرتی۔ ہاں البتہ بیل اور بکرے کی بات الگ ہے۔

اور پھر مغربی معاشرے سے اس لیے بھی متاثر ہونا مناسب نہیں ہے کیونکہ تم ایک مذہبی معاشرے کی عورت ہو جسے حقوق حاصل کرنے کے لیے کسی جدوجہد کی ضرورت ہے نہ اجازت۔ تم تو وہ خوش قسمت ہو کہ جسے پیدا ہوتے ہی حقوق مل جاتے ہیں۔ تمہاری پیدائش پر ہماری پریشانی اور رونا دھونا بلاوجہ نہیں ہے۔
Published on: Mar 8, 2020

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik