1973 کے آئین میں بنیادی انسانی حقوق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ لگانے کے لیے جدید دنیا میں چند سادہ سے بنیادی اشاریئے ہیں جن میں تعلیم، صحت، رہائشی سہولیات، روزگار، قانون کی پاسداری، نظم و ضبط اوربنیادی انسانی حقوق بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ فرانس کے مشہور فلسفی جین جیکس روسو نے کہا تھا انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر آج کل وہ ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ روسو نے انسانوں کی آزادی اور معاشرہ میں فرائض و حقوق کی تشریح کرکے ایک متوازن اور مستحکم معاشرتی اور مملکتی نظام اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے متعلق ”سوشل کنٹریکٹ“ کے عنوان سے کتاب لکھی اور آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا پرچار کرتا رہا۔

روسو کی کتاب کو فرانسیی پارلیمان کی دہلیز پر جلا یا گیا اور روسو کو بھی صوبتیں جھیلنی پڑیں۔ مگر ان کی تصانیف ”دا سوشل کنٹریکٹ“ اور ”ڈسکورس آن ان ایکوالٹی“ کی بدولت، یورپ میں ظلم و ستم سے آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے معاملہ میں عوام میں شعور پیدا ہوا اور فرانس میں انقلاب آیا جو ”فرنچ ریولیوشن“ یعنی انقلاب فرانس کے نام سے مشہور ہے۔

1947 میں وطنِ عزیز وجود میں آیا تو ایک متفّقہ آئین بنانے کی سعی کی گئی مگر آپس کی چپقلش متفقہ آئین سازی میں رکاوٹ بنی رہی مگر دیر آید، درست آید، آخر 1973 میں متفقہ طور پر ملک کا مو جودہ آئین بنا، جو شہریوں کے بنیادی حقوق کا ضامن ہے۔ بنیادی حقوق کی تفصیل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 8 سے 28 تک درج ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 8 میں درج ہے کہ مملکت کوئی ایسا قانون نہیں بنائے گی جو شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہو، بنیادی حقوق سے متصادم ہر قانون کو کالعدم تصّور کیا جائے گا۔ آئین کے اس شق سے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی اہمیت کا ندازہ لگایا جا سکتا ہے بلکہ یہ شق ریاست کی سمت بھی واضح کرتی ہے۔

جن بنیادی حقوق کی آئین میں گا رنٹی دی گئی ہے۔ ان سے آگہی بھی ہر شہری کا حق ہے۔ اگر چہ کالم ہذا میں بوجہ طوالت یہ ممکن تو نہیں کہ آئینِ پاکستان میں دیے گئے تمام بنیادی حقوق کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے مگر مختصرا آئین کے ان آرٹیکلز کا ذکر کرنا ضروری ہے جس کے تحت پاکستان میں رہنے والے ہر شخص کو بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ شہریوں کے جان و مال اور عزّت کا تحفط حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے ہیہ وجہ ہے کہ ہمارے ملکی دستور کا آرٹیکل 9 اس بات کا ضمانت دیتا ہے کہ ماسوائے جہاں قانون اس کا متقاضی ہو، کسی بھی شخص کو اس کے حقِ زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ آئین کا آرٹیکل 10 کے تحت ملزم کو بھی ضروری تحفظ دیا گیا ہے۔

کسی بھی شخص کو کسی جرم میں گرفتاری کی صورت میں اسے گرفتاری کے وجوہات سے آگاہ کرنا ضروری ہے، اسے اپنے مرضی کا وکیل کرنے کا اور دفاع کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح آئین کا آرٹیکل 11 اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ غلامی، بیگار کی تمام صورتیں اور انسانوں کی خرید و فروخت کسی بھی شکل میں ممنوع ہے۔ چودہ سال سے کم عمر بچے کو کسی کارخانے یا پر خطر ملازمت میں نہیں رکھا جا سکتا۔ آئین کے آرٹیکل چودہ کے تحت گھر کی خلوت قابلِ حرمت ہو گی۔

لہذا کسی قانونی اتھارٹی کے بغیر کسی کے گھر میں بشمول پولیس گھر میں داخل ہو نے کی اجازت نہیں۔ آئین کے آرٹیکل 15 کے مطابق ہر شہری کو ملک میں نقل و حرکت کرنے اور ملک کے کسی بھی حصے میں آباد ہونے کا حق حاصل ہے۔ آرٹیکل 25 کے مطابق تمام شہری بِلا لحاظ رنگ و نسل و جنس قانون کی نظر میں برابر ہیں اور مساوی قانونی تحفّظ کے حقدار ہیں۔

’ویسے تو بہت سارے تشویش ناک پہلو ہیں لیکن سب سے زیادہ فکرمندی کی بات یہ ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور حکومت انسانی حقوق سے متعلق بہت سی باتوں کو مانتیں ہی نہیں۔ آپ صورت حال کو بہتر تو اس وقت کریں گے جب آپ کو احساس ہوگا کہ آپ جو کر رہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔ ‘ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ اپریل سے اب تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے حالانکہ صرف ہمارا آئین ہی نہیں، ہمارا مذہب بھی انسان کی بنیادی حقوق کا علمبردار ہے۔

میثاقِ مدینہ اور حجتہ الوداع کے مو قع پر رسولِ پاک کا آخری خطبہ انسانی حقوق کی ترویج، رواداری، اور برداشت کی شاندار مثال ہیں۔ جہاں کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر، کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں دی گئی، ما سوائے تقویٰ کے۔ پاکستان کا قیام بھی ہر شخص کو اپنے خیالات کے اظہار کی مکمل آزادی کے منشور کے تحت عمل میں لایا گیا۔ اگر اس کے با وجود وطنِ عزیز میں عوام کی اکثریت بنیادی حقوق سے محروم ہیں تو حکومت کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ لہذا اہلِ اقتدار اور با اختیار لوگوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ اور ان کی خلاف ورزیوں کی روک تھام میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی سعی کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •