خواتین کا عالمی دن اور آج کی عورت
میڈیا کے اس طوفانی دور میں ایک پروگرام نظر سے گزرا جسمیں ماڈرن اینکر کچھ لڑکیوں کے اوپر ہونے والے مظالم کو دکھا رہی تھیں جن کو سن کے روح اور جسم کانپ جائے کہ ہمارے معاشرے میں اس طرح بھی ہوتا ہے، لڑکیوں کی بیچارگی ان کے چہروں سے عیاں تھی جس کو دیکھ کر دل اور دکھتا تھا۔ میں یہ سوچنے پہ مجبور ہو گئی کہ ہمارے معاشرے میں ایسی تنظیمیں تو ہیں جو ان ایشوز کو اٹھاتی ہیں مگر ہم نے کبھی کوئی ایسا پروگرام نہیں دیکھا جس میں بتایا گیا ہو کہ یہ وہی فلاں لڑکی ہے جس پہ ظلم ہوا تھا اور آج ہم نے اس کو گروم کر کے اس قابل بنا دیا کہ یہ اب معاشرے میں سر اٹھا کہ جیتی ہے۔
میں نے سوچا اس میں ہم خواتین میں بھی تو کہیں کچھ کمی نہیں؟ کہیں ہم بھی اپنے مقصد ِ حیات کو جانے بغیر ہی تو نہیں جیتے چلے جا رہے؟ کہیں مذہب سے دوری ہمارے مردوں میں سے ہوتی ہوئی ہم تک تو نہیں آ پہنچی؟ ایسا ہے تو اس کا ازالہ ممکن ہے۔ ہم جب تک زندہ ہیں ہر نیا دن ہمیں ایک نیا موقع دے رہا ہے دوبارہ سے زندگی کو اس کے صحیح معنوں میں جینے کا۔ اور ہم سے یہ سوال ضرور کیا جانا ہے کے زندگی کس طرح گزاری؟ رب نے قرآن میں فرما دیا سورہ بقرہ میں کہ ہم تمھیں ضرور آزمائیں گے۔ تو یقیناً یہ سوال بھی اٹھے گا کہ جب آزمایا گیا تو ہمارا کیا رویہ رہا؟
خواتین کا عالمی دن آیا تو خیال آیا کہ بحثیت خاتون اس پہ اپنی رائے کا اظہار کیا جائے شاید کچھ اور لوگ بھی میری طرح سوچتے ہوں۔
مسلمان خواتین بالخصوص پاکستانی خواتین نے شاید ہی کوئی میدان چھوڑا ہو جہاں اپنے عزم و حوصلے کے جھنڈے نا گاڑے ہوں۔ ہمیں اپنے ارد گرد بہت سی ایسی خواتین نظر آئیں گی جو بیوہ یا مطلقہ ہونے کے باوجود اپنے بچوں کو بہت محنت اور مشقّت سے پالتی ہیں، اس محنت سے وہ کما تو لیتی ہیں مگر اپنے گھروں میں سسٹم نہیں بنا پاتیں جس کا اندازہ کبھی ان کے بچوں کے قوتِ فیصلہ سے کیا جا سکتا ہے کبھی خود ان کے رویوں سے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کے اس کام کے لئے اللہ نے مرد کو منتخب کیا ہے جب ہی مرد کو ایک درجہ اوپر رکھا گیا ہے، ہماری با حوصلہ خواتین کو یہ امر سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ جب قدرت ان پہ کوئی آزمائش ڈال دے تو پھر اپنی اس خوبی کو بھی ابھارنے کی کوشش کریں جو قدرت نے ان میں رکھی ہی نہیں ہے۔ اور ہمارا رب وہ ہے جس نے عورت کو حکومت کی اجازت نہیں دی مگر جب ایک عورت، ملکہ سبا، نے عورت ہونے کے باوجود حکومت چلا کے دکھائی تو میرے رب نے بھی اس کی تعریف کی کیوں کہ وہ بھی جانتا ہے کہ یہ کام اس عورت نے اپنی ذہنی صلاحیت سے بڑھ کر کیا ہے۔
ہمارے پاکستان میں بہت سے مرد موٹیویشنل سپیکر مل جایں گے جو کہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں مگر خواتین میں ایسی کوئی خاتون ابھر کر ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں جو گفتگو میں ہر فن مولا ہوں۔ قاسم علی شاہ سپیکر سے ٹرینر بن گئے مگر کوئی خاتون اس مقام اور طریقہ ُ گفتگو کو نا پا سکی۔
اگر کوئی مرد ان باتوں کو ہائی لائٹ کرتا تو خواتین اس کو تنقید سمجھتیں مگر میں بحیثیت عورت سمجھتی ہوں کہ یہ دونوں کام بھی عورتیں بخوبی کر سکتی ہیں اگر وہ اپنے لیول آف نالج کو بڑھائیں اور ان میدانوں میں بھی اس ہی طرح جھنڈے گاڑیں جیسے باقی ہر فیلڈ میں وہ آگے ہیں اس سے ہمارے معاشرے کے نوجوانوں میں واضح تبدیلی نظر آئے گی اور ذہنی انتشار میں کمی واقع ہوگی۔ نا صرف خواتین میں تبدیلی واقع ہوگی بلکہ ان کی گودوں میں پلنے والا بچہ بھی میچور ذہنی صلاحیت کا فرد بنے گا اور عمومی طور پہ ظلم و ستم کے واقعات میں کمی ہوگی


