توپ کے سامنے تمہیں باندھ کرا گر پھینک دیا جائے تو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معلوم نہیں مجھے ہند یاترا کا شوق کیوں ہے۔ شاید میرے اجداد وہیں سے ہجرت کر آئے تھے تب، یا شاید وہاں کے مختلف شہروں سے دلی لگاؤ ہے جو وہاں کے شہروں میں گھومنے کا اشتیاق ہے۔ دہلی، بنارس، ممبئی، کلکتہ، علی گڑھ، آگرہ، اجمیر، امرتسر، بنگلور، چندی گڑھ وہاں کے چند شہروں کے بے ترتیب سے نام ہیں جو دماغ کی تختی پر رقم ہیں۔ مجھے گوا کے ساحلوں پر ہوا خوری کی آرزو ہے۔ ایسے ہی مہران گڑھ پورٹ جودھپور، مودھرا سن ٹمپل، جے پور میں امبر پورٹ، چتوڑ فورٹ، دھنکر موناسٹری، کونارک کا سن ٹمپل، اجنتا اور ایلورا کے بتانِ برہنہ کی دید کا بھی اشتیاق ہے۔ لال قلعہ، ہمایوں کا مقبرہ، جامعہ مسجد دہلی، خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کے مزار پر حاضری کو دل مچلتا ہے۔ لیکن یہ امنگ کب پوری ہوگی؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا قریب قریب تو پورا ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔

آج کل توجانبین میں خاصی گرما گرمی ہے۔ مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ شروع کر رکھی ہے۔ سو مشورہ ملتا ہے کہ ہندوستان گھومنے کی خواہش دبائے رکھ تو بہتر ہے۔ اپنے پڑوسی آستینیں چڑھائے ہمیں گھور رہے ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ چبا جائیں۔ جب کہ ہم اب بھی امن کی بات کر رہے اور کہہ رہے ہیں ”سرکار! منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں، نہیں تو سودا مہنگا پڑ سکتا ہے“۔ لیکن وہ منہ کھولے، رال ٹپکاتے ہمیں کھا جانے کے در پر ہے۔ بناوٹی میک اپ تلے بھارتی سرکار کا مکروہ چہرہ ہے۔ ہذیان بکتے نمائیندے ہیں۔ لمحہ بھر کو انڈین چینل لگا لیں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ابھی یہ اینکر سکرین سے نکل کر دبوچ لیں گے اور ان کی آنکھوں سے نکلنے والے شعلے بھسم کر دیں گے۔ لیکن چینل بدلتے ہی سکون کا احساس ہوتا ہے۔ شاید میں پاکستانی ہوں تب۔

اچھا، کہنے کو تو جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع، آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے یہ باتیں کاغذ پر ہی لکھی ہوئی ہیں ؛کیوں کہ بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں جس طور سے مظالم ڈھا رہا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی جمہوری ملک نہیں بلکہ ظالموں کا ملک ہے۔ اس لیے بھی مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر کبھی چلا گیا تو لاشا بن کر ہی آؤں گا۔ خیر جانے کی چاہت پھر بھی بڑھتی ہی ہے گھٹتی نہیں۔

دوسرا یہ دعوی کہ بھارت کسی ایک مذہب کا نہیں بلکہ ہر رنگ، قوم، مذہب و نسل سے تعلق رکھنے والوں کا ملک ہے جو اس ملک میں بستے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی غلط معلوم ہوتی ہے۔ پھر بھی فرط شوق میں جی کھنچتا ہے تو خیال گزرتا ہے مجھے تو ہندی بھی نہیں آتی لیکن چلو کوئی بات نہیں۔ بھارت کے ایک ارب سے زائد باشندے ایک سو سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں۔ میں بھی کسی بھاشا میں بات کر ہی لوں گا۔ جس سے انہیں خبر نہ ہو سکے کہ جناب ”پاکستانی“ ہیں۔

جب وہاں جانے کی کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی توجی کرتا ہے۔ بنگلہ دیش، میانمار جاؤں یا پھر بھوٹان، چین اور نیپال یا سری لنکا، مالدیپ والوں سے پینگیں بڑھاؤں تا کہ پڑوسی ملک جانے کی کوئی راہ نکل آئے۔ کیوں کہ لاہور، کشمیر سے تو جا نہیں سکتا اگر چلا بھی جاؤں تو مجھے ان کی خود (پاکستانی) سے نفرت کا اندازہ ہے۔ امیدِ واثق ہے کہ نظروں سے ہی راکھ کر دیں گے۔ کیوں کہ انڈیا ہمارا دوست تو ہے نہیں، نہ ہی بن سکتا ہے۔

ہاں خوبصورت ساسانپ ضرور ہے۔ جس کے ساتھ ہم ایک اچھے ہمسائے کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن پڑوس میں سوائے چند کے اکثر کی آنکھوں میں نفرت کے شعلے ہیں۔ البتہ ہمارے ہاں کے لوگ اس معاملے میں قدرے بہتر ہیں۔ یہ ویسی نفرت کی آگ میں نہیں پک رہے۔ ہاں دکھیارے ضرور ہیں کہ بھارت کوئی دن ایسا نہیں جانے دیتا جب وہ درندگی نہ کرتا ہوں۔ سرحدی علاقوں پر گولہ باری نہ کرتا ہو۔ یہ وحشی پن قابل مذمت ہے۔

بہرحال کچھ دن قبل میں نے ایک بزرگ سے کہا ”مجھے بھارت جانے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔ “ تو وہ بولے ”تمہیں توپ کے آگے باندھ کر کیوں نہ اس جانب پھینک دیا جائے؟ “ ”ہاں، جذبہ خیر سگالی کے تحت مجھے فائر کر دیں۔ میں امن امن کی دہائی دیتے بھرپور کوشش کروں گا کہ مجھے کچھ نہ کہا جائے اور یقین کیجیے ایوارڈ برائے امن کا مطالبہ بھی نہیں کروں گا۔ “ میں نے خواس باختگی سے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ لیکن دوسرے لمحے خوف کا سایہ آنکھوں کے سامنے لہرایا تو خیال آیا ”میاں! ابھے نندن کے ساتھ اچھوت کا سا سلوک ہو رہا ہے تو تو پھر پاکستانی ہے۔ “ ویسے توپ کے سامنے تو ان لوگوں کو باندھ کر ادھر پھینک دینا چاہیے جو بقول شخصے اگر انڈیا پاکستان کی لڑائی ہوئی توشبہ ہے کہ وہ اپنے جوانوں کی توپوں میں ہی ایلفی نہ بھر دیں۔ میں نے کہا۔

انہوں نے قہقہ لگایا پھر بولے ”ہم اپنے پڑوسی سے جنگ نہیں چاہتے۔ ہم امن کے داعی ہیں۔ ہمیں امن چاہیے۔ ہاں پھر بھی اگر ہمیں کمزور سمجھتے ہوئے ہاتھ دراز کرے گا تو یاد رکھے ہم ہاتھ توڑ کے رکھ دیں گے۔ “ ”اپنے خان صاحب نے تو ہر قدم پر کہا“ ہم امن چاہتے ہیں ”اور عوام بھی امن کے آوازے کی جانب متوجہ ہوتی رہی۔ لیکن پڑوسی ملک کی عوام کا غصہ اب بھی بارہ کے ہندسے کو چھو رہا ہے۔ “ مجھے متوجہ پا کرمسکراتے ہوئے بولے : ’خان صاحب اب امن کے نعرے کے ساتھ بھارت میں ”سنڈاس پروجیکٹ“ شروع کرنے کا اعلان کر دیں تو وہاں کی عوام کا غصہ کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ دنیا میں جتنے بھی لوگ کھلے آسمان تلے رفع حاجت کرتے ہیں ان میں ساٹھ فیصد بھارتی ہوتے ہیں۔

لیکن میں آپ کی پہلی رائے سے متفق ہوں۔ اگر مجھے توپ کے آگے باندھ کر اس طور ادھر پھینکا جائے کہ سیدھا جا کر مندرجہ بالا علاقوں میں گروں، یہ سستا سودا ہے۔ اوہ یاد آیا میں تو ہندوستان کی چند حسیناؤں، بالی ووڈ کے پری چہروں کا پرستاربھی ہوں۔ یہاں سے پھینکا جاؤں اور گھومتا گھامتا، ہچکولے کھاتا اگر ان کے قرب و جوار میں گر پڑوں تو امن بحالی کے ساتھ سیاحت و زیارت مفت ہو جائے گی۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ وہ تعجب سے مجھے گھورتے ہی رہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).