مودی کی سیاست،آرمی کیپ اور ہماری عبادت گزاری!
سیاست تو صرف مودی ہی کر رہا ہے۔ کبھی مبمئی حملے کروا کے، کبھی پٹھان کوٹ پر یلغار کر کے، کبھی پارلیمنٹ پر حملہ کروا کے، کبھی اوڑی میں ٹانگ اڑا کے، کبھی گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل کے۔ اور اب پلوامہ میں اپنے نیم فوجی جوانوں کی لاشوں پر الیکشن کا تاج محل سجانا چاہتا ہے۔ مودی نہیں بلکہ سیاست گردی کا موذی کردار ہے جو پاکستان کے پہاڑی علاقے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کر کے جیش محمد کے تین سو دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کا سہرا اپنے سر باندھ کر آنے والے الیکشن میں تین سو نشستیں حاصل کرنے کے درپے ہے۔
اس نے تو الیکشن میں بہر صورت کامیابی حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا کا امن داؤ پر لگا دیا ہے۔ مودی سیاست کاری کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ جب کہ اس کے ہم وطن حریف سیاست دان، ریٹائر جنرلز اور صحافی و تجزیہ کار دن رات مودی کی بازاری سیاست پر کیچڑ اچھال کے عین عبادت کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اپوزیشن لیڈر اور جناب عمران احمد نیازی کے دیرینہ دوست نوجوت سنگھ سدھو نے پلوامہ حملے کو ڈراما اور بالا کوٹ سرجیکل سٹرائیک کو سیاسی سٹنٹ قرار دے کر ان کی بھرپور مذمت کی ہے۔
اسی طرح بھارتی راجیہ سبھا کے راہنما جناب کپل سبل اور سابق میجر جنرل وشمبر دیال نے پاکستان کے ساتھ جنگی ماحول اور تناؤ کو مودی کے عوام سے ووٹ چرانے کا ڈھونگ قرار دیا ہے جبکہ اپنے اس طرح کے بیانات اور بھاشا کو خالص عبادت اور تقویٰ کے اعلٰی معیار سے تعبیر کیا ہے۔ اسی طرح سریندر سنگھ آہو والیہ، راہول گاندھی اور کچری وال جیسے لوگوں نے بھی سرحدوں پر تناؤ اور دباؤ کی حالت کو بھارت میں ہونے والے چناؤ کا کارن بتایا ہے۔ خود یہ لوگ اس طرح کی سر گرمیوں اور تابڑ توڑ بیان بازیوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کا زینہ سمجھنے کے بجائے بھگوان کی بے ریا پوجا اور جنتا کی بے لوث خدمت اور روحانیت کا اعلٰی و ارفع مقام بتاتے ہیں۔
ادھر ہمارا اپنا میڈیا آج کل ملکی خبریں کم اور بھارت کی مکمل بربادی اور تباہی کی گرما گرم خبریں زیادہ دے رہا ہے۔ بالاکوٹ حملے کے حوالے سے سارا زور اس پر ہے کہ وہاں کسی شخص کی ہلاکت نہیں ہوئی بلکہ کچھ درخت اور ایک کوّا کام آیا ہے۔ البتہ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ دشمن ملک کے یکبارگی بارہ جہازوں کا ملک کی فضاؤں کو پائے مال کرتے ہوئے چالیس کلو میٹر اندر آکر اپنے مطلوبہ ہدف پر بمباری کر کے اطمینان سے واپس چلے جانا کیا ہماری خود مختاری اور قومی سلامتی کی دیوار میں دراڑ پڑنے کے مترادف نہیں؟
بر سبیل تذکرہ ہمارا اصول پسند اور محب وطن میڈیا آسٹریلیا کے خلاف بھارتی کرکٹ ٹیم کے آرمی کیپ پہن پہن کر میدان میں اترنے پر سیخ پا ہے۔ یہ فوجی ٹوپی ان کو آرمی میں اعزازی لفٹینیٹ مندر سنگھ دھونی نے پہنائی ہے۔ ہمارا میڈیا بھارتی ٹیم کی اس اوچھی حرکت کو کھیل میں گھٹیا سیاست کے عمل دخل کی بدترین مثال بتا رہا ہے کیونکہ کھیل میں سیاست یا سیاسی کھیل کھیلنے میں تو دنیا بھر میں ہم مشہور ہیں۔ یہ اعزاز بھی ہمیں ہی حاصل ہے کہ آرمی سے متعلق ٹوپی و وردی ہو یا دوسری کوئی چیز، ہم اسے متاع حیات اور قیمتی ترین نشانی سمجھ کر دل سے لگائے رکھنے کے جملہ حقوق اپنے لیے محفوظ بنائے رکھے ہوئے ہیں۔
ہم یہ کیسے گوارا کر لیں کہ انڈیا جیسا دشمن ملک یہ منفرد اعزاز ہم سے چھین لے۔ ہم تو اپنے نو مولودوں کو بھی دشمن ملک اور ملک دشمن وظیفے کی گھٹی پلا کر پروان چڑھاتے ہیں۔ ہندو بنیا یہ بھی سن رکھے کہ اگر ہم اپنی آرمی کو سارا ملک جولاں گاہ بنا کرسیاسی کھیل کھیلنے کے لیے پیش کردیتے ہیں تو یہ امر ہمارے جذبہء ایمانی، شوق شہادت اور جذبہء حب الوطنی پر دال ہے۔ اور یہ مودی جو ہماری سرحدوں پر فوج لگا کر الیکشن جیتنے کے خواب دیکھ رہا ہے یہ اس کی خام خیالی ہے کیونکہ وہ الیکشن کی جدید کیمسٹری کی جانکاری کے حوالے سے ہمارے مقابلے میں طفل مکتب ہے۔ وہ کیا جانے الیکشن جیتنے کے لیے فوج سرحدوں پر نہیں کہیں اور لگانا پڑتی ہے۔
آج کل ہر ایک مودی کو سیاست بازی اور الیکشن میں تین سو نشتیں حاصل کرنے کے لیے پاک انڈیا جنگ کو مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے طعنے دے رہا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہم نے مذہب، عقیدے، مسلک، فرقے، فوج، مسئلہء کشمیر، ہندوستان سے نفرت سمیت ہر معاملے کو سیاست کے لیے نہیں بلکہ عبادت اور معرفت الہٰی کے لیے استعمال کیا ہے۔ سیاست کے لیے دنیا بھر سے شدت پسند مسلمانوں کو جمع کر کے انہیں مجاہد بنایا۔
نائن الیون ہوا تو راتوں رات انہیں مجاہدین کو عین رضائے حق اور حصول رزق حلال کے لیے دہشت گرد بنا کر فروخت کرنا شروع کردیا۔ انہیں میں سے چند کار آمد دانوں کو قومی اثاثہ قرار دے کر مقدس فرض کی ادائیگی کرتے رہے۔ آج کل پھر ان بیچاروں کو قومی وقار اور ملکی مفاد کی قربان گاہ پر ذبح کر کے بڑے خشوع و خضوع سے اللہ تعالیٰ کی خوشنود ی حاصل کر رہے ہیں۔ ہم تو سرتاپا عبادت کر رہے ہیں مگر یہ بدبخت مودی الیکشن میں فتح حاصل کرنے کے لیے سیاست کر رہا ہے۔


