خواتین کا عالمی دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ پوری دنیا میں عورت کی عزت و توقیر کا پرچار کیا گیا۔ سارے عالم نے صنفِ نازک کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ خواتین کی خدمات کا اعتراف اور ان کا شکریہ کرنے کے لیے ملکی و غیر ملکی میڈیا پیش پیش رہا۔ وطنِ عزیز میں سیاستدانوں سمیت تمام مشاہیر نے اس عالمی دن پر فاطمہ جناح ’بے نظیر ب ہٹو‘ ارفع کریم اور باقی تمام عورتوں کی ہمت کو داد دیتے ہوئے ان کی وطن کے لئے ادا کیے گئے کردار پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔ سینیٹ کے اُس دن ہونے والے اِجلاس کی صدارت صنفِ نازک ’کشور کماری‘ کوسونپی گئی۔

یہ تو تھا 8 مارچ کو خواتین کے حوالے سے ہونے والے خاص دن کا احوال۔ اب ایک نظر ڈالتے ہیں اپنے مذہب پر تو عورت کو اس کا حق دینِ اسلام 1400 سال پہلے دے چکا ہے۔ جس کی عملی مثال حضرت محمدﷺ نے خود اپنی ازواجِ مطہرات اور اپنی حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ اپنے حسنِ سلوک سے دے دی ہے۔ اس کے بعد عورت کے ’خاص مقام‘ سے کوئی بھی اختلاف نہیں کر سکتا۔ جہاں عورت اگر ماں ہے تو اُس کے پیروں تلے جنت ہے۔ اگر بیٹی ہے تو رحمت اور اگر بیوی ہے تو آدھے ایمان کی حامل۔

مگر یہاں ایک مسئلہ غور طلب ہے کہ کیا واقعی ہم مسلمان خواتین اپنے حقوق سے آگاہ ہیں؟ ایک مثل مشہور ہے ”کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا“۔ آج کل ہم خواتین نے مغربی دنیا کی تقلید شروع کر دی ہے۔ اس کی پیروی کرتے ہم اپنی زریں روایات ’اپنے مذہبی اقدار کو شاید کہیں بھول گئے ہیں۔ مغربی دنیا میں جنم لینے والی ”فیمینزم“ کی تحریک نے ہماری بھولی بھالی عورتوں کوجب اپنا گرویدہ بنایا تو حقوقِ نسواں کی طلب گار ہماری صنفِ نازک اپنا اصل مقام نظر انداز کر گئی۔

”انٹرنیشنل وویمن ڈے“ پر پاکستان میں ہونے والے ”عورت مارچ“ کو محض مغربی دنیا کا اثر کہا جائے تو مناسب ہو گا۔ پچھلے سال بھی ایسا ہی ایک مارچ ہمارے ملک میں وقوع پزیر ہوا تھا جس کا مشہور نعرہ ”اپنا کھانا خود گرم کرو“ بنا۔ اس سال بھی مختلف پلے کارڈز اُٹھائے ہماری عورتوں نے کراچی اور دیگر شہروں میں مارچ کیا۔ جس میں ”تواڈی عزت تواڈہ مسئلہ“، ”مجھے کیا معلوم تمھارا موزہ کہاں ہے؟ “، ”اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو“ نمایاں ہیں۔

ایک عورت ہونے کے ناطے میں اس موضوع پہ سوچنے پر مجبورہو گئی۔ بحیثیت ایک بیٹی جب میں نے اسلامی تعلیمات اور اپنے والد صاحب کو مدِ نظر رکھ کر سوچا تو یہ عورت مارچ مجھے محض ایک فریب اور دھوکہ لگا۔ جتنی عزت عورت کو اللہ تعالی کے دین، رسول ﷺ کی تعلیمات نے دی ہے اگر ہم قرآن پاک اُٹھا کر دیکھ لیں تو ہم پر واضح ہو جائے۔ عورت کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ کی کتاب میں ایک پوری سورت عورت کے لئے ”سورۃ النساء“ نازل کی گئی۔ عورت کے ہر مسئلے پر بات کی گئی ہے۔ صنفِ نازک کا مقام بھی تفصیلاّ بیان کر دیا گیا ہے۔

اِنھیں حقوق کو دیکھتے ہوئے جب معاشرے کے اس پہلو پر نظر ڈالی جائے جہاں خواتین مرد حضرات کو یہ باور کروا رہی ہیں کہ ”اپنا کھانا خود گرم کرو“ یا پھر ”اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو“ وہاں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ عزت حاصل کرنے کا یہ طریقہ صرف اور صرف شرمندگی کا باعث ہے۔ ہماری خواتین جو اس طرح سے اپنے حقوق حاصل کرنا چاہ رہی ہیں اُن کے لئے یہ سب صرف باعثِ سبکی ثابت ہوگا۔

ایک بیٹی ہو کر جب میں اپنے والد صاحب کے لئے کھانا گرم کرتی ہوں تو مجھے اس سے خوشی ہوتی ہے، دوپٹہ لے کر باہر جانے میں اپنی ہی عزت محسوس کرتی ہوں۔ اپنے بابا کا کام اپنے ہاتھ سے کر کے خود پر مان ہوتا ہے۔ دفتر سے واپسی پر ان کو پانی دینا میرے لئے باعثِ ندامت کبھی بھی نہیں ہوا۔ بھائیوں کا کوئی بھی کام کرنا میری عزت میں کمی نہیں لایا۔ تو یہ سوچ کر ٹھٹھک جاتی ہوں کہ ہماری خو اتین ”لبرل“ ہونے کی آڑ میں آخر کہاں جا رہی ہیں؟ کیا ان کا حال بھی اس کوے جیسا تو نہیں ہو گا جو ہنس کی پیروی کرتے اپنی چال بھی بھول جائے؟

مغربی دنیا اور اس کی تعلیمات کا ہم پر تسلط اس بات کا عکاس ہے کہ ہم نے اپنی زریں اقدار کو صحیح معنی میں پہچانا نہیں۔ اپنے اصولوں اپنے دین تک رسائی ہی حاصل نہیں کی۔ اس کو مشکل سمجھ کر پسِ پشت ڈالا جس کی وجہ سے ہمیں ’ان‘ لوگوں کی تحاریک کا سہارا لینا پڑا جو کسی صو رت ہمارے لئے صحت مند نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اپنی تعلیمات کو دوبارہ ازبر کرنا ہو گا۔

قرآن ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں رہنمائی دیتا ہے۔ اور جب ہم اس کو نہ صرف بمعہ ترجمہ بلکہ سمجھ کر پڑھیں گے تو میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ ہمیں کسی ”عورت مارچ“ کی قطعی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہمیں اپنے والد، بھائی، شوہر کے کام کرتے وقت تذلیل کی بجائے عزت و فخر محسوس ہو گا۔ بشرطیکہ ہم قرآن و سنت پر عمل کریں نا کہ مغربی تعلیمات پر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •