خواتین کا عالمی دن اور اسلام میں عورت کا مقام


8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد عالمی سطح پر خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے حقوق کا تحظ کرنا ہے۔ اگرچہ پہلے خواتین کے عالمی دن کے لئے مختلف ایام تھے مگر اب باقاعدہ طور پر 8 مارچ کو ہی منایا جاتا ہے۔ اب یورپ سمیت دنیا بھر عورتوں کو حقوق دینے کے دعویدار ہیں مگر تارخی حوالوں سے دیکھا جائے تو خواتین کے عالمی دن کے منائے جانے کے حوالات بیسویں صدی کے اوائل میں ہی ملتے ہیں۔

1914 میں پہلی بار خواتین کا عالمی دن منایا گیا مگر اسلامی تاریخی کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے حقوق کا تحظ تقریبا ساڑھے چودہ سو سال پہلے کیا۔ اسلام نے عورت کو وہ چاہے جس روپ میں اس روپ میں مقام و مرتبہ عطا فرمایا ِ ماں ہے تو جنت اس کے قدموں کے نیچے ہونے کی بشارت دی۔ بیٹی ہے تو اس کا اپنا مقام اور بیوی ہے تو الگ مقام رکھا۔ جس دور میں عورت کو نفرت کی علامت سمجھا جاتا تھا اور بیٹی کی پیدائش پر افسوس کا اظہار کیا جاتا تھا بلکہ بیٹوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ ایسے دور میں اسلام کی آفاقی تعلیمات عورت کے عزت ومقام کا پرچار کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں بلکہ اس کے ساتھ عورت کے حقوق کاتحظ بھی کرتی نظر آتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (ترجمہ) اے لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلادیں (النساء 1۔ 4 )

اسلام میں عمل اور اجر میں مرد وعورت مساوی ہیں چنانچہ قرآن پاک میں واضح کردیا گیا کہ (ترجمہ) ”مردوں کو اپنی کمائی کا حصہ ہے اور عورتوں کو اپنی کمائی کا حصہ ہے اور (دونوں ) اللہ سے اس کا فضل مانگو“ (سورۃ النساء 32 ) ایک دوسری جگہ فرمایا (ترجمہ) اور جو کوئی نیک عمل کرے گا، وہ مرد ہو یا عورت بشرط وہ مومن ہوتو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی ” (النساء 124 ) قرآن پاک کے علاوہ کئی احادیث رسولؐ میں بھی عورتوں کے حقوق، فرائض اور ان کی معاشرے میں اہمیت کا ذکر واضح طور موجود ہے۔ عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرنے کی تاکید فرمائی“ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ” (الحدیث)

اس دور میں جب عورت کو حقارت کی نظر میں دیکھا جاتا تھا آپﷺ نے بیٹوں کی پروش اور تربیت اور ان کی شادی کی ذمہ داری نبھانے پر بھی آخرت میں انعام و اکرام کی خوشخبری دی۔ فرمایا ”جس شخص نے 3 لڑکیوں کی پرورش کی پھر ان کو ادب سکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے“ (ابوداؤد) ا قرآن وحدیث میں کثیر تعداد میں ایسے احکامات موجود ہیں جس سے اسلام میں عورت کے مقام، اہمیت اور اس کے حقوق کا تعین ہوتا ہے۔

اسلام واحد دین ہے جس نے عورت کو ذلت وپستی سے نکال کر اسے شرف انسانیت بخشا جبکہ اسلام سے پہلے دیگر مذاہب میں عورت کو ذلت، رسوائی وتحقیر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ہندو مت میں خاوند کی موت کے ساتھ عورت کو بھی ستی کردیا جاتا تھا یعنی اسے بھی زندہ جلادیا جاتا تھا جبکہ عرب معاشرے میں اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں لڑکی پیدا ہونے پر اسے زندہ درگورکردیا جاتا تھا۔ الغرض قرآن وحدیث میں کثیر تعداد میں ایسے احکامات الغرض موجود ہیں جس سے اسلام میں عورت کے مقام، اہمیت اور اس کے حقوق کا تعین ہوتا ہے اسلام واحد دین ہے جس نے عورت کو ذلت وپستی سے نکال کر اسے شرف انسانیت بخشا جبکہ اسلام سے پہلے دیگر مذاہب میں عورت کو ذلت، رسوائی وتحقیر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

نبی پاک ﷺ کی عورت بیٹوں سے عقیدت کا ایک بڑا ثبوت بھی ہے کہ جب آپ ﷺ کہیں جاتے تو سب سے آخر میں اپنی بیٹی کے گھر جاتے اور جب واپس آتے توسب سے پہلے بیٹی سے ملتے۔

اسلام نے جائیداد میں عورت کا حصہ مقرر فرمایا۔ نبی پاکﷺ کے صحابہ کرام کا لشکر جب جہاد کے جاتا تو انہیں یہ تاکید کی جاتی کہ بے گناہوں اور بچوں کو قتل نہ کرنا وہیں یہ تاکید بھی کی جاتی کہ عورتوں کو قتل نہ کرنا۔ الغرض عورت کے حقوق اور مقام پہ جتنی بحث کی جائے اسلام کا آفاقی نظام ہی عورت کو اصل مقام اور حقوق دیتا ہے

Facebook Comments HS