نسیم بیگم کی ’شہادت‘ !

سینئر صحافی اسلم ملک صاحب نے نسیم بیگم کی برسی کے موقع پر فیس بک پر ان کے بارے میں ایک پوسٹ لگائی۔ اس پوسٹ کے مطابق 24 فروری 1936 کو پیدا ہونے والی خوب صورت گلوکار نسیم بیگم 29 ستمبر 1971 میں زچگی کے دوران وفات پا گئیں۔ نسیم بیگم نے 6 بچے پیدا کیے اور خود نسیم بیگم کو، ان کے شوہر دین محمد کو یا کسی بھی اور کو یہ خیال نہیں آیا کہ اتنی بڑی گلوکار

Read more

ہم کیا کریں گے ڈاکٹر ابرار احمد!

”تمہاری کتاب کے اوراق اڑ رہے ہیں / میری نظموں کے آنسو خشک ہو چکے ہیں۔“ اور وہ شام گزر چکی ہے۔ ایوان کرامازوف پوچھتا ہے، ہم کیا کریں گے ڈاکٹر ابرار؟ نظموں کے کرداروں کے سب خواب بیچ سے شکست ہو چکے۔ ”ٹوٹی ہوئی نیند میں چلتے ہوئے ہم کدھر جائیں گے ”۔ شاعر کی“ روئی ہوئی آنکھ سے دنیا بہت صاف دکھائی دیتی ”تھی، اب اسے رتھ میں جتا کون دیکھ سکے گا؟ غم آگیں تاثیر اور غنائیت سے بھری

Read more

’حسین نقی کون ہیں؟‘ اور ’آصف فرخی کون تھے؟‘ کے موسم میں

عمر کی دوسری دہائی چلی تو اوپر تلے ہونے والی کچھ اموات نے اچھی طرح باور کرا دیا کہ اب اس دکھ سے ملاقات ہوتی رہے گی۔ دادی، دادا، نانا، نانی ایک ایک کر کے رخصت ہوئے۔ ساتھ ساتھ دور کے ضعیف رشتہ دار، سکول اورکالج کے بزرگ اساتذہ، ہمسائے اور پاکستان اور دوسرے ممالک کی بڑی بڑی شخصیات کے رخصت ہونے کی خبریں ملنے لگیں۔ نانا پروفیسر محمد منور کے انتقال کے بعد گھر کے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے

Read more

بے حیا عورتیں

کیسے مردوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر گلے کو دبا کر تعفن اگلتے ہوئے گندے نالوں میں لڑھکاتی، یادور کھیتوں میں اور کوڑے دانوں میں پھینک آتی ہیں سنگ دل سارے منظر کو اک آن میں بھول کر آگے بڑھ جاتی ہیں بے حیا عورتیں فاحشہ عورتیں ان کی رالیں ٹپکتی ہیں معصوم جسموں کو گر دیکھ لیں مرد،عورت ہویا کوئی خواجہ سرا اپنی وحشت کی تسکین کے واسطے عمر، رنگت، قبیلے یا طبقے کا کچھ مسئلہ ہی

Read more

سنہ 2020 کی خودکلامی

ہم زمینو! گزشتہ برس چند سوداگروں نے محلات میں بیٹھ کر آنے والے برس کا نیا نقش نقشے پہ کھینچا جو خلقت بچی تھی، اسے دائرہ دائرہ بانٹ کر پھر نشاں زد کیا وہ جو محصور تھے ان کو نفرت سے دیکھا جو آوازیں سمع خراشی کا باعث تھیں ان کو دبایا وہ قرنوں تلک اب ہوا کے بدن میں سلگتی رہیں گی اسی سال کچھ سرحدیں اور کھینچی گئیں، کچھ پھلانگی گئیں اور ہواؤں میں اڑتے ہوئے لاتعلق پرندوں

Read more

کم عقل عورت اور افلاطون مرد

پچھلے چند دنوں میں ایک مخصوص نعرے کے تناظر میں ایک بحث جاری ہے ۔اس نعرے کی غلط تفہیم کے بارے میں سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارا معاشرہ عورت کو کم عقل سمجھتا ہے اورپدر سری نظام کو ایمان کی طرح مقدس جانتاہے بلکہ اتنا الجھا ہوا ہے کہ اسے دینی اقدار سے تشبیہ دیتا ہے۔اس نظام کی پیداوار مردو عورت،دونوں ہی عورت کو کم عقل سمجھتے ہیں۔ روزمرہ معاملات میں یہ بار باردیکھنے کو

Read more

میرا جسم، میری مرضی: عورت حق نہیں مانگ رہی، ظلم بے نقاب کر رہی ہے

اس نعرے میں ایسا کیا ہے کہ معاشرے کی اقدار کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے؟ کون سی اقدار؟وہ اقدار کہ جن میں معاشرہ یک رخی تصویر دیکھنے کا عادی ہو چکا ہے اور کسی اور رخ سے دیکھنا یا کسی بات کا مطلب سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔ اس معاشرے کی نظر میں جو عورت یہ بات کہے، وہ جنسی آزادی کی خواہاں ہے، آوارہ، بے حیا اور بد چلن ہے۔ سمجھنے کی ضررت ہے کہ پاکستانی معاشرے کے تناظر

Read more

عالمی یومِ خواتین اور ہم

1975 ء میں اقوامِ متحدہ نے عالمی یومِ خواتین آٹھ مارچ کو منانے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے جب آٹھ مارچ 1917 ء کو سوویت یونین میں عورتوں کو ووٹ کا حق ملا، تو یہ دن عورتوں کے دن کے طور پر منایا گیا اور دُنیا میں، جس ملک میں بھی سوشلسٹ تحریک موجود تھی، وہاں یہ دن منایا جانے لگا اور بالآخر اقوامِ متحدہ نے یہ دن عالمی یومِ خواتین کے نام کر دیا۔

امریکہ میں عورتوں کوووٹ کا حق 1920 ء میں ملا جب آئین میں انیسویں ترمیم متعارف کروائی گئی اور اس ترمیم کو سوسن بی اینتھونی کے نام پر ”اینتھونی ترمیم“ کا نام دیا گیا۔ ہم جب آج یہ دن مناتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا مقصدان عورتوں کے سیاسی اور سماجی حقوق کے لئے اور بالخصوص ووٹ کا حق حاصل کرنے کے لئے کی گئی ایک لمبی جد و جہد کی کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے اور دوسرا اہم مقصدان عورتوں کے لئے آواز اٹھانا ہے، جنہیں اب بھی بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں اور ان پرمحض اس بنا پر ظلم کیا جاتا ہے یا ان سے امتیاز برتا جاتا ہے کہ وہ اس صنف سے تعلق رکھتی ہے۔

Read more

نئے پاکستان میں حج پالیسی اور "باسودے کی مریم”

باسودے کی مریم کسی فردِ واحد کا نام نہیں۔ ہمارے گھروں میں، گلی محلوں میں، جاننے والوں میں، سب کے دل باسودے کی مریم جیسے ہیں۔ ممتاز افسانہ نگار اسد محمد خان کے افسانے ’’باسودے کی مریم‘‘ کو پڑھ کر دل میں جہاں عقیدت و محبت کی لہریں جنم لیتی ہیں، وہیں غربت کی وہ تصویر بھی اپنی پوری حیرانی اور حسرت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے جو یہاں بسنے والے کروڑوں انسانوں کا مقدر ہے۔ غریب کے

Read more