چت بھی اپنی پٹ بھی اپنی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی مزید بڑھے گی جس پر عوام چیخیں گے۔ ہمارا سوشل میڈیا واقعی بہت تیز رفتار ہے لیکن کیونکہ وہ قابل اعتبار نہیں ہے اس لئے اس کی ہر خبر کو مصدقہ مان لینا بہت مشکل ہے۔ کل رات ہی کی بات ہے کہ میں نے پاکستان کے موجودہ وزیر خزانہ کا مذکورہ بیان فیس بک میں پڑھا تھا لیکن میں اسے ہوائی ہی سمجھا تھا۔

بیشمار خبریں اور بیانات ہوتے ہیں جو ہوائیوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوا کرتے۔ بالکل اسی طرح جب اسد عمر صاحب کا بیان نظروں سے گزرا تو میں اسی حسن ظن کا شکار رہا کہ کسی دل جلے مخالف نے کوئی افواہ پھیلائی ہوگی اس لئے کہ کوئی بھی وزیر حکومت میں رہتے ہوئے ”اپوزیشن“ کے لب و لہجے میں کس طرح بات کر سکتا ہے۔ ممکن تھا کہ یہ بات تو اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کی ہو لیکن منسوب وزیرخزانہ اسد عمر سے کردی ہو لیکن جب آج صبح کے جسارت اخبار پر میری نظر پڑی تو اس کی شہ سرخی پڑھتے ہی مجھے اپنے حسن ظن پر شرمندگی ہوئی کہ انسان کو اتنا سادہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ بعد میں وہ اپنی سادگی پر پشیمان ہوجائے۔

ویسے بھی موجودہ حکومت میں شامل وزرا اور مشیران تو پھر بھی وزرا اور مشیران ہی ہیں، خود موجودہ وزیر اعظم صاحب کا یہ عالم ہے کہ انھیں اکثر اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ حکومت کر رہے ہیں یا اپوزیشن میں بیٹھے ہیں۔ وجہ بہت ہی سادہ سی ہے، 22 سال اپوزیشن کی ہے جس کی وجہ سے پرانا انداز فکر جا کر نہیں دے رہا۔ رہا معاملہ وزرا اور مشیران کا تو ان کی بہت واضح اکثریت خود ”بھان متی کا کنبہ جوڑا“ والوں کی سی ہے۔

کیونکہ یہ ”ساری اینٹں اور روڑے“ اِدھر اُدھر کے ہیں اس لئے خالی کنستر میں جب ہلتے ہیں یا ہلائے جا رہے ہوتے ہیں تو ہر اینٹ اور روڑے کی اپنی اپنی راگنی ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ بات سمجھنا مشکل ہوجاتی ہے کہ کون ان میں سے اِلالزی ہے اور کون اُلالزی۔ کچھ اسی قسم کی بات وزیر خزانہ بھی کر گئے ہیں جس کو سن کر یہ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ ان کے منھ میں جو زبان ہے وہ خورشید شاہ کی ہے یا عمران خان کی۔ بھلا یہ کوئی بات ہوئی کہ مہنگائی کا جو طوفان آنے والا ہے وہ عوام کی چیخیں نکال دے گا۔ کیا اس بیان سے لگتا ہے کہ یہ بات ملک پر حکومت کرنے والی پی ٹی آئی کے وزیر خزانہ نے کی ہے۔

ایک جانب عوام کا حوصلہ توڑ دینے والا بیان اور اس کے فوراً بعد یہ کہنا کہ ”جب معیشت بحال ہورہی ہو تو مہنگائی بڑھتی ہے، اب ملک میں معیشت مستحکم دکھائی دے رہی ہے تاہم مہنگائی مزید بڑھے گی کیونکہ بجلی اور گیس کی قیمت بڑھ رہی ہے“، تضاد بیانی نہیں؟ تان وہیں آکر ٹوٹتی ہے کہ جسم کے اندر کا خول اور باہر کی دنیا میں جو کچھ ظاہرہ اور باطنہ ہے وہ شدید اضداد کا شکار ہے۔ منافقت سے بھرپور ایک زندگی ہے جو ہر ادا ہونے والے اور منھ سے پھوٹنے والے لفظ سے ظاہر ہوتی جا رہی ہے۔

اگر معیشت استحکام کی جانب رواں دواں ہے تو یقیناً پاکستان خوشحالی کی جانب گامزن ہے۔ جب پاکستان خوشحالی کی جانب گامزن ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام بدحالی کا شکار ہورہے ہوں یا ان کے بد حال ہونے کا امکان ہو؟ جب اس بات کا امکان ہی نہیں کہ وہ بدحالی کامنھ بھی دیکھیں گے تو ”چیخیں“ نکلیں گی یا زندہ باد کے نعرے فضاؤں میں بلند ہوں گے ؟ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ موجودہ حکومت کے کسی ایک بندے کو بھی اب تک اس بات کا یقین نہیں ہو پارہا ہے کہ وہ آئے ہیں یا بٹھا دیے گئے ہیں۔

اب مہنگائی کا ذکر کرکے ”فلسفہ مہنگائی“ بھی ملاحظہ کیجئے۔ فرماتے ہیں کہ جب معیشت مستحکم ہوگی تو مہنگائی تو بڑھے گی۔ بات اتنی غلط بھی نہیں۔ خوشحالی کا ایک تعلق مہنگائی سے بھی بنتا ہے۔ پاکستان بناتھا تو پاکستان کے ایک ”روپے“ میں 192 پائیاں ہوا کرتی تھیں۔ اس پائی کے بھی ہر ایک کے چھ چھ دھیلے ہوا کرتے تھی تب بھی نہ جانے کتنی اشیا بیچنے والے خریدنے والوں کو ”جھونگے“ میں کچھ مزید دے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرلیا کرتے تھے۔

اب نہ دھیلے ہیں نہ پائیاں اور نہ ہی پیسے اس لئے کس کو کیا معلوم کہ ”جھونگا“ کس چڑیا کا نام ہے۔ اتنا سستا زمانہ ہونے کے باوجود کیا ”خوشحالی“ تھی؟ کیا ہر گھر پختہ ہوتا تھا؟ کئی کئی منازل ہوا کرتی تھیں؟ کیا سارے گھر بجلی کے چراغوں سے منور ہوتے تھے؟ کیا فریج، ٹی وی، ایئر کنڈیشن، اعلیٰ فرنیجر اور کراکری ہر گھر میں موجود تھی؟ ان سب باتوں کا جواب ”نہیں“ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ مہنگائی بڑھی تو خوشحالی بڑھی۔

اس لئے وزیر موصوف کا ”فلسفہ مہنگائی“ سرآنکھوں پر کہ معیشت مستحکم ہورہی ہے تو مہنگائی تو بڑھے گی سو بڑھ رہی ہے لیکن کیا خوشحالی بڑھنے لگے تو عوام کی ”چیخیں“ بھی بلند ہوتی ہیں؟ یہ ہے وہ سوال جو اس موجودہ حکومت سے کیا جانا اس لئے نہیں بنتا کہ یہ حکومت مجموعہ تضادات ہے اور اس کی سمجھ سے باہر ہے کہ وہ حکومت سے باہر ہے یا حکومت کے اندر۔

بات یہ ہے کہ کوئی حکومت پاکستان میں ایسی نہیں آئی جس نے مہنگائی کے سیلاب کے سامنے بند باندھا ہو۔ پاکستان تو پاکستان، پوری دنیا مہنگائی کے اس سونامی کو آج تک نہیں روک پائی اور لگتا ہے کہ ایسا ممکن ہے بھی نہیں لیکن اس کے باوجود دنیا کے سارے مہنگے ترین ممالک خوشحال اور وہاں کے عوام ہر فکر سے آزاد ہیں۔ بات محض مہنگائی کی جائے تو اس کا مطلب کبھی خوشحالی نہیں ہوا کرتا۔ خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ عوام کے لئے زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع موجود ہوں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں روزگار کے اتنے بے تحاشا ذرائع ہیں کہ ان کو کام کرنے والے باہر کے ممالک سے بلانے پڑتے ہیں پھر بھی ان کے پاس مزید آنے والوں کے لئے گنجائش موجود رہتی ہے۔

وزیر موصوف شاید بے خیالی میں سچ ہی بول گئے ہیں کہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ عوام کی ”چیخیں“ بھی بڑھیں گی اس لئے کہ بظاہر تو یوں لگتا ہی کہ ”مکانِ پاکستان“ تو بہت ہی عالی شان بن گیا ہے لیکن مکینوں کو دو وقت کیا ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں کیونکہ موجودہ ناعاقبت اندیش حکمران پاکستان کو سجانے پر تو بہت توجہ دے رہیں ہیں لیکن کوئی ایسا منصوبہ ان کے پیش نظر ہے ہی نہیں جس کی وجہ سے مکینوں کو با عزت ملازمت کے مواقع میسر آ سکیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ آٹھ ماہ کے دوران حاصل کیے گئے قرضوں کے سامنے تو گزشتہ حکومت کے لئے گئے 5 سال کے قرضے بھی پشیمان ہیں لیکن ان کا ابھی تک کوئی ایسا استعمال سامنے نہیں آیا جس کی وجہ سے یہ کہا جاسکے کہ عام افراد کے لئے روزگار کے ذرائع پیدا ہو رہے ہیں۔

مذاق سے بھر پور بیان کا یہ سلسلہ کہیں تھمتا ہوا دکھائی ہی نہیں دیتا۔ وزیر موصوف فرماتے ہیں کہ ”آئی ایم ایف کے ساتھ اختلافات کم ہوچکے ہیں اور قرض کے لیے مذاکرات جاری ہیں، معاہدے کے قریب پہنچ گئے، آئی ایم ایف نے مزید اقدامات کرنے کا کہا تھا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ نے جو اقدامات کیے وہ کافی ہیں“۔ ملاحظہ کیجئے کہ آئی ایم ایف نہ ہوا بھارت ہو گیا جس سے ہمارے ازلی اختلافات چلے آ رہے ہیں۔

قرضہ کہیں سے بھی لیا جائے کیا اس سے ”اختلافات“ جیسے الفاظ کا استعمال مناسب ہے؟ قرضہ دینے والا اختلافات نہیں، شرائط رکھتا ہے۔ اگر قرضہ لینے والا ان شرائط کو پورا کرسکتا ہے تو ٹھیک ورنہ معاہدہ ہو ہی نہیں پاتا۔ آئی ایم ایف کی جو شرائط تھیں جب وہ از خود پوری کی جارہی ہیں، ٹیکس پر ٹیکس لگائے اور بڑھائے جارہے ہیں، بجلی، پانی اور گیس کو مہنگا کیا جارہا ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اور عوام کے ترقیاتی کاموں کو مؤخر کیا جارہا ہے تو یہ سب کیا ہے؟

یہی سارے اقدامات ہی تو ہیں جو پاکستان کی جھولی کو آئی ایم ایف کی دہلیز پر پھیلانے کے قابل بنا رہے ہیں۔ پھر اس پر یہ کہنا کہ جھولی پھیلانے کے لئے ابھی اور بھی بہت فرمائشیں تھیں جن کو اب مزید پورا نہیں کیا جاسکتا، کتنے شرم کی بات ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کیا اس بات کی ضمانت دی جاسکتی ہے کہ آئندہ آنے والے ماہ و سال میں مزید کسی بھی قسم کے ٹیکس کا یا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا؟

میرا تو ایک ہی سوال ہے اور وہ یہ ہے کہ یہی کام اگر گزری حکومتیں کریں، قرضے لیں، مہنگائی بڑھائیں، عوام کی چیخیں نکالیں تو غلط لیکن وہی سب جو گزری حکومتیں کرتی رہی ہوں اور موجودہ حکومت اس سے دس قدم بڑھ کر کررہی ہو تو بالکل درست سمجھا جائے تو کیا یہ بات عقل فہم سے باہر کی نہیں؟ اسی لئے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہر حکومت کا ایک ہی وتیرہ رہا ہے کہ چٹ بھی اپنی پٹ بھی اپنی لیکن پھر بھی انٹا اپنے باپ ہی کا سمجھا جاتا رہا ہے اور وہی سب کچھ تاریخ کی طرح موجودہ حکومت دہرارہی ہے۔

عوام کو یہ بات اب اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ جس نئے پاکستان کا غلغلہ اس موجودہ حکومت نے اٹھایا تھا وہ سب کا سب ایک فریب اور دھوکا ہی تھا اس لئے پرانے سے بھی پرانے پاکستان میں اگر آپ زندگی گزار سکتے ہیں تو خیر ورنہ ویسے بھی آپ صبر کے علاوہ اور کر ہی کیا سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •