شکستہ تعبیر


ایک پاکستانی کی سرگزشت

مصنف: اسلم صدیقی مترجم: ڈاکٹر شیر شاہ سید

تعارف :۔ گوہر تاج، مشی گن، امریکہ

سوانح عمری ادب کی وہ صنف ہے جس نے مجھے ہمیشہ ہی متحیر کیا۔ عظیم شخصیات کی زندگیوں میں حائل رکاوٹوں، آدرشوں کی تکمیل کے لئے ان کی حوصلہ مندی اور استقامت کو میں شوق اور استعجاب کے عالم میں ڈوب کر پڑھتی ہوں۔ بھلا ہیرے کی تراش خراش کا عمل کسے نہیں پسند۔ ایسا نہ ہو تو بھلا کیسے پتہ چلے کہ گوتم بدھ نے شہزادے کا لبادہ تج کے عام لوگوں کے دکھ سکھ سے ناطہ کیوں جوڑا، سچ کے شیدائی، مجسم سوال سقراط نے زہر کا پیالہ کیوں پیا؟

انقلابی چی گویرا نے سرمایہ داری اور استحصالی قوتوں کے خلاف بغاوت کی شمعیں کیوں فروزاں کیں؟ مارکس نے دنیا کے محنت کشوں کو یکجائی کا پیغام کیوں دیا؟ یہ تو محض چند مثالیں ہیں۔ میں ان عظیم شخصیات کی جن کی زندگیوں نے ثابت کیا کہ سچ اور حق پہ کھڑی بنیادوں کو ابدیت اور معنویت حاصل ہے۔ زندگی تو سب ہی گزار لیتے ہیں لیکن دوام تو ان کو حاصل ہے جنہوں نے انسانیت کی فلاح کے لئے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔

حال ہی میں جس سوانح عمری کا مطالعہ کیا وہ اقتصادیات کے ماہر اسلم صدیقی کی یاداشتوں پر مبنی ایک ضخیم ( 392 صفحات کی) کتاب ہے۔ جس کو دیکھ کر پہلا خیال جو میرے ذہن میں کوندا وہ یہ کہ کتاب کو ختم کرنا مشکل ہو گا۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک دفعہ پڑھنا شروع کرنے کے بعد نہ صرف اس کو چھوڑنا مشکل لگا بلکہ یہ بھی ضروری سمجھا کہ اس پر کچھ لکھا جائے۔ اس کی دو اہم وجوہات ہیں۔ ایک تو کتاب کا خوبصورت رواں ترجمہ ہے جو ڈاکٹر شیر شاہ سید کی زبان پہ گرفت اور مہارت ہے۔ (واضح ہو کہ یہ کتاب بنیادی طور پر انگریزی میں لکھی گئی اور 1999 میں چھپی) ۔ دوسری وجہ یہ کہ مصنف کی زندگی کی داستان کے ابواب کا ناطہ ایک عام پاکستانی قاری سے جڑا ہوا ہے۔

اسلم صدیقی صاحب (مرحوم) کی پیدائش غیر منقسم ہندوستان میں 1915 میں اتر پردیش کے شہر کیرانہ میں ہوئی۔ اس طرح عمر کا ابتدائی حصہ بلکہ جوانی کاکچھ دورانیہ ہندوستان میں گزرا۔ جہاں سے انہوں نے 1937 میں الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کی سند حاصل کی اور پھر محکمہ مالیات میں بطور آڈیٹر نوکری کا آغاز کیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ انہیں ملک کے مختلف علاقوں میں دورہ کرنے اور حالات سے آگہی کا موقع ملا۔ 1947 میں سرکاری ملازمت کے بعد سے بنکوں سے وابستگی رہی۔ جس سے انہیں دنیا کے تقریبا سارے ممالک میں سفر کرنے اور شعور کی آنکھیں کھلی رکھ کر عالم میں برپا ہونے والے انقلابات کا مشاہدہ اور تجزیہ کرنے کا موقع ملا۔

دوسری جنگِ عظیم کے اثرات، جرمنی میں ہٹلر کا تسلط، مالٹا میں چرچل اور اسٹالن کی منصوبہ بندی، دنیا میں برطانوی تسلط، ہندوستان چھوڑ دو کی تحریک، گاندھی کا رام راج فلسفہ، جناح کا دستوری جدوجہد کے ذریعہ آزاد ہندوستان کی کاوشیں، جس کا نتیجہ دو آزاد مملکتوں ہندوستان اور پاکستان کا قیام تھا۔ اس طرح مصنف نے انسانی تاریخ کی سب سے خونی اور بدترین ہجرت کے باب کو رقم ہوتے دیکھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد مصنف نے اپنے خاندان کے ساتھ پرامید سپنوں کی جوت جگائے نقل مکانی کی اور ایک ایسی پاک دھرتی کو گھر بنایا جو لاکھوں افراد کے گھر کا محور تھی۔

شکستہ تعبیر اسلم صدیقی صاحب کے زندگی بھر کے تجربات کا نچوڑ ہے۔ جس کا مھورپاکستان ہی نہیں بلکہ غیر منقسم ہندوستان کا سیاسی، سماجی، تہذیبی اور ثقافتی مشاہدہ اور تجزیہ ہے۔ جو انہوں نے محض ماہرِ اقتصادیات اور مالیات کی عینک پہن کررقم نہیں کیا ہے بلکہ بطور دانشور اور عمدہ سیاسی تجزیہ نگار کے دلچسپ اور متاثر کن انداز میں رقم کیا۔ ایک شفاف آئینہ جس میں قاری کو پاکستان کی ابتدا ہی سے حکومتی اور ملکی سطح پہ دھوکہ، ریاکاری، خود غرضی، منافقت، انسانی قدروں کی پامالی، مذہبی تفرقہ اور نفاق کا رنگ نظر آتا ہے۔ جو وقت کے ساتھ گہرا ہی ہوتا گیا۔ اور اس طرح موجودہ پاکستان قابل اجمیری کے اس شعر کی عکاسی کرتا ہے۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

«یہ کتاب 1999 میں پاکستان کی تخلیق کے باون سال بعد لکھی گئی۔ آج 2019 میں ہم اس میں مزید انحطاط اور مزید شکستگی دیکھتے ہیں۔ شکستہ تعبیر جو ایک پاکستانی کی سرگزشت ہے، اس میں ایک عام پاکستانی سوالی اور فیض کی طرح شاکی ہے۔

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

انہوں نے کہا کتاب کے ابتدائی ابواب میں غیر منقسم ہندوستان کی فرسودہ قدروں کو چیلنج کیا ہے بالخصوص عورتوں اور بچوں کے حقوق کی پامالی کے حوالے سے۔ مثلا عورتوں کی کم عمری میں شادی اور زچگی سے زیادہ اموات، معاشرہ میں رتبہ، بچوں کے ساتھ روا تشدد کے واقعات بالخصوص انہوں نے مکتب میں دی جانے والی قرآنی تعلیم کا ذاتی واقعہ رقم کیا جس میں شدید جسمانی اذیت کے باعث انہوں نے قرآن پڑھنے کے بجائے فرار کو ترجیح دی۔ ان واقعات سے ان کے حساس دل اور تعلیم یافتہ ذہن کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس نے ظلم کو کبھی قبول نہیں کیا۔ خواہ قبلِ تقسیم کے واقعات ہوں، تقسیم کے بعد کی زیادتیاں۔ انہوں نے خونِ دل میں ڈبو کر تلخ داستان کو رقم کیاہے جس کا عنوان شکستہِ تعبیر ہے۔

مصنف نے اپنی اہم پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھانے کے دوران ذاتی تجربات کی روشنی میں ملکی صورتحال کی بنیادی ذمہ داری سیاسی رہنماؤں، جاگیرداروں، زمینداروں، فوجیوں اور مولویوں کی مذہبی عدم برداشت اور رواداری قرار دی۔ جس نے ابتدا ہی سے جمہوری قدروں کو سینے کی بجائے تشدد اور انارکی کو فروغ دیا۔

تقسیم کے بعد پاکستان کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں۔ ”قلیل عرصے میں عدمِ برداشت نے رواداری کا قتل اور مہربانی کی جگہ، حرص و لالچ اور درگزر اوربرداشت کی بجائے ظلم اور بربریت کو فروغ ملا۔ “ اس سلسلے میں انہوں نے ڈاکٹر رادھا کرشن کا جملہ نقل کیا ہے۔ ”مذہب محبتوں کو نفرتوں میں بدل دیتا ہے۔ “ اس دلیل کی دفاع میں انہوں نے لکھا ہے ”حقیقی دنیا میں یہی ہو رہا ہے۔ ہندوستان، پاکستان، افغانستان، ایران، فلطین اور کشمیر تمام علاقے مذہنی نفرتوں کی وجہ سے تباہی کا شکار ہیں۔

باوجود قائد اعظم کے بموجب ”مذہب ایک ذاتی فعل ہے“ دوسرے مذاہب کے لوگوں کومساوی شہری حقوق دینا حکومت کی ذمی داری ہے مگر ہم ابتدا ہی سے پنجاب کے قدامت پسند مسلمانوں کی احمدیوں کے خلاف مہم دیکھتے ہیں۔ جس کی قیادت مولانا مودودی نے کی۔ یہ وہی سلسلہ ہے جس نے جنرل ضیا الحق جیسے مذہبی جنونی کی آمریت کو جنم دیا اور ہم نے مذہبی نفا ق اور نفرتوں کی فصل کو پھلتا پھولتا دیکھا۔

ایک اہم نکتہ فوج کا ملک میں کردار کے حوالے سے ہے۔ جس کے متعلق قائدِ اعظم کا واضح فیصلہ تھا کہ ”فوج کا کام صرف یہ ہے کہ وہ سیاسی حکومت کے احکامات کی پاسداری کرے۔ “ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایوب خان نے اسکندر مرزا کے ساتھ مل کر نہ صرف سیاستدانوں کی بالادستی کا مکمل خاتمہ کیا بلکہ ایک آئین بنا کر خود پاکستان کے صدر بن گئے اور فوج کو مقدس گائے بنا کر رکھا۔ جس پر کسی قسم کی نکتہ چینی کی گنجائش نہ تھی۔ مصنف کے مطابق ”آج ہماری فوج ملک کے سب سے بڑے زمیندار، صنعت کارُ اور کاروباری افراد پر مشتمل ہے۔ “ انہوں نے ایک سوال کیا ہے۔ ”کیا ہمیں اتنی بڑی فوج رکھنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص جب کہ عوامی اکثریت انتہائی غربت کا شکار اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ “

پاکستان کی ابتدا ہی سے جاگیرداروں، زمینداروں اور سیاسی رہنماؤں کے ٹولوں کی حکمرانی کے حوالے سے بھی انہوں نے دردمندی سے لکھا ہے۔ ”۔ ان کے لئے کسان، ہاری اور کچلے ہوئے عوام سے زیادہ مواری، جاگیرداروں اور زمینداروں کے مفادات کا تحفظ اہم تھا۔ “

پھر صوبوں کے درمیان خلیج اور نفاق کے بیجوں کی افزائش کے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ ”اس کا آغاز تو تقسیم کے وقت مہاجرین کی آباد کاری کی امدادی رقم کی تقسیم سے ہوا۔ جو سندھ میں تو ہوئی اور ڈھاکہ کو نہ ملی۔ “ مصنف اس وقت مہاجرین کی آبادکاری کے ادارے پی آر آر ایف سی میں ملازمت کر رہے تھے اور وزیر خزانہ غلام محمد کی رعونت سے بھرپور منفی رویہ کے چشم دید گواہ تھے۔ صوبوں کے درمیان خلیج میں اہم مسئلہ زبان کا تھا کہ جب اردو کو قومی زبان کی صورت نافذ کیا گیا۔

”گو ہزاروں سال پرانی زبانوں کے اوپر اردو کو نہیں تھوپا جانا چاہیے تھا۔ “ مصنف کے مطابق ”اس مسئلہ کو پیدا کر کے پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے کی ابتدا کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ لیاقت علی خان کے قتل اور خواجہ ناظم الدین کی غیر قانونی برطرفی کے بعد سیاسی طاقتوں نے ملک کے وسائل کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا۔ “ انہوں نے دردمند پاکستانی کی حیثیت سے لکھا ہے کہ ”جاگیرداروں نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر کے اپنے مفادات کے حصول کے لئے ایسی منصوبہ بندی کی کہ ملک تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا۔ ان کی نظر میں جدیدیت کا مطلب خود کشی تھا، تعلیم قوم کے لیے زہرِ ہلاہل تھی اور آگہی کا پھیلانا اور عام ہونا بغاوت سے کم جرم نہیں تھا۔ “

”شکستہ تعبیر جسے میں پاکستان کے سیاسی، سماجی، اور ثقافتی پسِ منظر میں لکھی حقائق پر مبنی اہم دستاویز قرار دیتی ہوں، کو پڑھتے ہوئے ہمیں خوابوں کی شکستگی کا دکھ اور ملال تو ہوتا ہے مگر کتاب کا ٓخری باب غیر معمولی حد حد تک متحیر کن ہے جو“ ایک خیال۔ ”کے عنوان سے لکھا گیا۔ 2020 ؁ عیسوی کا تصوراتی خاکہ یعنی 200 سال بعد جب سائنسی ترقی کے سبب دنیا اہم دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انسان خلائی جہازوں میں بیٹھ کر کروڑوں میل کا سفر طے کر کے دوسرے سیاروں میں بس رہے ہیں۔

مائیکرو بٹس انسانوں کے کان، آ نکھوں اور دماغوں میں نصب کر دیے گئے ہیں۔ سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیا کی سیاسی تقسیم بھی بدل گئی ہے۔ اقوامِ عالم میں خوفناک ایٹمی ہتھیاروں اور فوجی اداروں کے خاتمے کے ساتھ بین الاقوامی معاہدے کے تحت مذہبی تنظیموں پر پابندی اور رواداری کا بول بالا ہے۔ البتہ انفرادی طور پر عقیدے کی آزادی ہے۔ استحصال اور تابعداری جیسے الفاظ کا خاتمہ اور نئے اقتصادی قوانین ہیں۔

تاہم موجودہ حالات کے تناظر میں مصنف نے برصغیر ہندوستان کو دنیا کا پسماندہ ترین علاقہ تصور کیا ہے۔ جس کا نام ”یونائٹڈ اسٹیٹس آف ساؤتھ ایشیا“ ہے۔ لیکن وہاں بھی چونکہ متوسط طبقہ کی اشرافیہ اور عوام نے بغاوت کے بعد مولویوں اور وڈیروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے اور تبدیلی آ گئی ہے۔ لہذا بائیس نکات پہ مبنی آئین کی منظوری ہوئی جن کے چند اہم نکات میں مرد اور عورتوں کے یکساں حقوق، رواداری اور سیکولر اصولوں پر مبنی غیر مذہبی حکومت، تعلیم و آگہی کا ہر علاقہ میں یکساں ہونا، عدلیہ اور علاقائی حکومتوں کی خود مختاری وغیرہ شامل ہیں۔

میں اس دلچسپ کتاب کو پڑھنے کا مشورہ دیتی ہوں خصوصا نوجوانوں کو جو پاکستان کا اہم اثاثہ ہیں۔ تاکہ انہیں پاکستان کے ماضی سے آگہی ہو اور وہ مستقبل کا لائحہ عمل تیار کر سکیں۔

مصنف نے اس کتاب کے انتساب میں لکھا ہے۔ ”ان پاکستانی نوجوانوں کے نام جو اس شکستہ تعبیر کو ایک کامیاب تعبیر میں بدل دیں۔ “

۔ ۔

Facebook Comments HS