وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ


اتفاق سے عورتوں کے دن پر ہونے والی کچھ ریلیوں کے بینر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جن میں سے کچھ کو پڑھ کر افسوس ہوا۔ کچھ کو پڑھ کر شرم محسوس ہوئی۔ کچھ کو پڑھ کر دُکھ ہوا اور کچھ تو اچھے خاصے مضحکہ خیز بھی لگے۔

میں خود بھی ایک عورت ہوں اور باقی عورتوں کو بھی ایک انسان سمجھتی ہوں اور اسی طرح مردوں کو بھی انسان ہی کی نظر سے دیکھتی ہوں اور انہیں بھی خاک کا پتلا ہی سمجھتی ہوں۔

اس لیے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ نہ سب عورتیں اچھی ہوتیں ہیں اور نہ سب مرد بُرے ہوتے ہیں۔ سب انسان ہوتے ہیں اچھائیوں اور برائیوں کا مجموعہ، خطا کار سب کمزور، سب اپنی زندگیوں میں غلطیاں بھی کرتے ہیں ان کو سُدھارتے بھی ہیں اُن سے سبق بھی سیکھتے ہیں۔ پھر عملی طور پر اگر ایک عورت کو اپنی ذاتی زندگی میں کوئی بہت نزدیکی رشتہ اچھا نہ ملے یا اُسے تکلیف پہنچائے تو وہ سارے مردوں کو اُسی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔

بعینہ یہی صورتحال مرد کی بھی ہوتی ہے اُسے بھی اگر کوئی عورت تکلیف پہنچائے تو اس کے خیالات بھی عورتوں کے بارے میں ویسے ہی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ایک بچگانہ اور نا پختہ سوچ ہے جو کسی وقتی تکلیف کی وجہ سے پیدا اور پھر ختم ہو جانی چاھیے۔ اسے زندگی بھر کسی ایک خاص طبقہ سے منسلک کر دینا بالکل درست طریق نہیں ہے۔

اللہ تعالی نے انسان کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ہے اور انہیں ایک دوسرے کی ضرورت بہر حال ہوا کرتی ہے۔

ہم جب کاروبار بھی کرتے ہیں تو بھی نفع اور نقصان کا تخمینہ لگاتے ہیں لیکن شادی جیسے معاہدے میں ہم صرف اپنا فائدہ چاھتے ہیں۔ اپنا ہلکا سا بھی نقصان ہمیں نہ صرف کہ ناگوار گزرتا ہے بلکہ ہم بعض اوقات جلد از جلد اُس رشتے کو ختم کرنے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔

آج کے جن بینز کو میں نے پڑھا جیسے ”اپنا کھانا خود گرم کرو“

اپنا موزہ خود تلاش کرو ”

ہماری مرضی ”

اور بھی کچھ ایسے جن کو لکھنا بھی شاید آداب کے خلاف ہو گا۔ میاں بیوی شادی کے کے گھر بساتے ہیں بعد میں بچے اس گھر کے بنیادی ستون بنتے ہیں۔ صبر و ایثار کی دولت سے مالامال گھر دنیا میں ہی جنت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ محبت اور سکون بھری فضا میں بچے بھی کھل کر سانس لیتے اور ایک پُر اعتماد زندگی کے لیے خود کو تیار کرتے ہیں۔ اس میں اگر ایک فریق خود کوئی قربانی دینے کو تیار نہ ہو اور دوسرے کو قربانی کا بکرا بنانے چاہے تو کیا یہ درست ہے؟

مرد اپنے گھر کا کفیل ہوتا ہے اپنے گھر والوں کو دنیا کے سرد گرم سے بچاتا ہے۔ عورت اپنے گھر کو بناتی سنوارتی ہے مرد کے نسل کو آگے بڑھاتی ہے اس کے گھر کی محافظ ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کا خیال کرنے ایک دوسرے کو خوشی اور سکون دینے سے ہی گھر کا یونٹ مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس رشتے میں خود غرضی آجائے اور اپنا ہر چھوٹا کام بھی احسان لگنا شروع ہو جائے تو سوچیے کہ کیا وہ گھر امن کا گہوارہ بنے گا یا جنگ کا میدان؟

اگر پاکستان کی بات کی جائے جو کہ ایک اسلامی ملک ہے اسلام کے نام پرآباد کیا گیا  ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس ملک میں ایسے ریلی نکالنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

کیونکہ عورتوں کا حق تو اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے سے ہی قائم کر دیا۔ کتاب رحمان میں سورہ النساء کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے۔ اسلام جس نے عورت کو اس کا ہر جائز حق دلوا دیا۔ اس کو بیٹی بنا کر رحمت بنایا تین بیٹیوں کی پرورش کرنے پر جنت میں گھر کی بشارت دے دی۔ اسی طرح یہی بشارت بہنوں کے ساتھ حسن سلوک پر بھی دی۔ ماں بنا کر اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔ سب سے زیادہ حسن سلوک کی مستحق ماں قرار پائی۔ بیوی کو نصف بہتر قرار دیا۔

نصف ایمان محفوظ کرنے والی تسکین پہنچانے والی بنایا۔ عورت کو پسند کی شادی کا حق دیا۔ یہاں تک کہ اگر شوہر پسند نہ ہو تو وہ اس سے خلع لے کر اپنی پسند سے دوسری شادی کر سکتی ہے۔ اس کو ترکے میں حق ملا۔ وہ اپنی مرضی سے کاروبار یا ملازمت کر سکتی ہے اور اس پیسے پر شوہر کا کوئی حق نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وہ اپنی مرضی سے خرچ کرنا چاہے۔ بیوہ اور مطلقہ خواتین کو دوسرے نکاح کی اجازت ہے۔ بچوں کی تربیت اور شوہر کا گھر احسن انذاز میں چلانے پر جہاد کا ثواب کی حق دار بنایا۔

حاملہ عورت کی عبادات کا دوگنا ثواب رکھا۔ کمزوری کے ایام میں عبادات تک کرنے سے رخصت دے دی۔ مرد کا وہ پیسہ جو وہ اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہے اسے سب سے افضل قرار دے دیا۔ اعلی ترین مرد وہ قرار پایا جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ حسن معاشرت کرتا ہو۔ حق مہر ادا کرنے کو لازم قرار دیا۔

غرض اس قدر لمبی فہرست ہے کہ کیا لکھوں اور کس پہلو کو چھوڑوں۔

ہر طرح کی جائز آزادی عورت کو حاصل ہے وہ پردے میں رہتے ہوئے ہر جائز اور نیک کام کر سکتی ہے۔ جنگوں میں زخمیوں کی مرہم پٹی سے لے کر انہیں پانی پلانا، اُنکی تیمارداری کرنا ان کے ساتھ کام کرنا۔ ہر کام حدود و قیود میں رہتے ہوئے ایک مسلمان عورت کر سکتی ہے۔ یہ نام نہاد عورتیں جو حق مانگ رہی ہیں یہ تو کسی طور انسانی حقوق ہیں ہی نہیں۔

اسلام نے ہر پہلو پر روشنی ڈال کر ہر انسان کو اس کے حقوق اور فرائض دونوں بتا دیے ہیں۔ عورت کو آبگینہ بنا کر گھر کی ملکہ بنایا ہے اور مرد کو اس کا نگران اور محافظ۔ عورت کو اس کی فرمانبرداری کی تلقین کی ہے۔ کیونکہ مرد قوام ہے۔ اس میں عورت کی بھلائی ہے۔ بازار کی زینت بننے سے وہ صرف ایک من پسند کھلونا بن جاتی ہے جس کو کھیلنے کے بعد یا تو پھینک دیا جاتا ہے یا توڑ دیا جاتا ہے۔

صرف ایک استدعا ہے ان آزادی مانگنے والی خواتین سے کہ جو آزادی آپ کو چاھئے تھی وہ سب آپ کو بہت سال پہلے ہی حاصل ہو گئی تھی اب جس آزادی کی آپ بات کر رہی ہیں اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ کبھی ان ممالک میں آکر دیکھیے جہاں عورت کو مادر پدر آزادی ہے اس کا کیا حال ہے۔ کس طرح وہ رشک کی نظر سے دیکھتی ہے ان پاکستانی عورتوں کو کو جو آرام سے گھر کے قلعے میں محفوظ ہو کر اپنے مرد کے سائے تلے بیٹھی ہیں۔

اور جن کا تجربہ مردوں کے ساتھ اچھا نہیں رہا جن مردوں کی تربیت میں کمی رہی جس کی وجہ سے ان خواتین کو اس طرح کی باتیں کرنی پڑ رہی ہیں تو آپ وہ عورتیں بنیں جو اپنے بیٹوں کو اس نہج پر پروان چڑھائیں کہ وہ کسی دوسرے کی بیٹی پر ظلم نہ کر سکیں تاکہ کسی عورت کو اپنے حقوق مانگنے کے لیے سڑکوں پر نہ نکلنا پڑے۔ بلکہ وہ ایک جنت نظیر گھر میں اپنے گھر کی ملکہ بن کر رہے کہ اسی میں ایک عورت کا حسن ہے۔

Facebook Comments HS