کیا نر کا بچہ مرد کی کوکھ سے جنم لیتا ہے؟
”نر کا بچہ یا مرد کا بچہ کہنے میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ یہ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے دلیر نسان۔ “ اسد عمر
ہمارے معاشرے میں مرد کے کسی کام کو سراہنے کے لیے اسے ”نر کا بچہ“ کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔ پر عورت کے کسی کام کو سراہنے کے لیے ہماری معاشرتی لغت میں ”نر کی بچی“ کا کوئی محاورہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ ”نر کی بچی“ کیا ”مادہ کی بچی“ کے الفاظ بھی نہیں ہیں۔ اگر ہوتے بھی تو وہ عورت کی کسی غلطی، بزدلی یا کمزوری کے لیے استمعال کیے جاتے۔ اول تو ہمارے معاشرے میں عورت کے کسی اچھے کام کو کم ہی سراہا جاتا ہے۔ سرہانا تو دور کی بات ہے یہاں تو عورت کی کسی اچھائی کو بھی برائی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
ایسی سوچ اور محاورے ہمارے جاہل اور زن بیزار معاشرے کی پیداوار ہیں جہاں پر عورت کو آج بھی کمزور، بزدل، نکمی، بیکار، بے وفا، بے حیا، آوارہ اور بدچلن، جبکہ مرد کو ایمان، بہادری، شجاعت، شعور، وفا اور اخلاقیات کا علمبردار سمجھا جاتا ہے۔
یہ بغضِ زن کے مارے ہوئے لوگ عورتوں کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اور تو اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بھی اس مرضِ زن بیزاری میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ آپ اسد عمر کو ہی دیکھ لیں۔ اسد عمر، حمزہ عباسی اور شان شاہد جیسے لوگ عورتوں کے متعلق فرسودہ سوچ کو اور مضبوط کرتے ہیں کیوں کہ ایسے ”محبِ وطن“ لوگ نادان نوجوانوں کے ہیرو ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کے لوگوں کے قول اور فعل میں بہت بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ اگر ان کے فعل دیکھے جائیں یا ان کی سوچ دیکھی جائے تو گھِن آئے۔ حقیقتاً زیادہ تر لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ ان کے گھر کی عورتوں کے سوا باقی ساری عورتیں ہوتی ہی بے حیا، آوارہ اور بد چلن ہیں۔ تبھی ایک لڑکی نے عورت مارچ میں ”میں آوارہ میں بدچلن“ کا پلے کارڈ اٹھایا ہوا تھا۔ جس سے وہ ”نر کے بچوں“ پر مشتمل معاشرے کو آئینہ دکھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
آج کی عورت شیکسپئیر کے ہیملیٹ والی عورت نہیں ہے بلکہ وہ بہت طاقتور، مضبوط، محنتی، سمجھدار، اور ذہین بن چکی ہے۔ آج اس میں اتنی ہمت اور قوت آچکی ہے کہ وہ معاشرے کی فرسودہ رسوم، تنگ نظری، قدیم سوچ اور غلامی کی زنجیروں کی گرفت میں نہیں آسکتی۔ جہاں جہاں عورتوں کو ان کے حقوق دیے جا رہے ہیں وہاں وہاں عورتیں اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔ اور دنیا میں عورتوں کا سیاسی، سماجی اور معاشی کردار اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ہمارے معاشرے نے ابھی تک عورتوں کو نہ پوری طرح جائز حقوق دیے ہیں اور نہ ہی ان کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا ہے، تو پھر یہ ”نر کے بچے“ عورتوں (مادہ کی بچیوں) کی کمزوری کا رونا کیوں روتے ہیں؟
مجھے اب تک یہ ”نر کے بچے“ والی منطق سمجھ میں نہیں آئی۔ کیا نر کا بچہ وہ ہوتا ہے جس نے مرد کی کوکھ سے جنم لیا ہوتا ہے؟


