بیچ کا آدمی
ایک ہفتے کے بعد ہی رفیق سے پھر ملاقات ہوگئی۔ میں ایک مریض کو جس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی پنڈی چھوڑ کر آرہا تھا۔ واپسی پر میں مانسہرہ سے نکل کر شاہنواز چوک کے آگے گرین ویلی ریسٹورانٹ میں ایدھی ایمبولینس کے ڈرائیور اور رضاکاروں کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا کہ ٹویوٹا کی بڑی فور وہیل ڈرائیو والی دو شاندار گاڑیاں آکر رکیں۔ اس میں سے رفیق کچھ اور لوگوں کے ساتھ نمودار ہوا۔ وہ لوگ اندر کمرے میں چلے گئے مگر رفیق مجھے دیکھ کر میرے پاس آ گیا تھا۔
”کراچی سے زیادہ یہاں ملاقاتیں ہورہی ہیں ہماری۔ “ اس نے مسکراکر کہا۔
”صحیح کہہ رہے ہو، وہاں ہم لوگ ایک دوسرے کا راستہ کاٹتے بھی نہیں ہیں۔ یہاں کیسے آنا ہوگیا۔ “ میں نے اس سے پوچھا تھا۔
”ارے یہ ورلڈ بینک کے لوگ ہیں، ان لوگوں نے بالا کوٹ کے لئے ایک موبائل ہسپتال جرمنی سے خریدا ہے، کروڑوں کا سودا ہے، میں اسی لئے ان کے ساتھ ہوں۔ “ اس نے جواب دیا۔
”ہاں اس دن چکلالہ پر بھی میں نے تمہیں دیکھا تھا ایک جنرل کے ساتھ، وہ کیا چکر تھا۔ “ میں نے سوال کیا۔
”کچھ نہیں جنرل صاحب سے تعلقات بنا رہا تھا، زلزلہ کے شروع کے دن تھے، مجھے پتہ تھا اب ان لوگوں نے خریداری کرنا ہے کروڑوں اور اربوں روپوں کی خریداری ہوگی۔ دنیا بھر سے ملنے والی امدادی رقوم بینک میں تو نہیں پڑی رہیں گی۔ سامان آئے گا اور جب سامان آئے گا تو ہمارے جیسے سپلائر کے ذریعے سے ہی آئے گا۔ کیا خیال ہے۔ “ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا پھر تھوڑی دیر رک کر بولا تھا۔
” یار یہ جنرل لوگ ہیں بڑے قسمت والے، زلزلہ بھی آیا تو ان کے زمانے میں آیا، بے چارے سیاستدانوں کے ساتھ اوپر والے نے بڑی نا انصافی کی ہے۔ نہ کوئی زلزلہ، نہ کوئی بن لادن، نہ کوئی طوفان، نہ کوئی سیلاب اور نہ ہی کوئی وبائی بیماری کا حملہ، پیسے خریداری کمیشن کا موقع تو ایسے وقت ہی ملتا ہے، عیاشی ہوگئی عیاشی ان لوگوں کی اور ساتھ میں میری بھی۔ ایسا کونٹیکٹ ہوگیا ہے میرا نیچے سے لے کر اوپر تک، ہر طرح کے سامان کے حصول کے لئے یہ لوگ مجھے ہی کونٹیکٹ کرتے ہیں پھر میں خریداری کرا دیتا ہوں، زلزلے سے کم از کم میرے تو تعلقات بن گئے ہیں، بہت اچھے ایسے لوگوں سے جو ملک چلا رہے ہیں۔ “
”اور کیا کیا خریداری کر رہے ہو۔ “ میں نے پوچھا۔
”نہیں خریداری میں نہیں کررہا۔ لوگوں کے پاس چیزیں ہیں وہ اپنی چیزیں لے آتے ہیں، کچھ بھی ہو ایم آر آئی سے لے کر موبائل ہسپتال اور ٹینٹ سے لے کر لیبارٹری کا سامان، میں ایسے حالات پیدا کردیتا ہوں کہ حکومت کے اہلکار ان چیزوں کی ضرورت کو جائز قرار دے دیتے ہیں پھر خریدنے کا فیصلہ بھی ہوجاتا ہے، مجھے کمیشن مل جاتا ہے۔ مجھے تھوڑا کمیشن آگے بھی بڑھانا ہوتا ہے۔ کام ذرا مشکل ہے مگر ہوجاتا ہے۔ میں نے تو ایسی ایسی چیزیں خریدوادی ہیں جن کی شاید کبھی بھی ضرورت نہ پڑے۔ میں ایسے کام کو چیلنج سمجھ کر کرتا ہوں۔ حکومت کے پاس پیسہ لوگوں کے پاس سامان اور میرے پاس تعلقات۔ تعلقات ہوں تو فائدے ہوں گے نا۔ “ اس نے ہنستے ہوئے فخریہ انداز میں کہا تھا۔
اس وقت مجھے اسکول ٹیچر کی بات یاد آگئی کہ رفیق تو اپنا بخار بھی مفت میں نہیں دیتا ہے، پنسل کٹر کیا دے گا۔

