نانا جان، مولانا یوسف لدھیانوی اور مولانا مسعود اظہر
اہل محلہ اور کمیٹی کے مشورے سے مسجد کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا اور مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے مولانا شہید سے درخواست کی۔ حضرت نے اثبات میں جواب دیا۔ وقت مقررہ پر حضرت کو لینے ان کی رہائش گاہ پہنچا تو گھر کے نیچے مفتی جمیل خان (سربراہ اسلامی صفحہ اقراء روزنامہ جنگ) اور مولانا سعید احمد جلالپوری (دونوں بزرگ شہید کیے جا چکے ہیں ) کو کھڑے پایا۔ ان سے حضرت کی موجودگی کی بابت معلوم کیا اور پروگرام بتایا تو دونوں بیک وقت بولے، پھر تو وہ آپ کی مسجد پہنچ چکے ہوں گے۔ بھاگم بھاگ مسجد پہنچے تو حضرت کو تلاوت قرآن میں مصروف پایا۔ نماز عصر کے بعد درخواست پر مختصر بیان فرمایا، جس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ قبضے کی زمین پر مسجد کی تعمیر نہیں کرنی چاہیے۔
مسجد کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد مسجد کس طرح تعمیر ہوتی گئی، یہ مجھ سمیت اکثر اہل محلہ کے لیے حیران کن تھا۔ سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد ماہ فروری بروز منگل 2000 (تاریخ ذہن میں نہیں ) بعد نماز عصر حضرت کے سامنے مولانا اظہر مسعود کو پایا۔ حضرت نے مولانا مسعود اظہر کے ہاتھ پر بیعت کی اور فرمایا کہ میرے جہاد کے امیر یہ ہیں۔ مزید فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ آج سے تمام جہادی تنظیمیں ایک امیر کے جھنڈے تلے جمع اور ایک ہو جائیں۔ بہرحال یہ ہو نہ سکا۔ یوں جیش محمد کی تشکیل عین نظروں کے سامنے ہوئی۔ ماہ مارچ میں حضرت، مولانا مسعود اظہر کی دعوت پر افغانستان تشریف لے گئے۔
حضرت کی غیبت میں مسجد کمیٹی کے ایک رکن کو جیش محمد کے صوبائی امیر سندھ نشر و اشاعت مولانا عبداللہ مظہر کے ہمراہ مسجد میں گھومتے پھرتے پایا تو ماتھا ٹھنکا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ دال میں کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ کالا نکلا۔ کیوں کہ مسجد جو کہ پہلے ہی جامعہ مسجد و مدرسہ بنوری ٹاون سے ملحق تھی اور ہے، کو جیش محمد کہ زیر انتظام کرنے کی کوششیں شروع ہو چکی تھیں۔ جس دن حضرت افغانستان سے واپس تشریف لائے تو مسجد میں اعلان ہوا کہ درس حدیث کے بعد سوال و جواب کی نشست نہیں ہوگی۔ جب حضرت ادائیگی نماز عشاء کے لیے تشریف لا رہے تھے تو اعلان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، حضرت سے علیحدگی میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔
نماز عشاء اور درس حدیث کے بعد حضرت مسجد کے صحن میں دیوار سے ٹیک لگا کر حالت مراقبہ میں بیٹھ گئے۔ میں عین ان کے سامنے دو زانو بیٹھا ہوا تھا اور ارد گرد ان کے بے شمار عقیدت مند و مرید۔ تھوڑی دیر بعد حضرت نے سر اٹھایا اور اجازت مرحمت فرمائی کہ بات شروع کی جائے۔ عرض کیا کہ جو بھی عرض کرنا ہے، وہ بات تخلیے کی متقاضی ہے۔ حضرت نے فرمایا، ”چلو بھائی“ تو تمام حضرات اٹھ کر ادھر ادھر ہو گئے۔ عرض کیا کہ مسجد بطحی ایک محلے کی مسجد ہے اور کمیٹی کے کچھ ارکان مسجد جیش محمد کو سپرد کرنے کے متمنی ہیں، جو اہل محلہ کے مجموعی مزاج کو دیکھتے ہوئے، مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ حضرت نے گزارش سن کر فرمایا کہ ارکان کمیٹی مسجد کو لے کر میرے پاس آؤ۔
اوقات ملازمت کبھی دن میں ہوتے ہیں تو کبھی رات میں، اس وجہ سے بروز منگل حضرت کی خدمت میں غیر حاضر رہا اور بروز بدھ بعد نماز عصر حضرت سے ملاقات ہوئی تو دیکھتے ہی سوالیہ نظروں سے ’ہوں‘ کہا، جس کا مطلب یہ تھا کہ کیا بات بنی۔ اراکین کمیٹی کو پہلے ہی بتا چکا تھا کہ حضرت نے ملاقات کے لیے بلایا ہے، اس لیے عرض کیا کہ بروز جمعرات 18 مئی 2000 بعد نماز عصر و اصلاحی بیان ملاقات کے لیے سب حاضر ہوں گے۔ لیکن وہ وقت نہ آ سکا، چونکہ بروز جمعرات 18 مئی 2000 صبح دفتر جاتے وقت حضرت کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی شہادت کے بعد اس مسئلے پر مفتی جمیل خان سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ جیش محمد کو انتظام دے دیں اور میں مفتی نظام الدین شامزئی (شہید) کو بھی لے کر جلد مسجد آؤں گا۔ مولانا سعید احمد جلالپوری جن سے حضرت کی شہادت کے بعد روحانی تعلق قائم کیا تھا، مشورہ کیا تو انہوں نے پیچھے ہٹ جانے کا کہا۔ ان کے مشورے پر عمل کیا اور آہستہ آہستہ مسجد کے معاملات سے دور ہوتا گیا۔ مولانا مسعود اظہر اب ٹرسٹ کے چیف پیٹرن بن چکے تھے، عبد اللہ مظہر چیئرمین اور مولانا عبد الصمد سومرو ( یہ بھی شہادت کے درجے پر فائز ہو چکے ہیں ) جنرل سیکریٹری۔ باقی افراد اپنی اپنی ذمے داریوں پر برقرار تھے۔
بحیثیت صدر مسجد کا انتظام میں کیوں جیش محمد کے دینے کا مخالف تھا؟ اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ سب سے بڑی وجہ تو یہ تھی کہ اہل محلہ کے مزاج سے واقف تھا اور جیش محمد کی وجہ سے علاقے کا ماحول کشیدہ ہونے کا خطرہ محسوس کر رہا تھا اور ہوا بھی ایسا ہی۔ جون 2003 میں رہائش گاہ کے باہر مسجد کے قاری محمد سلیم کو بیٹھے پایا۔ مجھے دیکھتے ہی کہا کہ آپ کو پتا ہے کہ مسجد بعد نماز فجر سے مولانا مسعود اظہر کے حامیوں کے قبضے میں ہے۔ مولانا مسعود اظہر نے مولانا عبداللہ مظہر کو ان کے عہدے سے معزول اور مسجد کے نظم و نسق سے علیحدہ ہونے کا حکم دیا، جو انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً، مسجد پر مولانا مسعود اظہر کے حامیوں نے قبضہ کر لیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


