نانا جان، مولانا یوسف لدھیانوی اور مولانا مسعود اظہر
اس دن مسجد میں ظہر کی نماز بھی ادا نہیں ہوئی۔ مسجد کے باہر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی تعداد تعنیات تھی، اندر کیا ہو رہا تھا؟ کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔ مسجد کے باہر مولانا عبد الصمد سومرو کو کھڑے دیکھا تو بے ساختہ جملہ ادا کیا کہ کیا خوب جہاد ہو رہا ہے۔ جس کا اندیشہ تھا، وہی ہوا۔ یعنی بدمزگی بھی ہوئی اور مسجد کی انتظامیہ بھی تبدیل کر دی گئی۔ مدرسہ گو کہ اب بھی جیش محمد کے زیر انتظام ہے۔
مولانا مسعود اظہر سے پہلی بالمشافہ ملاقات جولائی 2000 میں ہوئی۔ اگلے روز مدرسے کا سنگ بنیاد رکھنے مولانا تشریف لائے۔ اس کے بعد دو چار اور ملاقاتیں ہوئیں لیکن مولانا کی شخصیت مجھ جیسے کج و کم فہم کی سمجھ بوجھ سے بالاتر تھی۔ اس لیے راہ و رسم بڑھانے کی بجائے، کنارہ کشی اختیار کرنا مناسب سمجھا۔ مولانا مسعود اظہر کون ہیں؟ قوم کے لیے ان کی کیا جہادی خدمات ہیں؟ قارئین کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے۔
مولانا مسعود اظہر کراچی کے ایک بڑے مدرسے سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جہاں مسجد کے امام مقرر ہوئے، وہیں ”صدائے مجاہد“ کے نام سے رسالہ بھی نکالا۔ حرکت المجاہدین سے بھی تعلق رہا اور افغانستان سے نا مکمل جہادی تربیت بھی حاصل کی۔ پاکستانی پاسپورٹ پر بیرون ملک تشریف لے گئے اور غیر ملکی جعلی پاسپورٹ پر بھارت میں گرفتار ہو گئے۔ مولانا کی رہائی کے لیے چند غیر ملکی سیاح کشمیر میں اغوا کے گئے اور بھارتی حکومت کی جانب سے انکار پر وہ سیاح مار دیے گئے۔ اس کے چار سال بعد 24 دسمبر 1999 کو نیپال سے مولانا کے ساتھیوں نے ایک بھارتی ہوائی جہاز اغواء کیا اور مولانا کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ہائی جیکنگ کامیاب رہی اور مولانا رہا ہو کر فاتحانہ انداز میں 31 دسمبر 1999 کو افغانستان سے پاکستان آ دھمکے۔
دوران قید مولانا مسعود اظہر نے مولانا سید حسین احمد مدنی کی سنت زندہ کرتے ہوئے، رمضان المبارک میں روزانہ ایک سپارہ حفظ کیا۔ جب یہ خبر مولانا رشید احمد لدھیانوی تک پہنچی تو انہوں نے مولانا کو خلافت سے نواز دیا۔ مولانا کے ساتھ بد قسمتی یہ رہی کہ جب وہ رہا ہو کر پاکستان آئے تو ان کی رہائی سے دو چار ماہ قبل ہی مولانا رشید احمد لدھیانوی نے اعلان کیا کہ آج کے بعد سے ان کا کسی جہادی تنظیم، اس کے امیر یا رہنما سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چونکہ یہ لوگ مال غنیمت اور مال و اموال کی خیانت میں ملوث ہیں۔
اب مولانا کیا کرتے؟ ناچار مولانا محمد یوسف لدھیانوی جیسے عالم دین سے رجوع کیا جو مروجہ جہادی سرگرمیوں کے ہمیشہ کڑے مخالف رہے۔ یہ سب کن حضرات کی کوششوں سے ممکن ہوا، وہ واقفان حال جانتے ہی ہوں گے۔ بہرحال ہر انسان کے بشری تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ جب وہ چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے خوش بھی ہوتا ہے اور روتا بھی ہے۔ بعض اوقات اپنے سابقہ موقف سے انحراف کرتے ہوئے یا قریبی اعزا و اقارب کے دباؤ پر جذباتی فیصلے بھی کر لیتا ہے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا مولانا مسعود اظہر کے سر پر یاتھ رکھنے کا فیصلہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔
مولانا مسعود اظہر کی سیاسی و مذہبی اور جہادی سرگرمیاں 2001 تک تو علانیہ رہیں۔ 9 / 11 کے امریکی فضائی حادثوں اور پھر بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد مولانا مسعود اظہر کی سرگرمیاں علانیہ تو نہ رہیں لیکن معمولات میں کوئی تعطل واقع نہ ہوا۔ اور شاید ابھی بھی یہی حالات ہوں۔ چونکہ حکومتی تاثر یہی ہے کہ مولانا نظر بند ہیں۔ بھارت مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید کو جہاز کے اغوا، بھارتی پارلیمنٹ پر حملے اور بمبئی حملوں کے بعد سے عالمی دہشت گرد تسلیم کرانے میں کوشاں ہے۔
لیکن ہمارا عظیم ہمسایہ چین جس سے ہماری دوستی ہمالیہ سے بھی بلند ہے، بھارتی قرار داد ویٹو کر دیتا ہے۔ پلوامہ حادثے کے بعد بھی چین نے بھارت کی طرف سے مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد تسلیم کروانے کے لیے پیش کی گئی قرار داد کو ویٹو کر دیا ہے۔ چین مولانا مسعود اظہر کے خلاف قرار داد کیوں ویٹو کر رہا ہے؟ عوام کو اس بارے میں کچھ پتا نہیں، جیسے وزیراعظم پاکستان کو پتا نہیں کہ چین ایغور مسلمانوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔


