سندھ کی تعلیم، تاریخ، تباہی اور انگریز کے اسکول


مذہبی اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد کے فکری، نظریاتی اور جذباتی لیکچرز سے اختلاف ہی سہی لیکن ان کی اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انگریز سرکار نے شعوری طور پر سندھ کو تعلیمی میدان میں دیوار سے اس طرح لگایا کہ انہوں نے قبضہ کرنے کے بعد پورے خطے میں تعلیمی ادارے کھولے صرف سندھ اکیلا صوبہ تھا جہاں تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔

اپنے ایک لیکچر میں ڈاکٹر اسرار احمد نے پنجاب میں انگریز دور کے تعلیمی اداروں کی لسٹ پیش کرتے ہوئے کہتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے انگریز نے سندھ میں کیوں تعلیمی ادارے نہیں قائم کیے؟ وہ کہتے ہیں کہ بہاولپور سے شروع ہوجائیں، اے سی کالج بہاولپور، ایمرسن کالج ملتان، ایچیسن کالج، مرے کالج سیالکوٹ، تھارمن کالیج، وارڈن کالج راولپنڈی پھر ایڈورڈ کالج پشاور، لیکن سندھ میں انگریز نے کوئی کالج نہیں بنایا، آگے چل کا اس کا سبب بھی کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ انگریز کو معلوم تھا کہ سندھ کے لوگ ان کے وفادار نہیں ہیں، یہ پڑھیں گے تو ہم پر ہی حملہ کریں گے۔

لیکن انگریز کو شاید یہ علم تھا کہ سندھ صدیوں سے علم کا مرکز رہا ہے، انگریز دور تو کل کی بات ہے انگریز کیا میرز ٹالپر حکمرانی سے بھی پہلے کلہوڑا دور میں حیدرآباد، ٹھٹہ، شکارپور، مٹیاری، ہالا، بکھر سمیت سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں میں درس و تدریس کے مراکز قائم تھے، تاریخ تو سما دور میں بھی سندھ کے مدارس اور تعلیم گاہوں کا پتہ دیتی ہے۔

سندھ میں تعلیمی مراکز قائم ہونا اور سندھ میں تعلیم کی تباہی دو الگ الگ باتیں ہیں، جو تعلیم کی تباہی ہے وہ اس انگریزسرکار اور اس کے وفادار، پٹھو اور چاہنے والوں کا شاخسانہ ہے، جنہوں نے شعوری طور کوشش کی کہ یہ خطہ خاص طور پر سندھ کا علاقہ تعلیمی میدان میں پیچھے ہی رہے۔ جب ملک آزاد ہوا تو سندھ کا ایک بڑا پڑھا لکھا طبقہ اور سندھ میں کئی تعلیمی ادارے قائم کرنے والے مخیر حضرات کو ملک بنانے والے بڑوں نے بھاگنے پر مجبور کردیا۔

اس وقت کے لیاقت علی خان کی نظر سندھ کے کارخانوں، مال ملکیت، بنگلوں، محلوں اور سندھ چھوڑنے و الے ہندوؤں کی زمینوں اور دکانوں پر تھی، وہ اندھا بانٹے ریوڑیوں کی مانند اس دھندہے میں ایسے لگ گئے کہ اس سے پہلے کوئی ایسی مثال نہیں ملتی، یوں سندھ میں باقی سب چیزوں پر توجہ دی گئی لیکن تعلیم کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا۔ پھر ملک مارشل لا کی بھینٹ ایسا چڑھا کہ سندھ بس جئے جئے کرنے والے چھوٹے بڑے سیاسی ورکرز اور سیاستدان تو پیدا کرنے لگا لیکن حکمرانوں کی طرف سے تعلیم کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ پھر بھٹو کے زمانے میں دھرتی کو اپنانا بنانے سے گریزاں اور اپنی الگ شناخت بنانے کے چکر میں آنے والے ٹولے نے سندھ کی زبان سے نفرت کے ایسے بیج بوئے کہ سب نے کراچی میں لسانی فسادات پھوٹتے دیکھے۔

بھٹو کے دور میں کھڑتالی گروپ سے مشہور شاگرد تنظمیم کے کارکنان نے تو تعلیمی اداروں کو اپنی ہی جاگیر سمجھا جس کے رد عمل میں علیحدگی پسند تحریک کے کارکنان بھی میدان میں کود پڑے۔ پھر جنرل ضیا الحق نے تو سندھ کی تعلیم پر خاص کرم فرمائی اور مہربانی کی۔ ہم سب نے دیکھا جنرل ضیا الحق کے دور میں سندھ کے ایک ایک کالج ایک ایک یونیورسٹی میں غنڈا راج تھا، سندھ میں تعلیمی تباہی کے پیچھے طلبہ کے بھیس میں ان ڈاکووں کا بھی ہاتھ ہے جو خوبصورت نعرے دے کر تعلیم دشمن سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، قلم کتاب کی جگہ پر کلاشنکوف اور اسلحہ بردار لوگ یہاں تک کہ بدنام زمانہ ڈاکو بھی یونیورسٹی کی ہاسٹلز میں رہنے لگے۔

ضیا الحق کی ایجینسیاں دور دور تک گوٹھوں دیہاتوں میں بسنے والے سندھی قومپرست کارکنان تک تو رسائی رکھتی تھیں لیکن ان کی آنکھ یونیورسٹیوں میں رہتے دھاڑیوالوں، ڈاکووں اور غنڈہ گرد نما طلبہ کو نہیں دیکھ سکتی تھی، یہ سب شعوری طور پر کیا جا رہا تھا اور سندھ کی کسی یونیورسٹی اور کالج کو اس آگ سے نہیں بچایا جا سکا، یہ جناب ضیا الحق کی مہربانی تھی کہ ان کی محنت سے ایک پوری نسل تباہ برباد کردیا گیا، پھر جب سیاسی وزیراعظم آئے تو انہوں نے بھی سندھ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی کوشش نہیں کی البتہ سیاسی حکمرانوں نے پانچویں اور ساتویں پاس نسل کو پرائمری استاد کی ملازمت کا آرڈر ہاتھ میں تھما دیا۔

یہ سب دیکھتے دیکھتے جنرل مشرف کا مارشل لا آ گیا، جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت میں ایک ٹولے کا ایجنڈا کراچی پر اپنی گرفت مضبوط کرنا تھا، دوسرے وہ روایتی حکمران تھے جو عوام کو اپنا غلام سمجھتے چلے آئے ہیں، کیا تعلیم کیا صحت کیا غریب عوام۔ سندھ میں ہمیشہ اشرافیہ کی حکومت رہی ہے سرکاری اسکولی نظام، صحت یا تعلیم ان کا کبھی مسئلہ نہیں رہا، ان کے بچے اچھے بڑے اسکولز میں پڑھتے ہیں، پھر بیرون ملک سے ڈگری لے کر اپنے ابا و اجداد کی طرح سیاست کرنے لگتے ہیں اور اپنے ہی بڑوں کی وراثت میں ملی ذہنیت کے مطابق ووٹرز کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔

سندھ میں موجودہ سرکار نے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی ہوئی ہے، لیکن اسکول، کالجز کی صورتحال تاحال نہیں تبدیل ہوئی، کاپی کلچر کا خاتمہ اب بھی ایک خواب ہے، بند اسکولز، گھوسٹ ٹیچرز اب بھی ایک گمبھیر مسئلہ ہیں، اب بھی اسکولوں سے وڈیرے، بھوتار، رئیس اور سردار کی بیٹھک ختم ہو نہیں سکی اب بھی کئی اسکولز میں گاؤں کے چنگے مڑس ( بھلے مانس) کی گائیں بھی بندھی ہوئی ہیں۔

میں خیرپور ضلع کے چھوٹے سے شہر کھڑا اور بوزدار وڈا کے دو اسکولز کی شاندار عمارتیں دیکھ کر حیران رہ گیا، یہ اسکول یونائیٹڈ اسٹیٹ ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈولپمنٹ یو ایس ایڈ اور سندھ حکومت کے اشتراک سے بنائی گئی ہیں، سندھ کے سات اضلاع میں ایسے اسکول بنانے کے لیے یو ایس ایڈ نے سندھ حکومت کی تب مدد کی جب سندھ میں دو ہزار دس کا سیلاب آیا تھا، ایجنسی نے دو سو اسکولز کی نشاندہی کرکے ایک سو اٹھارہ اسکول نئے سرے سے تعمیر کرنے کے لئے سندھ بیسک ایجوکیشن پروگرام ترتیب دیا گیا جس میں یو ایس ایڈ نے ایک سو انسٹھ ملین ڈالر کی خطیر رقم لگائی جب کے دس ملین ڈالر سندھ حکومت نے دیے، اس پروگرام کے تحت اسکول کی تعمیر آمریکی ادارے نے کرنی ہے، جب کے باقی انتظامات سندھ حکومت نے سنبھالنے ہیں، حال ہی میں یو ایس ایڈ نے سنتالیس اسکولز کا انتظام حکومت سندھ کے حوالے کردیا ہے۔

باقی اکتہر اسکولز تعمیرات کے آخری مراحل میں ہیں، ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رواں برس کے آخر میں ان کا انتظام بھی حکومت سندھ کے حوالے کردیا جائے گا۔ سندھ میں پہلے مرحلے میں دادو، لاڑکانہ، خیرپور، سکھر، قمبر شھدادکوٹ، جیکب آباد اور کمشور کندھکوٹ اضلاع کا انتخاب کیا گیا پھر کراچی کے چار ٹاؤنز گڈاپ لیاری، بس قاسم اور اورنگی کو اس میں شامل کیا گیا، یوایس ایڈ کا کہنا ہے کہ گھوٹکی اور شکارپور میں مزید چھ اسکولز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔

اس وقت ان اسکولز کو صرف سرکار کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا گیا لیکن مقامی لوگوں پر مشتمل غیرسرکاری تنظیم اسکول مینجمینٹ آرگنائیزیشن سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔ حسن سہتو ان اسکولز کے لیے اسکول مینجمنٹ آرگنائیزر کے طور پر کام کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے ہم اسکولز کے تعلیمی انتظامات، بچوں کے انرولمینٹ، اساتذہ کی حاضری سمیت تعلیم کی بہتری کے حوالے سے فنی معاونت فراہم کرتے ہیں، اس سلسلے میں ہم نے اپنی ساتھ خواتین بھی رکھیں ہیں جو مقامی آبادی کے گھروں میں جاکر خواتین کو اس بات پر قائل کرتی ہیں کہ اپنی بچیوں کو اسکول بھیجیں، تعلیم کے معاملے میں کونسلنگ کے فقدان کی وجہ سے والدین بچوں کو اسکول نہیں بھیجتے اور اسکول ڈراپ آؤٹ کا ریشو بھی اسی وجہ سے بڑھتا ہے۔

یو ایس ایڈ اپنی طرف سے اسکولز قائم کرکے حکومت سندھ کے حوالے تو کر رہا ہے، گویا بنے بنائے اسکول بھی سندھ حکومت کو مل چکے لیکن کیا حکومت وقت ان کو چلا پایے گی، میرے خیال میں اعلیٰ شان عمارتوں میں قائم ان اسکولز کی مانیٹرنگ، ان کو چلانے، سنبھالنے کی ضرورت پوری کرکے سندھ میں پڑھی لکھی نسل پیدا کرنے کی باقی مانندہ ذمے داری حکومت وقت کی ہے۔

Facebook Comments HS

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 57 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar