خدا کی شاعری ہوتی ہے عورت


خواتین کے عالمی دن پر اس سال کراچی میں عورت مارچ کے نام سے ایک ریلی نکالی گئی جس میں خواتین نے کچھ نعروں پہ مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ ان پلے کارڈز پر جو نعرے درج تھے وہ تاحال موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں اور مذہبی طبقوں کی جانب سے اس معاملے پر لبرلز اور فیمینزم کے حامیوں کی خاصی لے دے ہوئی ہے۔ ان پر ہماری نظریاتی شناخت کی پامالی کا الزام لگایا جا رہا ہے اور عورت مارچ کو ایک ڈھونگ اور واہیات جلسے کا نام دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس مارچ میں جو خواتین شامل تھیں ان کی اکثریت ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤن کے محل نما گھروں میں رہتی ہے اور زندگی کی ہر وہ آسائش انہیں میسر ہے جس کا کوئی عام عورت تصور بھی نہیں کر سکتی۔ پلے کارڈز پہ جو نعرے درج تھے ان میں ”مجھے ٹائر بدلنا آتا ہے“، ”عورت بچے پیدا کرنے والی مشین نہیں ہے“، ”دوپٹہ اتنا ہی پسند ہے تو خود لے لو“ جیسے نعرے بھی درج تھے۔ یہ مارچ اسی تحریک کا تسلسل ہے جو ”میرا جسم میری مرضی“ سے شروع ہوئی تھی۔

اس مارچ پر ہمارا معاشرہ دو مخالف دھڑوں میں بٹ گیا ہے۔ ایک دھڑا جس میں بائیں بازو کی نمایاں جماعتیں اور فیمینسٹس شامل ہیں، اس مارچ کو آزادی نسواں کی جدوجہد میں ایک سنگ میل کا درجہ دینے پر تلا ہے جبکہ دوسرا طبقہ جو دائیں بازو کی جماعتوں اور اکثریتی عوام پر مشتمل ہے، اسے ہماری نظریاتی سرحدوں پر حملے سے تعبیر کر رہا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ دونوں طبقے ہی درست نہیں ہیں۔ جن دونوں انتہاؤں پہ یہ دونوں گروہ کھڑے ہیں، اصل راستہ ان کے بیچ کہیں ہے۔ میری نظر میں یہ دونوں گروہ انتہا پسند واقع ہوئے ہیں۔

اگر عورت مارچ میں شامل ہونے والوں یا اس کی حمایت کرنے والوں کی بات کی جائے تو وہ فیمنزم کی حدود سے بھی آگے نکل چکے ہیں اور غیر فطری اور واہیات قسم کے نعرے لگاتے نظر آرہے ہیں جن کا فی زمانہ عورتوں کے حقیقی مسائل سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خدا نے جن کاموں کے لیے عورت کو تخلیق کیا ہے وہ بہرحال عورت کو ہی کرنے ہیں اور یہ نہ صرف ان کی فطری مجبوری بلکہ فرض ہے۔

مثلا بچے پیدا کرنا بہرحال عورت کا ہی کام ہے اور اسے ہی کرنا ہے۔ یہ کام بہرحال کوئی مرد نہیں کرسکتا اور اس بنیاد پر مردوں کو تنقید کا نشانہ بنانا کم عقلی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عورت بلاشبہ ایک بلند مقام کی حامل ہے اور زندگی کی رعنائیاں اسی کے دم سے ہیں۔ اس کے ہونے سے ہی کائنات کا نظام چل رہا ہے اور کوئی ذی روح عورت کے وجود کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہوسکتا چاہے وہ عورت ماں کے روپ میں ہو یا بیوی بہن بیٹی۔

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

دوسری طرف ہمارا مذہبی شدت پسند طبقہ ہے جو ہمیشہ سے عورتوں کے حقوق کی پامالی میں پیش پیش رہا ہے، اس مارچ پر تنقید کی آڑ میں خواتین کے متعلق ہرزہ سرائی میں مصروف ہے۔ ان کے نزدیک عورت محض ایک لونڈی سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور مرد کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انتہائی بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ خواتین کے ساتھ جس قدر ناروا سلوک ہمارے مذہبی رہنماؤں کے گھروں میں ہوتا ہے اس کا تصور ہی محال ہے۔ اسلام کے نام پر عورت کے تقدس کو پامال کرنا ان لوگوں کا وتیرہ بن چکا ہے حالانکہ اسلام وہ دین ہے جس نے سب سے پہلے عورت کو اس کے شایان شان حقوق دیے۔ مذہب کے نام پر عورت کا یہ استحصال ہمارے معاشرے کا سب سے دردناک پہلو ہے۔ علی زریون کے بقول

ازل سے لے کے اب تک عورتوں کو

سوائے جسم کیا سمجھا گیا ہے

خدا کی شاعری ہوتی ہے عورت

جسے پیروں تلے روندا گیا ہے

یہاں جس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ تمام تر بنیادی حقوق اور مساوی مواقع کی فراہمی ہر عورت کا حق ہے اور یہ حقوق دینا ہمارا فرض ہے۔ آج کی عورت ہر لحاظ سے مرد کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہی ہے اور یہ بات بالکل درست ہے کہ ہر جگہ پہ عورت کا استحصال ہو رہا ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب کا فرض ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ سنجیدگی سے کام لیتے ہوئے عورتوں کے اصل مسائل کی نشاندہی کی جائے اور ان پر اپنی آواز بلند کی جائے نہ کہ چند واہیات اور دقیانوسی نعروں کے ساتھ اپنی جگ ہنسائی کروائی جائے۔

میرے خیال میں کراچی میں ہونے والے عورت مارچ سے بذات خود حقوق نسواں کی تحریک کو نقصان پہنچا ہے۔ اس مارچ کے جواب میں بھی ایک مارچ کیا گیا جس میں کچھ خواتین نے عورتوں کے اصل مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر میں ان عورتوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں۔ لبرل طبقے اور فیمینسٹوں کو بھی اس سے سبق سیکھنا چاہیے اور بے ہودہ مظاہروں اور دقیانوسی مطالبات کی بجائے ارباب اقتدار کی توجہ عورتوں کے حقیقی مسائل کی طرف دلوانی چاہیے تاکہ خواتین کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی میں موجود تمام رکاوٹیں ختم ہو سکیں۔

Facebook Comments HS