ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیوزی لینڈ کی مسجد میں ہونے والے واقعہ پہ نجانے کیوں مجھے شاعر مشرق علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال یاد آرہے ہیں۔ آواز گنگ ہے اور الفاظ دل میں اٹھنے والے دکھ کو معانی کا جامہ پہنانے سے قاصر ہیں۔ زبان سے جو نکل رہا ہے وہ یہی ہے۔ کہ

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

جب امت اور قوم ذلت و زوال کی اتنی پستی میں گر جائے تو انسان کے خون کی اوقات گاجر مولی سے بھی سستی ہوجاتی ہے۔ تب ان کا خارش ذدہ کتا بھی مرے گا تو پوری دنیا نوحہ کناں ہوگی۔ نتیجے میں آپ کی نسلیں تباہ ہو جائیں گی۔ اور آپ کے سال کے بچے سے لے کر 80 سال کے بابے تک بے دردی سے ذبح ہوں گے۔ تو ان کے کان پہ جوں تک نہیں رینگے گے۔ ان کی طرف سے اگر آپ کے لیے اظہار بھی ہوا تو وہ بھی دکھاوا اور بس یا پھر ایک طنزیہ رحم جو کسی بے بس کی بے بسی کا مذاق اڑانے کے لیے کیا جاتا ہے اور بس۔ اور ہونا بھی یہی چاہیے کیونکہ۔

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔

عینی شاہدین نے واقعہ کی کوریج کرنے والے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ”حملہ آور نے فوجی وردی سے ملتا جلتا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں خودکار بندوق تھی جس سے وہ مسجد النور میں اندھا دھند نمازیوں پر فائرنگ کرتا رہا۔

اب ایک سادہ سا سوال

مسلمانوں کی عبادت گاہ میں گھس کر مسلمانوں کو شہید کرنے پر کیا اس شخص کی قوم کو دہشت گرد قرار دیا جائے گا
کیا اب ایسے دہشت گردوں کو پالنے پر نیوزی لینڈ کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے پہ بحث ہو گی۔
کیا وجہ ہے کہ مسلمان پہ ہوا ظلم نظر نہیں آتا؟

دنیا میں سب سے زیادہ ظلم کا شکار مسلمان ہیں لیکن ہمیں پہ ہی دہشتگردی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے جبکہ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث افراد کو سائیکی یا مینٹل ڈس ارڈر قرار دے کر صاف بچا لیا جاتا ہے۔

آج مسلمان کہیں بھی محفوظ نہیں، پھر چاہے بات کی جائے اسلامی ممالک کی یا غیر مسلم ممالک کی۔ برما سے امریکہ، شام سے افغانستان، ہندوستان سے فرانس ہر جگہ مسلمان زیرِ عتاب ہے۔ آج دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان قتل ہورہے ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ہی دہشت گرد ہیں۔ اگر کشمیر، فلسطین اور بوسنیا کے مسلمان آزادی کا مطالبہ کریں تو انتہا پسند اور بنیاد پرست اور اگر مشرقی تیمور اور شمالی سوڈان کے لوگ آزادی کا مطالبہ کریں تو اُن کا بنیادی حق۔

اگر امریکہ اور اُس کے حلیف عراق، لیبیا اور افغانستان میں غیر مصدقہ اطلاعات پر ہزاروں مسلمان قتل کردیں تو صرف ”معافی“ مانگ کر سر خُرو ہوجاتے ہیں اور اگر کسی مسلمان کے ہاتھوں ایک بھی غیر مسلم قتل ہوجائے تو سارے مسلمانوں کو ”دہشتگرد“ قرار دینے میں لمحہ نہیں لگتا۔ آج طالبان بھی دہشت گرد ہیں اور اُن سے لڑنے والے بھی، آج داعش بھی دہشت گرد ہے اور اُن سے لڑنے والا بشارالا اسد بھی، آج ایک ہندو لڑکی سے شادی کرنے والا اور گھر میں دیوی دیوتاؤں کی مُورتیاں رکھنے والا ”روشن خیال مسلمان“ بھی دہشت گرد ہے اور داڑھی رکھنے اور نماز پڑھنے والا بھی دہشت گرد۔

الغرض آج مسلمان کا نام ہی دہشت گرد قرار دیا جاچکا ہے اور اس سب کا ذمہ دار کوئی اور نہیں مسلمان خود ہیں۔ آج مسلمان تقسیم در تقسیم کا شکار ہوکر اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ دشمن کے لئے تر نوالہ ثابت ہورہے ہیں۔ آج ہم اپنے ملک، قوم، نسل اور قبیلے پر فخر کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے مسائل آپس میں حل کرنے کے قابل ہوتے تو دنیا آج ہمیں اس طرح ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ کرتی۔ ہم نے اپنے مسائل حل کرنے کے لئے جو اسلامی ممالک کی تنظیم بنائی تھی وہ ہماری ذاتی سیاست کی نظر ہوگئی اور اُس کا حال سب کے سامنے ہے۔

آج بھی ہم اگر متحد ہوکر اپنے مفادات اور اپنے نظریات کا دفاع کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلیں، لیکن اُس کے لئے ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا، اپنے نظریات کو اپنے تک محدود کرنا ہوگا، سب کے فائدے کے لئے ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا۔ اگر یہ کرسکیں تو ہم کامیاب و کامران ہوں گے اور اگر نہ کیا تو پھر ہماری آنے والی نسلیں بھی جائے امان ڈھونڈتے، اپنے نظریات دوسروں پر ٹھونستے ہوئے، کفر کے فتوے صادر کرتے ہوئے اپنی جانیں دیتی رہیں گی اور دینا کی نفرت کا نشانہ بنتی رہیں گی، علامہ اقبال کے لفظوں میں،

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوٰی ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •