پاکستان کی قومی زبان اور علمی ادارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے پی ٹی وی پر دیکھتے آ رہے ہیں کہ کسی بھی قومی دن کے موقع پر قومی ٹی وی پر چاروں صوبوں کی ثقافت۔ زبان۔ لباس۔ خاص خاص رسوم و رواج اور روایتی پکوانوں کا تعارف و تذکرہ ہوتا اور یہ سب کچھ پاکستان کی قومی زبان اردو میں بہت ہی نفاست و فصاحت و بلاغت سے بیان کیا جاتا کہ ٹی وی کے ناظرین اور ریڈیو کے سامعین جھوم اٹھتے۔

یہ حقیقت ہے کہ زبان کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتی ہے۔ اور قوموں پر زبان کی حفاظت و آبیاری فرض ہے۔ قومیں اپنے تہذیبی و ثقافتی اثاثے اوردانشورانہ رویوں کی بنا پر ہی مہذب کہلاتی ہیں۔ ستر سال سے ملک کے حالات میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں اور بد قسمتی سے ملکی وسائل کا درست استعمال نہیں ہو سکا ہے جس کا اثر ملک کی مجموعی ثقافت پر ہوا ہے۔

پچھلے تین چار سال سے ہم عوام تبدیلی کی راگنی سن رہے تھے اور اس کے نتیجے میں عوامی سطح پر شعور بیدار ہوا، لیکن تبدیلی کی پہلی ضرب ہی علم و ادب پر لگائی گئی ہے۔ نصاب میں تبدیلیوں کے علاوہ قومی زبان جو کہ ہماری پہچان ہے اس کی ترویج و ترقی کرنے کی راہیں مسدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ادارہ فروغ قومی زبان۔

پہلے اس ادارے کا نام مقتدرہ قومی زبان رکھا گیا۔ (نیشنل لینگویج اتھارٹی) پھر تبدیل کر کے ادارہ فروغ قومی زبان رکھ دیا گیا۔ ادارے کا قیام اردو کو سرکاری اور تعلیمی سطح پر نافذ کرنے کے لئے عمل میں لایا گیا۔ تراجم، تحقیق، ادب اور شخصیات پر ان گنت کتابیں شائع کی ہیں۔ ادارہ ادب کے فروغ کے لئے سہ ماہی رسالہ بھی شائع کرتا ہے۔ اگر مالی اور انتظامی خود مختاری دی جائے تو مزید کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

اردو سائنس بورڈ

اردو سائنس بورڈ کے تحت سائنسی علوم، بائیلوجی (حیاتیات) کیمسٹری (کیمیا) فزکس (طبعیات) مائیکروبائیلوجی (خرد حیاتیات ) کاسمولوجی۔ بائیو کیمسٹری، ریاضی، سے متعلقہ کتب کے تراجم کیے گئے ہیں اور یہ کتب اسکول کالجز اور جامعات تک پہنچائی گیئں ہیں۔ اس ادارے نے طالب علموں کے لئے اردو میں ہر نئی سائنسی ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا ہے۔ پاکستان کے ہر استاد اور ہر طالب علم کے ہاتھ میں اردو سائنس بورڈ کا کام پہنچا ہے۔

بورڈ کے تحت سائنسی افسانہ۔ سائنسی کہانی متعارف کروائی گئی ہے، سائنس کے مضامین پر مبنی ایک سہ ماہی رسالہ شائع ہوتا ہے، جس میں مسلمان سائنس دانوں کے کارنامے۔ تازہ ترین سائنسی تحقیق اور نوبل انعام کس کو مل رہا ہے، کس علمی تحقیق پر مل رہا ہے، سائنس کی کون سی نئی جہت۔ نئی تحقیق پر کام ہو رہا ہے، رسالے کے ذریعے طلباء کو فورا معلومات بہم پہنچائی جاتی ہیں۔

ادرو میں دس جلدوں پر مشتمل اردو سائنس انسائیکلوپیڈیا اور جدید سائنس کی لغات کو ترتیب دیا گیا ہے۔

ہمارے ملک میں رائج انگلش میڈیم اور اردو میڈیم نظام بذات خود بہت ساری قباحتوں کا حامل ہے، جو طلباء اردو میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، کالج اور جامعات میں دوران تعلیم ان کے لئے انگلش سے اردو ترجمہ بہترین مددگار ثابت ہوتا ہے۔

اردو لغت بورڈ

اردو لغت بورڈ بابائے اردو مولوی عبدالحق کی سربراہی میں عمل میں آیا۔

ادارے نے اردو زبان کی سب سے بڑی لغت بہت محنت و عرق ریزی سے تیار کی ہے۔ بائیس جلدوں پر مشتمل اس لغت کو عام آدمی تک پہنچانے کے لئے ادارے کے سربراہ سر عقیل عباس جعفری صاحب نے لغت کو ڈیجیٹیلائزڈ بھی کروا دیا ہے۔ جو کہ دور جدید کے تقاضوں کے ہم آہنگ ہے اور اردو کے درست املا و تلفظ میں مددگار ہے۔

طالب علموں کے لئے درسی لغت بھی تیار کی گئی ہے جس میں پاکستان کے تمام سرکاری بورڈز کی کتب اور او لیولز اے لیولز کی کتب کے الفاظ جمع کیے گئے ہیں۔

اردو ادب کے کلاسیکی شعراء کرام کے کلام کی فرہنگیں بھی تیار کی گئی ہیں۔ ادارے کے تحت رسالہ ”اردو نامہ“ نکالا جاتا ہے، جو کہ ایک بہترین ادبی کاوش ہے۔

ادارے کی ساٹھ سالہ تاریخ اور مرزا غالب کی ڈیڑھ سو سالہ برسی کے موقع پر محکمہ ڈاک کی مدد سے یادگاری ٹکٹ جاری کیے گئے۔

ادارے کے تحت گوشہ تبادلہ کتب بنایا گیا ہے جو کہ کتب بینی اور علم کے شائقین کے لئے بہترین تحفہ ہے۔

ادارے میں معروف علمی و ادبی شخصیات کے ذاتی کتب خانے (جو انہوں نے خود ادارے کو تحفتا دیے ) ہیں الگ الگ گوشے بنا کر رکھے گئے ہیں۔ جن میں گوشہ جوش ملیح آبادی۔ گوشہ قدرت نقوی۔ گوشہ محسن بھوپالی شامل ہیں۔ محترمہ فہمیدہ ریاض کی کتب گوشہ فہمیدہ میں سجائی جائیں گی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ان تینوں اداروں کو ضم کیوں کرنا چاہتی ہے۔ جب کہ تینوں ادارے ہی ایک دوسرے سے مختلف علمی و ادبی امور سر انجام دیتے ہیں، کیا حکومتی بچت پالیسی صرف تعلیمی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کے لئے ہے، قومی زبان جو ہماری پہچان ہے، اور ہر پاکستانی اردو بولنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ ملک سے باہر ہر پاکستانی کے لئے باہمی رابطے کا ذریعہ ہے، حکومت کو اس کے فروغ اور ترقی و ترویج کے لئے کام کرنا چاہیے نہ کہ مقتدرہ اداروں کو ختم کرنے کی پالیسی بنانے لگے۔

حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ اداروں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اور فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

( اس مضمون کی تیاری میں محترم حافظ صفوان صاحب سے مدد لی گئی ہے، جو مقتدرہ قومی زبان اور اردو سائنس بورڈ کے مختلف پراجیکٹس کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ محترمہ شاہانہ جاوید صاحبہ نے اردو لغت بورڈ کے حوالے سے معلومات بہم پہنچائی ہیں، محترمہ شاہانہ صاحبہ نے اپنے والد ”محسن بھوپالی“ کا ذاتی کتب خانہ ادارے کو تحفتاً دیا ہے۔)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •